کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )بلوچستان کے صوبائی بجٹ اجلاس کے موقع پر تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے لیے احتجاج کرنے والے بلوچستان بحث گرینڈ الائنس کے سرکاری ملازمین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے شدید لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، صوبائی ملازمین نے بجٹ کے موقع پر اسمبلی کا گھیرا اور دھرنے کا اعلان کر رکھا تھا، جس کے لیے بڑی تعداد میں ملازمین چمن پھاٹک اور بے نظیر فلائی اوور کے قریب جمع ہوئے۔
اس موقع پر امن و امان برقرار رکھنے اور مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے آنسو گیس کے متعدد شیل فائر کیے اور لاٹھی چارج کیا، جس کے باعث علاقہ میدانِ جنگ بن گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، صوبائی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باعث پولیس نے قانون ہاتھ میں لینے والے متعدد مظاہرین کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا۔
کارروائی کے دوران بلوچستان گرینڈ الائنس کے کنونیئر پروفیسر قدوس کاکڑ سمیت درجنوں احتجاجی ملازمین کو گرفتار کر کے مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، گرینڈ الائنس کے رہنماں کا مقف ہے کہ وہ اپنی جائز مانگوں یعنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے، تاہم پولیس کی جانب سے طاقت کا بے جا استعمال افسوسناک ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کی موجودگی میں کسی کو بھی ریڈ زون کی طرف بڑھنے یا قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور شہر کے حساس مقامات پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔






