تجزیہ: راجہ محمد الیاس کیانی
پاکستان ایک وفاقی ملک ہے اور اس وفاق کی بنیادی اکائیاں چاروں صوبے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث وقتاً فوقتاً زور پکڑتی رہی ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نئے صوبے بننے سے انتظامی مسائل کم ہوں گے، پسماندہ علاقوں کو زیادہ وسائل ملیں گے اور عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔ یہ بحث اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا عام شہری کے بنیادی مسائل واقعی نئے صوبے بنانے سے حل ہو جائیں گے؟ کیا ایک نئی انتظامی لکیر کھینچ دینے سے گلی کی ٹوٹی سڑک، گندا نالہ، صفائی، پینے کے پانی، سیوریج، اسٹریٹ لائٹس، پارک، تجاوزات اور دیگر روزمرہ کے مسائل ختم ہو جائیں گے؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔
عوام کا اصل مسئلہ نئے صوبے نہیں بلکہ ان کے مسائل کا بروقت اور ان کی دہلیز پر حل ہے۔ عام آدمی کو اس بات سے زیادہ غرض نہیں کہ اس کا علاقہ کس صوبے کا حصہ ہے۔ اسے اس وقت فکر ہوتی ہے جب اس کے گھر کے سامنے کئی ماہ سے گندا پانی کھڑا ہو، محلے کی گلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو، کوڑا اٹھانے والا کوئی نہ ہو، پینے کا پانی میسر نہ ہو یا معمولی سے کام کے لیے اسے سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنی توجہ صوبوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے پر مرکوز کرنی چاہیے۔
پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ صوبے کم ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اختیارات عوام کے قریب نہیں۔ وفاق کے بعد صوبے، صوبوں کے بعد ڈویڑن اور اضلاع کی سطح پر ایک وسیع انتظامی ڈھانچہ موجود ہے، لیکن عام شہری اور اس کے روزمرہ کے مسائل کے درمیان جو سب سے اہم ادارہ ہونا چاہیے، یعنی بلدیاتی حکومت، وہ اکثر کمزور، بے اختیار اور وسائل سے محروم دکھائی دیتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گلی محلے کا کام بھی قومی یا صوبائی نمائندوں کی طرف دیکھا جاتا ہے۔
یہ صورتحال ہمارے سیاسی نظام کے بنیادی تصور کے بھی خلاف ہے۔ قومی اسمبلی کے رکن کا کام ملک کے لیے قانون سازی کرنا ہے، قومی پالیسیوں پر بحث کرنا ہے اور وفاقی سطح پر عوام کی نمائندگی کرنا ہے۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کے رکن کی بنیادی ذمہ داری صوبائی قانون سازی، پالیسی سازی اور صوبے کے بڑے معاملات پر توجہ دینا ہے۔ لیکن جب ایک رکن قومی یا صوبائی اسمبلی کو اپنے حلقے کی گلی، نالی، سڑک، پانی اور صفائی جیسے کاموں میں بھی الجھنا پڑے تو قانون سازی اور پالیسی سازی متاثر ہوتی ہے۔
یہی کام بلدیاتی اداروں کے سپرد ہونا چاہیے۔ میئر، چیئرمین، کونسلر اور مقامی حکومت کے دوسرے منتخب نمائندے اپنے علاقے کے لوگوں کے سامنے براہِ راست جواب دہ ہوں۔ شہری کو اگر گلی میں صفائی کا مسئلہ ہو تو وہ اپنے مقامی نمائندے سے رابطہ کرے، سڑک خراب ہو تو بلدیاتی ادارہ اسے درست کرے، پانی کا مسئلہ ہو تو مقامی حکومت ذمہ دار ہو، سیوریج بند ہو تو متعلقہ بلدیاتی محکمہ فوری کارروائی کرے، پارک خراب ہو تو اس کی دیکھ بھال مقامی حکومت کرے۔ اس طرح ایک عام شہری کو اپنے معمولی مسئلے کے لیے قومی یا صوبائی سطح کے نمائندے کے دروازے پر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
سوال یہ ہے کہ ایسا مضبوط بلدیاتی نظام رائج کیسے کیا جائے؟ اس کا حل بھی مشکل نہیں، اگر سیاسی عزم موجود ہو۔ سب سے پہلے ملک میں بلدیاتی انتخابات باقاعدگی سے کرانا ہوں گے اور ان کے لیے ایسا آئینی و قانونی تحفظ ضروری ہے کہ مقامی حکومتیں محض سیاسی ضرورت کے مطابق ختم یا معطل نہ کی جا سکیں۔ بلدیاتی اداروں کی مدت مقرر ہو اور انتخابات مقررہ وقت پر لازمی ہوں۔
دوسرا اور سب سے اہم قدم یہ ہے کہ اختیارات کے ساتھ وسائل بھی منتقل کیے جائیں۔ صرف میئر، چیئرمین اور کونسلر منتخب کر دینے سے بلدیاتی نظام مضبوط نہیں ہوگا۔ مقامی حکومتوں کو باقاعدہ ترقیاتی بجٹ، اپنے محکمے، ضروری عملہ، مشینری اور آمدنی کے مناسب ذرائع فراہم کرنا ہوں گے۔ جو کام بلدیاتی اداروں کے دائرہ اختیار میں ہیں، ان کے لیے فنڈز بھی براہِ راست انہی اداروں کو ملنے چاہئیں۔
تیسرا قدم یہ ہونا چاہیے کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کے اختیارات اپنے پاس رکھنے کے بجائے انہیں حقیقی معنوں میں منتقل کریں۔ دنیا کے کامیاب جمہوری نظاموں میں مقامی حکومتیں شہری زندگی کے بنیادی معاملات چلاتی ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسا نظام قائم کیا جا سکتا ہے جس میں صوبائی حکومت پالیسی، قانون اور نگرانی کرے جبکہ مقامی حکومتیں عملی طور پر شہری سہولیات فراہم کریں۔
چوتھا اہم پہلو شفافیت اور احتساب ہے۔ اگر بلدیاتی اداروں کو اربوں روپے کے ترقیاتی اختیارات دیے جائیں تو عوام کو یہ جاننے کا حق بھی ہونا چاہیے کہ ان کے علاقے کے لیے کتنا بجٹ آیا، کہاں خرچ ہوا اور کون سا منصوبہ مکمل ہوا۔ ہر مقامی حکومت کی آمدن، اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات عوام کے لیے آن لائن دستیاب ہونی چاہئیں۔ اس سے کرپشن کے امکانات کم ہوں گے اور عوام اپنے منتخب نمائندوں سے براہِ راست سوال بھی کر سکیں گے۔
پانچواں اہم قدم یہ ہے کہ شہریوں کو بھی بلدیاتی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ ہر یونین کونسل، ٹاؤن اور میونسپل سطح پر عوامی اجلاس ہوں، جن میں علاقے کے مسائل اور ترقیاتی ترجیحات طے کی جائیں۔ جس علاقے میں پانی کا مسئلہ سب سے بڑا ہے، وہاں پہلے پانی کا منصوبہ آئے؛ جہاں سیوریج خراب ہے، وہاں سیوریج درست ہو؛ جہاں سڑکیں اور گلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں، وہاں ان کی تعمیر و مرمت کو ترجیح دی جائے۔ ترقیاتی منصوبے عوام کی حقیقی ضرورت کے مطابق بننے چاہئیں، نہ کہ سیاسی پسند و ناپسند کی بنیاد پر۔
اگر یہ نظام قائم کر دیا جائے تو اس کے فوائد صرف شہری مسائل کے حل تک محدود نہیں رہیں گے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین بھی اپنی اصل ذمہ داریوں پر توجہ دے سکیں گے۔ پارلیمنٹ میں بہتر قانون سازی ہوگی، صوبائی اسمبلیاں بہتر پالیسی بنائیں گی اور مقامی حکومتیں عوام کے روزمرہ مسائل حل کریں گی۔ یوں ریاستی نظام کے تینوں درجے اپنے اپنے کام بہتر طریقے سے انجام دے سکیں گے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے بڑے ملک میں انتظامی ضروریات پر بحث ہونی چاہیے اور جہاں مستقبل میں حقیقی انتظامی ضرورت ثابت ہو وہاں نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، لیکن محض نئے صوبے بنانے کو عوامی مسائل کا فوری اور بنیادی حل سمجھنا درست نہیں۔ اگر مقامی حکومت کمزور رہے گی تو نیا صوبہ بھی عام شہری کے لیے وہی مشکلات لے کر آئے گا جو اسے آج درپیش ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوام کو نئے نقشے نہیں، بہتر نظام چاہیے۔ انہیں نئی سرحدیں نہیں بلکہ صاف گلیاں، بہتر سڑکیں، صاف پانی، مؤثر سیوریج، اچھی صفائی، مناسب ٹرانسپورٹ، بہتر پارکس اور فوری سرکاری سہولت چاہیے۔ یہ وہ کام ہیں جو مضبوط بلدیاتی ادارے زیادہ بہتر طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔پاکستان کے چاروں صوبے وفاق کی اہم اکائیاں ہیں اور قومی اتحاد و یکجہتی کے لیے ان کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ نئے صوبوں کی بحث کو سیاسی نعروں کے بجائے انتظامی ضرورت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے، لیکن اس وقت سب سے فوری ضرورت یہ ہے کہ موجودہ نظام کے اندر اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے۔
حقیقی جمہوریت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کے ثمرات عام شہری کی دہلیز تک پہنچیں۔ اگر ایک شہری اپنے محلے کے مسئلے کے لیے اپنے منتخب مقامی نمائندے سے رابطہ کر سکے، اگر وہ نمائندہ مناسب بجٹ کے ساتھ مسئلہ حل کر سکے اور اگر ناکامی کی صورت میں عوام اسے اگلے انتخابات میں جواب دہ بنا سکیں تو یہی جمہوریت کا حقیقی چہرہ ہوگا۔آخرکار ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری ترجیح کیا ہے: نئے صوبوں کی بحث یا عوامی مسائل کا فوری حل؟ اگر مقصد واقعی عوام کی خدمت ہے تو راستہ واضح ہے۔ بلدیاتی انتخابات باقاعدگی سے ہوں، بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ دیا جائے، اختیارات اور ترقیاتی فنڈز نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں، مقامی نمائندوں کو انتظامی اختیار دیا جائے اور انہیں براہِ راست عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے۔
عوام کو صوبوں کی تعداد سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ حکومت ان کے دروازے تک پہنچے۔ اور حکومت کو عوام کے دروازے تک پہنچانے کا سب سے مؤثر راستہ مضبوط، بااختیار اور خودمختار بلدیاتی نظام ہے۔ یہی وہ نظام ہے جو پاکستان کے عام شہری کو یہ احساس دلا سکتا ہے کہ ریاست صرف اسلام آباد، لاہور، کراچی یا پشاور کے بڑے ایوانوں میں نہیں بلکہ اس کی اپنی گلی، محلے اور شہر میں بھی موجود ہے۔عوام کو نئے صوبوں سے پہلے ایک ایسا نظام چاہیے جو ان کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرے۔ یہی مضبوط بلدیاتی نظام کا اصل مقصد اور پاکستان کے بہتر مستقبل کی ایک اہم بنیاد ہے۔