تجزیہ بی این پی
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششیں پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کے قومی عزم کی عکاس ہیں۔ اسلام آباد میں نیشنل ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح، اسے دانش آئی ٹی پارک کا نام دینے کا اعلان اور نوجوان نسل کو جدید علوم و فنون سے آراستہ کرنے کا وڑن اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت پاکستان کے مستقبل کو جدید ٹیکنالوجی، علم، تحقیق، اختراع اور ہنرمندی سے وابستہ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ محض ایک جدید عمارت کی تعمیر نہیں بلکہ ایک ایسے علمی، فنی اور کاروباری ماحول کی تشکیل کی جانب اہم پیش رفت ہے جہاں نوجوان اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔ وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی اور مسلسل توجہ اس امید کو تقویت دیتی ہے کہ پاکستان کی نوجوان آبادی کو درست سمت، جدید تربیت اور مناسب مواقع فراہم کرکے ملک کی معاشی و سماجی ترقی کی رفتار تیز کی جا سکتی ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق، موجودہ دور میں کسی ملک کی ترقی کا تعین صرف اس کے قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت یا صنعتی پیداوار سے نہیں ہوتا بلکہ اس کی اصل قوت جدید علم، ٹیکنالوجی کو اپنانے کی صلاحیت، تحقیق و ترقی اور ہنرمند انسانی وسائل میں پوشیدہ ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں اور ڈیجیٹل کاروبار کے ذریعے ترقی کے نئے راستے کھولے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنے نوجوانوں کو ایسے علوم اور مہارتوں سے آراستہ کرے جو انہیں مقامی ہی نہیں بلکہ عالمی منڈی میں بھی باعزت روزگار حاصل کرنے کے قابل بنائیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اسلام آباد آئی ٹی پارک کو دانش آئی ٹی پارک کا نام دینا اسی وسیع تر سوچ کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں تعلیم، ہنرمندی اور معاشی خودمختاری کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
دانش آئی ٹی پارک کا قیام پاکستان کے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس منصوبے کی بنیادی اہمیت یہ ہے کہ یہاں نوجوانوں، نئے کاروباری افراد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں، اختراع کاروں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو ایک ایسا پلیٹ فارم میسر آئے گا جہاں وہ اپنے خیالات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کر سکیں گے۔ جدید انکیوبیشن مراکز، تربیتی سہولتوں، تحقیق، اختراع اور کاروباری رہنمائی کے ذریعے نئے کاروباروں کو فروغ دینے کے امکانات پیدا ہوں گے۔ اس طرح نوجوانوں کو محض ملازمت تلاش کرنے والوں کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے کاروباری افراد بننے کا موقع مل سکتا ہے۔
وزیراعظم نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ دانش آئی ٹی پارک سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نوجوان مرد و خواتین مستفید ہوں گے۔ یہ بات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اگر اس آبادی کو جدید تعلیم، عملی تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور کاروباری مواقع سے آراستہ کر دیا جائے تو یہی نوجوان ملک کی سب سے بڑی معاشی قوت بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب، اگر انہیں مناسب مواقع نہ ملیں تو بے روزگاری اور صلاحیتوں کا ضیاع قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اس لیے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا صرف تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ ایک اہم معاشی اور قومی ترجیح بھی ہے۔
دانش آئی ٹی پارک کے قیام کے حوالے سے وزیراعظم کی دلچسپی کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے اس منصوبے کو محض افتتاحی تقریب تک محدود رکھنے کے بجائے اس کی تکمیل اور فعالیت کے لیے ذاتی توجہ دی۔ ان کے مطابق، منصوبے کا سنگ بنیاد 2017ـ18ء میں رکھا گیا تھا، تاہم اسے مکمل ہونے میں طویل عرصہ لگا۔ وزیراعظم نے اس تاخیر پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے کے بجائے منصوبے کی تکمیل میں حصہ لینے والے متعلقہ اداروں اور افراد کی کوششوں کو سراہنے کو ترجیح دی۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ قومی ترقی کے منصوبوں میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر تسلسل، ادارہ جاتی تعاون اور نتیجہ خیز کارکردگی کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ابتدا میں اس منصوبے کو ناقابلِ عمل قرار دیا گیا تھا، لیکن ٹیم ورک اور مسلسل محنت کے ذریعے اسے تکمیل تک پہنچایا گیا۔ ان کا یہ مؤقف بھی قابلِ توجہ ہے کہ وہ اس منصوبے کے حوالے سے متعدد اجلاسوں کی صدارت کرتے رہے اور ایک سے زیادہ مرتبہ موقع پر جا کر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ایسے منصوبوں میں قیادت کی دلچسپی اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اس کے نتیجے میں متعلقہ اداروں کی کارکردگی بہتر ہو، فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر ختم ہو اور عوام کو منصوبوں کے فوائد جلد میسر آئیں۔ دانش آئی ٹی پارک کی کامیابی کا اصل امتحان اب اس بات میں ہوگا کہ اسے جدید تقاضوں کے مطابق کس قدر مؤثر انداز میں چلایا جاتا ہے اور نوجوانوں کو اس سے حقیقی طور پر کتنے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔
اس ضمن میں حکومت کی جانب سے ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو شفاف طریقہ کار کے تحت مدعو کرنے اور بہترین خدمات فراہم کرنے والے ادارے کے سپرد انتظامات کرنے کا فیصلہ بھی اہم ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے مراکز کو کامیاب بنانے کے لیے صرف عمارت اور آلات کافی نہیں ہوتے بلکہ ان کے انتظام، تربیت، تحقیق، کاروباری معاونت اور عالمی اداروں سے روابط کے لیے پیشہ ورانہ مہارت درکار ہوتی ہے۔ اگر دانش آئی ٹی پارک کو بین الاقوامی معیار کے مطابق چلایا گیا تو یہاں پاکستانی نوجوان جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عملی منصوبوں پر کام کرنے، کاروباری روابط قائم کرنے اور عالمی سطح کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے قابل بھی ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق، دانش آئی ٹی پارک کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ یہاں مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت کو عملی ضروریات سے منسلک کیا جائے۔ محض روایتی کلاس روم تعلیم یا مختصر تربیتی کورسز نوجوانوں کو جدید عالمی معیشت میں مسابقت کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں کر سکتے۔ پروگرامنگ، سافٹ ویئر کی تیاری، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، روبوٹکس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں معیاری تربیت کے ساتھ عملی تجربہ بھی ضروری ہے۔ جامعات، صنعتی اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور تربیتی مراکز کے درمیان اشتراک کے ذریعے ایسا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو نوجوانوں کو تعلیم کے بعد روزگار کے حصول اور اپنے کاروبار کے آغاز میں مدد فراہم کرے۔مصنوعی ذہانت کا دائرہ کار اب صرف کمپیوٹر اور سافٹ ویئر تک محدود نہیں رہا۔ زراعت، صنعت، معدنیات، مینوفیکچرنگ، صحت، تعلیم اور سرکاری خدمات سمیت زندگی کے تقریباً تمام اہم شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اسے پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، کم پیداوار، وسائل کے غیر مؤثر استعمال اور منڈیوں تک رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ جدید ڈیجیٹل نظاموں اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے فصلوں کی نگرانی، پانی کے بہتر استعمال، بیماریوں کی بروقت شناخت اور زرعی پیداوار کی منصوبہ بندی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح صنعتوں میں خودکار نظام، بہتر معیار اور پیداواری لاگت میں کمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
اس تناظر میں دانش آئی ٹی پارک کو ایک ایسے مرکز کے طور پر ترقی دینے کی ضرورت ہے جو مختلف شعبوں کے مسائل کے لیے مقامی سطح پر ٹیکنالوجی پر مبنی حل تلاش کرے۔ اگر نوجوانوں کو حقیقی صنعتی، زرعی اور سماجی مسائل پر کام کرنے کے مواقع ملیں تو ان کی تربیت زیادہ نتیجہ خیز ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری اور اختراع کا رجحان بھی فروغ پا سکتا ہے۔ اس طرح ملک کو ہر نئی ٹیکنالوجی کے لیے بیرونی ذرائع پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتیں پیدا کرنے کا موقع ملے گا۔
دانش آئی ٹی پارک کے نام میں دانش اسکولوں کے تجربے کی جھلک بھی نمایاں ہے۔ دانش اسکولوں کا بنیادی تصور ایسے بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے جو معاشی مشکلات کے باعث بہتر تعلیمی سہولتوں سے محروم رہ سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے دانش اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان میں سے متعدد ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان اور اساتذہ بن چکے ہیں، جبکہ بعض اعلیٰ تعلیم کے لیے دنیا کی جامعات تک پہنچے ہیں۔ یہ مثال واضح کرتی ہے کہ اگر باصلاحیت نوجوانوں کو مناسب مواقع، تربیت اور معاون ماحول فراہم کیا جائے تو وہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ معاشرے کی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔اسی تصور کو جدید ٹیکنالوجی کے شعبے تک وسعت دینا ایک قابلِ تحسین قدم ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقوں، چھوٹے شہروں اور کم آمدنی والے خاندانوں کے نوجوانوں میں بھی غیر معمولی صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن انہیں اکثر جدید کمپیوٹر، تیز رفتار انٹرنیٹ، معیاری تربیت اور پیشہ ورانہ رہنمائی میسر نہیں ہوتی۔ اگر دانش آئی ٹی پارک اور مستقبل میں قائم ہونے والے ایسے مراکز میں ان نوجوانوں کی رسائی یقینی بنائی جائے تو ٹیکنالوجی کے فوائد بڑے شہروں اور مخصوص طبقوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ میرٹ کی بنیاد پر داخلے، وظائف، آن لائن تربیت اور علاقائی مراکز کے قیام سے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اس قومی منصوبے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے اس منصوبے کو ملک کے چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان تک وسعت دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ سوچ اس لیے اہم ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی کے ثمرات تمام علاقوں تک پہنچنا ضروری ہیں۔ اگر ٹیکنالوجی کے مراکز صرف اسلام آباد، لاہور یا کراچی جیسے بڑے شہروں تک محدود رہیں تو علاقائی تفاوت برقرار رہ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، صوبائی دارالحکومتوں، جامعات اور بڑے ضلعی مراکز میں ٹیکنالوجی کے تربیتی اداروں اور کاروباری معاونت کے نیٹ ورک کی تشکیل سے نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں رہتے ہوئے ترقی کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ اس عمل سے روزگار کی تلاش میں بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی کے دباؤ میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔پاکستان کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ برآمدات بڑھانے اور زرمبادلہ حاصل کرنے کا بھی ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ پاکستانی فری لانسرز، سافٹ ویئر انجینئرز اور آئی ٹی کمپنیاں پہلے ہی عالمی منڈی میں خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں بہتر تربیت، مستحکم انٹرنیٹ، ادائیگیوں کے قابلِ اعتماد ذرائع، کاروباری رہنمائی اور بین الاقوامی کمپنیوں تک رسائی فراہم کی جائے۔ دانش آئی ٹی پارک اس سلسلے میں ایک رابطہ مرکز بن سکتا ہے، جہاں نوجوانوں کے خیالات کو قابلِ عمل کاروبار میں تبدیل کرنے کے لیے رہنمائی اور سہولتیں دستیاب ہوں۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، کاروبار میں آسانی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہوگی۔وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ہوائی اڈوں پر مسافروں کے سامان کی جانچ کے لیے جدید اسمارٹ اسکینرز نصب کرنے کی ہدایت بھی اس وسیع تر تصور سے مطابقت رکھتی ہے جس میں ٹیکنالوجی کو شہری سہولت، انتظامی بہتری اور شفافیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے فرسودہ طریقہ کار ترک کرنے، مسافروں کو غیر ضروری پوچھ گچھ سے بچانے اور بین الاقوامی معیار کے خودکار نظام متعارف کرانے پر زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ متعلقہ عملے کی تربیت میں شائستگی اور انسانی احترام کو بنیادی اہمیت دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا اصل فائدہ اسی وقت سامنے آتا ہے جب اس سے سرکاری خدمات تیز، آسان، قابلِ اعتماد اور عام شہری کے لیے باوقار بنائی جائیں۔
کسٹمز کے نظام میں ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام، اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں اور محصولات کی چوری روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کو حکومتی انتظامی ڈھانچے کی بہتری کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ تاہم جدید نظاموں کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری ہے کہ قانون کے نفاذ، کاروباری سہولت اور شہری حقوق کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھا جائے۔ ٹیکنالوجی کا مقصد جائز کاروبار کے لیے رکاوٹیں پیدا کرنا نہیں بلکہ بدعنوانی، اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ساتھ شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان تعاون بھی دانش آئی ٹی پارک کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ جنوبی کوریا نے جدید صنعت، الیکٹرانکس، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں ترقی کی ہے۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اس منصوبے میں جنوبی کوریا کے تعاون کو سراہا اور اس کی دیکھ بھال کے عزم کا اظہار کیا۔ پاکستان کو اس شراکت داری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹیکنالوجی کی منتقلی، ماہرین کی تربیت، جامعات کے درمیان روابط اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو فروغ دینا چاہیے۔ اس طرح دوطرفہ تعاون محض سفارتی تعلقات تک محدود رہنے کے بجائے نوجوانوں کے لیے عملی مواقع اور ملکی معیشت کے لیے دیرپا فوائد پیدا کر سکتا ہے۔آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے ساتھ وزیراعظم کی گفتگو میں بھی دوطرفہ تعلقات کو اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کی مضبوط شراکت داری میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اسلام آباد میں آذربائیجان کے آسان خدمت نظام کی طرز پر قائم مرکز کی پیش رفت اور پاکستان بھر میں ایسے مراکز کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے تعاون کی یقین دہانی اس امر کی مثال ہے کہ بین الاقوامی شراکت داری سے عوامی خدمات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اگر اسی جذبے کے تحت ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل انتظام، سرمایہ کاری اور نوجوانوں کی تربیت کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھایا جائے تو پاکستان کے لیے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔دانش آئی ٹی پارک کی کامیابی کا انحصار صرف افتتاح، عمارت یا ابتدائی اعلانات پر نہیں ہوگا بلکہ اس کے عملی نتائج پر ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے کے لیے واضح اہداف مقرر کرے، تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد، روزگار کے مواقع، نئے کاروباروں کے قیام، آئی ٹی برآمدات اور تحقیق کے نتائج کا باقاعدگی سے جائزہ لے۔ خواتین، پسماندہ علاقوں اور کم آمدنی والے گھرانوں کے نوجوانوں کی شرکت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اسی طرح نجی شعبے، جامعات اور عالمی ٹیکنالوجی اداروں کے ساتھ تعاون کو مؤثر بنایا جائے تاکہ یہ مرکز وقت کے ساتھ اپنی افادیت میں اضافہ کرتا رہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو قومی ترقی کے اہم ستونوں میں شامل کرنے کی کوششیں مستقبل کے حوالے سے ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وڑن کو مستقل پالیسی، مضبوط ادارہ جاتی تعاون اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ اگر دانش آئی ٹی پارک نوجوانوں کو معیاری تربیت، عملی تجربہ، تحقیق اور کاروباری مواقع فراہم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ منصوبہ دوسرے شہروں میں اسی نوعیت کے مراکز کے قیام کے لیے قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔
پاکستان کی نوجوان نسل صلاحیت، محنت اور تخلیقی قوت سے مالامال ہے۔ اسے صرف درست سمت، معیاری تربیت اور آگے بڑھنے کے مواقع درکار ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے خصوصی دلچسپی، دانش آئی ٹی پارک کا قیام اور اسے ملک کے مختلف علاقوں تک وسعت دینے کا عزم اسی ضرورت کو پورا کرنے کی جانب اہم قدم ہیں۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ پاکستان روایتی طریقہ کار سے آگے بڑھ کر علم، تحقیق، ڈیجیٹل مہارتوں اور اختراع کو اپنی ترقی کی بنیاد بنائے۔اگر دانش آئی ٹی پارک کو قومی ترجیحات کے مطابق مؤثر انداز میں چلایا گیا اور نوجوانوں کو اس سے حقیقی فائدہ پہنچا تو اس کے اثرات صرف روزگار تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملک کی صنعتی پیداوار، زرعی ترقی، کاروباری سرگرمیوں، سرکاری خدمات اور عالمی مسابقت پر بھی مرتب ہوں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی اس کوشش کو اسی تناظر میں سراہا جانا چاہیے کہ پاکستان کا مستقبل جدید علوم سے آراستہ، ہنرمند اور خوداعتماد نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ یہی نوجوان ملک کو ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی بلندیوں تک لے جانے، قومی معیشت کو مضبوط بنانے اور پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔