تجزیہ بی این پی
ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک مرتبہ پھر سیاسی منظرنامے پر نمایاں ہو گئی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس کو وفاق کی مضبوطی کا ذریعہ قرار دینا، جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے اٹھارہویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ پر زور دینا، اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ یہ معاملہ محض انتظامی حدود کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ اس کے سیاسی، آئینی، معاشی اور قومی یکجہتی سے متعلق وسیع تر اثرات ہیں۔ ایسے میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ اس حساس مسئلے کو سیاسی محاذ آرائی کا ذریعہ بنانے کے بجائے قومی مفاد، عوامی سہولت اور متوازن وفاقی ڈھانچے کے تناظر میں دیکھا جائے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس بحث میں ایک اہم نکتہ اٹھایا ہے کہ ملک کے عوام کو سرکاری سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے انتظامی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر نئے انتظامی یونٹ کے قیام کا آغاز اسلام آباد سے ہو تو اس سے ملک کے دیگر حصوں میں بھی انتظامی اصلاحات کے لیے ایک قابلِ عمل مثال سامنے آ سکتی ہے۔ ان کا یہ مؤقف بھی قابلِ غور ہے کہ دنیا کے متعدد ممالک میں دارالحکومت کے لیے الگ انتظامی نظام موجود ہے۔ تاہم کسی بھی ماڈل کو پاکستان میں نافذ کرنے سے پہلے اس کی آئینی، سیاسی، مالی اور انتظامی جہتوں کا گہرائی سے جائزہ لینا ناگزیر ہے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کی جانب سے اٹھارہویں ترمیم کے دفاع میں سامنے آنے والا مؤقف بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ اٹھارہویں ترمیم نے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے پاکستان کے وفاقی نظام میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کی۔ سندھ حکومت کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اسی تناظر میں وفاقی وزرا کے بعض بیانات پر شدید اعتراض کرتے ہوئے صوبائی خودمختاری اور اٹھارہویں ترمیم کے ثمرات کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے صحت، تعلیم، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت صوبائی اختیارات کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف درست ہے یا مسلم لیگ ن کا، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں ایسی کون سی اصلاحات ضروری ہیں جن سے عام شہری کو زیادہ بہتر حکمرانی، تیز انصاف، معیاری تعلیم، بہتر صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔ اگر نئے صوبے یا انتظامی یونٹس ان مقاصد کے حصول میں مددگار ثابت ہوتے ہیں تو ان پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے، لیکن اگر یہ عمل محض سیاسی مفادات، انتخابی مصلحتوں یا جماعتی صف بندی کا نتیجہ بن جائے تو اس سے قومی اتفاقِ رائے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت سیاسی استحکام اور معاشی تسلسل کی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران سیاسی کشمکش، حکومتوں کی تبدیلی، پالیسیوں کے عدم تسلسل اور ادارہ جاتی اختلافات نے معیشت کو بار بار دباؤ میں مبتلا کیا ہے۔ ملک بڑی مشکل سے معاشی استحکام کی طرف بڑھتا ہے اور پھر سیاسی محاذ آرائی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہونے لگتا ہے۔ ایسے حالات میں نئے صوبوں کا مسئلہ اگر ایک مرتبہ پھر شدید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر گیا تو اس کے اثرات صرف پارلیمان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ معیشت، سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور قومی اعتماد پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ مضبوط اور مستحکم حکومت ہی بڑے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے مؤثر پالیسی سازی کر سکتی ہے۔ معاشی اصلاحات کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی، مسلسل فیصلے اور پالیسیوں پر تسلسل ضروری ہوتا ہے۔ بجلی، گیس، ٹیکس، برآمدات، صنعتی پیداوار، روزگار، زراعت اور سرکاری اخراجات جیسے مسائل کسی ایک دن یا ایک حکومت کے چند اعلانات سے حل نہیں ہوتے۔ ان کے لیے کئی برسوں پر محیط پالیسی اور سیاسی استحکام درکار ہوتا ہے۔ اس لیے موجودہ سیاسی قیادت کی اولین ترجیح ایسی فضا قائم کرنا ہونی چاہیے جس میں سیاسی اختلاف اپنی جگہ موجود رہے مگر ریاستی معاملات متاثر نہ ہوں۔
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے رانا ثنا اللہ کا یہ مؤقف بھی اہم ہے کہ کسی وزیر کے بیان کی بنیاد پر عوامی ریفرنڈم نہیں ہو سکتا اور اس معاملے پر فیصلہ پارلیمان کے ذریعے آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ حقیقت یہی ہے کہ اتنے بڑے قومی مسئلے کا فیصلہ کسی فرد، وزیر یا سیاسی جماعت کے اکیلے مؤقف سے نہیں ہو سکتا۔ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانا ایک ایسا معاملہ ہے جس میں آئین، پارلیمان، متعلقہ صوبائی اسمبلیوں، مقامی آبادی اور قومی مفادات سب کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔
یہاں رانا ثنا اللہ کی اس بات کو بھی مثبت انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اصل بحث پارلیمان میں ہونی چاہیے۔ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے کا بہترین فورم پارلیمان ہی ہے۔ سیاسی رہنما میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کے بجائے اگر پارلیمانی کمیٹیوں، ایوانوں اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کریں تو نہ صرف بحث زیادہ سنجیدہ ہوگی بلکہ عوام کے سامنے بھی حقائق بہتر انداز میں آ سکیں گے۔
پنجاب اسمبلی کی سابقہ قراردادوں کے غیر مؤثر ہونے اور نئے سرے سے پارلیمانی کارروائی کی ضرورت کا معاملہ بھی اسی اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ قومی نوعیت کے کسی بھی فیصلے کو ماضی کی سیاسی قراردادوں یا بیانات کے بجائے موجودہ حالات، آبادی، وسائل، انتظامی ضروریات اور عوامی خواہشات کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ وقت کے ساتھ آبادی، شہروں، معیشت اور بنیادی سہولیات کی ضروریات تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ لہٰذا انتظامی ڈھانچے کا جائزہ لینا کوئی غیر معمولی بات نہیں، لیکن اس عمل کو شفاف اور آئینی ہونا چاہیے۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان پیدا ہونے والی لفظی کشیدگی قابلِ افسوس ہے۔ شرجیل انعام میمن کی جانب سے بعض وفاقی وزرا کو ”فارم 47 کی پیداوار” قرار دینا سیاسی بیان بازی کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن قومی معاملات میں ایسی زبان مسئلے کے حل میں مدد نہیں دیتی۔ اسی طرح وفاقی وزرا کو بھی صوبائی حکومتوں یا سیاسی جماعتوں کے بارے میں ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو پہلے سے موجود سیاسی فاصلے کو مزید بڑھائیں۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن شخصیات پر حملے اور ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو مسلسل متنازع بنانا ریاستی اداروں اور عوام کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
شرجیل میمن نے اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے سندھ میں توانائی، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی جو مثالیں پیش کی ہیں، ان کا جائزہ اعداد و شمار اور غیر جانب دارانہ طریقے سے لیا جانا چاہیے۔ اسی طرح اگر وفاقی حکومت کو اٹھارہویں ترمیم یا صوبائی اختیارات کے موجودہ نظام میں کوئی انتظامی دشواری محسوس ہوتی ہے تو اسے بھی پارلیمان میں آئینی اور قانونی بنیادوں پر پیش کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی ترمیم یا آئینی بندوبست کو محض سیاسی نعروں کے ذریعے ختم یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
اس بحث میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے وسائل محدود ہیں۔ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بننے کی صورت میں نئی اسمبلیاں، سیکریٹریٹ، محکمے، انتظامی ڈھانچے اور دیگر ادارے قائم کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام قومی خزانے پر کتنا بوجھ ڈالے گا اور اس کے مقابلے میں عوام کو کیا عملی فائدہ حاصل ہوگا۔ اگر انتظامی اخراجات بڑھ جائیں مگر عوامی خدمات بہتر نہ ہوں تو محض نقشے پر نئی حد بندی مسئلے کا حل نہیں بن سکتی۔
اس کے برعکس اگر انتظامی یونٹس کا قیام اختیارات کو عوام کے قریب لانے، فیصلہ سازی کو تیز کرنے، وسائل کی منصفانہ تقسیم، پسماندہ علاقوں کی ترقی اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی مفاد اور قومی مفاد کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ کسی علاقے کو انتظامی سہولت دینا قومی یکجہتی کے خلاف نہیں بلکہ درست منصوبہ بندی کے ساتھ قومی اتحاد کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق نئے صوبوں کی بحث کو ”کون جیتا اور کون ہارا” کے سیاسی پیمانے سے دیکھنا مناسب نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اس بحث کے نتیجے میں پاکستان کا وفاق زیادہ مؤثر، صوبے زیادہ بااختیار، مقامی حکومتیں زیادہ فعال اور شہری زیادہ مطمئن ہوں۔ وفاق اور صوبوں کو ایک دوسرے کے مقابل فریق سمجھنے کے بجائے ایک ہی ریاستی نظام کے مختلف حصوں کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ وفاق مضبوط ہوگا تو صوبے بھی مضبوط ہوں گے اور صوبے مستحکم ہوں گے تو وفاقی نظام بھی زیادہ پائیدار ہوگا۔
پاکستان کو اس وقت سیاسی تصادم سے زیادہ سیاسی مکالمے کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت تمام جماعتیں اگر اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ پارلیمان میں بیٹھیں، ماہرینِ آئین، انتظامیہ، معیشت اور مقامی حکومتوں کو مشاورت میں شامل کریں اور عوامی مفاد کو مقدم رکھیں تو ایک قابلِ قبول راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ اس مسئلے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا آسان نہیں ہوگا، مگر ناممکن بھی نہیں۔ملک کے معاشی حالات ابھی ایسے نہیں کہ سیاسی محاذ آرائی کا ایک اور طویل دور برداشت کر سکیں۔ سرمایہ کاری، روزگار، برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے سیاسی استحکام بنیادی شرط ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں ہر قومی مسئلے کو باہمی تصادم کا عنوان بنا دیں گی تو اس کا نقصان بالآخر عوام کو ہوگا۔ اس لیے مضبوط حکومت، مستحکم سیاسی نظام اور مسلسل معاشی پالیسی پاکستان کی بنیادی ضرورت ہیں۔نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے میں بھی یہی اصول کارفرما ہونا چاہیے۔ فیصلہ جلد بازی میں نہیں بلکہ تحقیق، اعداد و شمار، آئینی تقاضوں اور عوامی مشاورت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ کسی صوبے کے حقوق متاثر کیے بغیر، کسی علاقے کو محروم کیے بغیر اور کسی سیاسی جماعت کے مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دیے بغیر اگر کوئی نیا انتظامی ماڈل تشکیل پاتا ہے تو وہ پاکستان کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔
آخرکار پاکستان کا اصل مسئلہ نقشے پر صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ حکمرانی کا معیار ہے۔ اگر موجودہ صوبائی نظام میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوتے، بلدیاتی ادارے مؤثر نہیں بنتے، تعلیم و صحت کی سہولیات بہتر نہیں ہوتیں اور نوجوانوں کو روزگار نہیں ملتا تو نئی انتظامی حد بندی بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے گی۔ اس کے برعکس اگر وفاق، صوبے اور مقامی حکومتیں اپنے اپنے آئینی دائرے میں مؤثر انداز سے کام کریں تو موجودہ نظام میں بھی بہتری کی وسیع گنجائش موجود ہے۔لہٰذا نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث کو سیاسی جنگ بنانے کے بجائے قومی اصلاحات کا موقع سمجھنا چاہیے۔ اختلافِ رائے رہے، مگر دشمنی نہ ہو؛ سیاسی مقابلہ ہو، مگر ریاستی مفاد مقدم رہے؛ پارلیمانی بحث ہو، مگر الزام تراشی سے گریز کیا جائے۔ یہی طرزِ عمل پاکستان کو سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور مضبوط وفاق کی طرف لے جا سکتا ہے۔ قومی مسائل کا حل کسی ایک جماعت، ایک وزیر یا ایک بیان میں نہیں بلکہ اجتماعی دانش، پارلیمانی اتفاقِ رائے اور مسلسل سیاسی عزم میں پوشیدہ ہے۔