بلوچستان میں غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں تیز، کوئٹہ اور قلعہ سیف اللہ میں بڑے پیمانے پر آپریشن

بلوچستان میں غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں تیز، کوئٹہ اور قلعہ سیف اللہ میں بڑے پیمانے پر آپریشن 0

کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )بلوچستان کے مختلف اضلاع میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ ایک بار پھر تیز کر دیا گیا ہے۔

پولیس اور متعلقہ اداروں نے کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ اور دیگر علاقوں میں سرچ اور ویریفکیشن آپریشنز کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ ان کی شہریت اور قانونی دستاویزات کی جانچ پڑتال کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

سٹی تھانہ قلعہ سیف اللہ کی جانب سے شہر میں افغان باشندوں کے خلاف خصوصی آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی نشاندہی اور امیگریشن قوانین پر مثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔

دوسری جانب صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائیاں کی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھوسہ منڈی، سریاب روڈ، موسی کالونی، سبزل روڈ، قمبرانی روڈ اور ملحقہ آبادیوں میں سرچ آپریشنز کے دوران تقریبا 150 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کے کوائف، رہائشی حیثیت اور سفری دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔

جن افراد کے پاس قانونی دستاویزات موجود ہوں گی انہیں ضابطے کے مطابق چھوڑ دیا جائے گا، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف امیگریشن اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

حالیہ کارروائیوں کے دوران مختلف رہائشی علاقوں، کرائے کے مکانات، ہوٹلوں اور بعض تجارتی مراکز کی بھی تلاشی لی گئی اور شہریوں سے شناختی دستاویزات طلب کی گئیں۔

پولیس کا مقف ہے کہ یہ کارروائیاں کسی خاص طبقے کے خلاف نہیں بلکہ حکومتی پالیسی اور ملکی قوانین کے تحت کی جا رہی ہیں۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ آپریشنز کے دوران تمام کارروائیاں مروجہ قوانین اور ضابطوں کے مطابق کی جا رہی ہیں اور حراست میں لیے گئے افراد کے کیسز کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔

بلوچستان میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی نشاندہی کی مہم آئندہ دنوں میں مزید تیز ہونے کا امکان ہے اور پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں