ہلمند،کوئٹہ(سٹاف رپورٹڑ )افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا ایک اہم اور سینئر عسکریت پسند کمانڈر محی الدین بلوچ مبینہ طور پر ہلاک ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سرحد پار موجود عسکریت پسند نیٹ ورکس اور ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے خطے میں اہم پیش رفت جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محی الدین بلوچ کو کالعدم تنظیم کے انتہائی اہم کمانڈروں میں شمار کیا جاتا تھا اور وہ مختلف سطحوں پر تنظیمی و عسکری معاملات میں سرگرم کردار ادا کر رہا تھا۔
اطلاعات کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے اسے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ہلمند کے ایک علاقے میں موجود تھا۔
فائرنگ کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا، تاہم واقعے کی نوعیت، حملہ آوروں کی شناخت اور دیگر تفصیلات کے حوالے سے تاحال کوئی سرکاری مقف سامنے نہیں آیا ہے۔
.
سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اس واقعے کو افغانستان میں موجود کالعدم بی ایل اے کی قیادت اور بلوچستان میں سرگرم اس کے نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا اور کاری دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
بعض مبصرین کے مطابق اس نوعیت کے واقعات نہ صرف تنظیمی ڈھانچے کو شدید متاثر کرتے ہیں بلکہ مختلف گروہوں کے درمیان اندرونی اختلافات، رقابتوں اور دیگر عوامل سے متعلق قیاس آرائیوں کو بھی جنم دیتے ہیں۔
تاحال کسی گروپ یا تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، جبکہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔






