Print & Digital Media

سعودی عرب کا دفاع، پاکستان کی ذمہ داری اور خطے میں امن کی حکمتِ عملی

تجزیہ بی این پی
سعودی عرب کے دفاع، حرمین شریفین کے تقدس اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے تحفظ کا معاملہ پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات، مذہبی وابستگی، باہمی اعتماد اور دفاعی تعاون کی مضبوط بنیادیں موجود ہیں۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے ان تعلقات کو ایک نئے دفاعی تناظر میں استوار کیا ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو مشترکہ سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا۔ تاہم اس معاہدے کی حقیقی اہمیت صرف دفاعی عزم کے اظہار میں نہیں بلکہ اس امر میں بھی ہے کہ اس کے ذریعے خطے میں ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی، تنازعات کی روک تھام اور امن کے امکانات کو مضبوط بنایا جائے۔افواجِ پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا ایک بنیادی مقصد سعودی عرب کا دفاع ہے اور پاکستان اس ذمہ داری کو ہر صورت پورا کرے گا۔ ان کا بیان اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ پاکستان اپنے دفاعی وعدوں اور سعودی عرب کی سلامتی کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ پاکستانی افواج کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف شعبوں اور دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے تعاون کر رہی ہیں، لہٰذا یہ معاہدہ کسی اچانک فیصلے یا عارضی صورتِ حال کا نتیجہ نہیں بلکہ دیرینہ تعاون کو باقاعدہ مشترکہ دفاعی فریم ورک میں آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اس معاہدے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی دفاعی ذمہ داریوں اور خطے میں امن کے وسیع تر تقاضوں کو ایک ساتھ پیش نظر رکھا جائے۔ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے اہم ہے، لیکن اس سلامتی کے تحفظ کا مؤثر ترین طریقہ ایسا دفاعی نظام تشکیل دینا ہے جو ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے کے ساتھ ساتھ مخالف فریقوں کو بھی یہ احساس دلائے کہ کسی مہم جوئی کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس حکمتِ عملی میں دفاعی تیاری، مشترکہ مشاورت، انٹیلی جنس تعاون اور خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاہدے کی کامیابی کا انحصار صرف بیانات پر نہیں بلکہ عملی تیاری، واضح ذمہ داریوں اور مربوط ادارہ جاتی تعاون پر ہوگا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سات اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے دوران طے پانے والے اس معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مربوط بنانا اور بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی قوت کو مضبوط کرنا ہے۔ سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اس سلسلے میں معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کے بعد 31 اگست کو استنبول میں سٹرٹیجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے اور سعودی عرب میں سیکریٹریٹ قائم کرنے پر اتفاق ہوا، جبکہ پانچ اکتوبر کو ریاض میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سلامتی کے خطرات، مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں اور عملی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ ان پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاہدے کو محض علامتی اعلان کے بجائے ایک منظم دفاعی تعاون میں ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس پس منظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی وضاحت کرتے ہوئے پاکستانی حکام نے اس کی دفاعی نوعیت پر زور دیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور ہوگا، تاہم عملی دفاع کی نوعیت، متعلقہ دستوں کی تعیناتی اور ان کے استعمال کے بارے میں فیصلے آپریشنل کمانڈرز کریں گے۔ یہ وضاحت ریاستی ذمہ داریوں کے تعین میں عسکری پیشہ ورانہ مہارت اور زمینی حقائق کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ کسی بھی دفاعی اقدام کا فیصلہ محض جذباتی ردعمل کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے خطرے کی نوعیت، دستیاب وسائل، ممکنہ نتائج اور علاقائی صورتِ حال کا جامع جائزہ ناگزیر ہوتا ہے۔
سعودی عرب پر حوثی حملوں اور حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان میں جذباتی وابستگی فطری ہے۔ حرمین شریفین کا تقدس پوری امتِ مسلمہ کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور ان کے تحفظ کے معاملے پر پاکستانی عوام کے احساسات بھی واضح ہیں۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے بھی کہا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے اور پاکستان دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے دو اکتوبر کو طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر حملے کو سنگین اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور تحفظ کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔تاہم کسی حملے کی مذمت اور اس کے جواب میں براہِ راست فوجی کارروائی کا فیصلہ دو الگ امور ہیں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سعودی عرب کے دفاع کے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے ہر اقدام کی نوعیت اور حدود کا تعین دفاعی معاہدے، دستیاب معلومات اور متعلقہ عسکری اداروں کی پیشہ ورانہ رائے کے مطابق کرے۔ بعض حلقوں کی جانب سے حوثیوں کے خلاف فوری براہِ راست کارروائی کے مطالبات سامنے آ سکتے ہیں، لیکن ریاستی پالیسی کا تعین جذبات یا عوامی دباؤ کے بجائے قومی مفاد، دفاعی تقاضوں اور ممکنہ نتائج کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ ترکیہ کی جانب سے بھی سعودی عرب کی معاونت کے دفاعی کردار پر زور دیا گیا ہے، جبکہ جارحانہ کارروائیوں میں شرکت کے حوالے سے احتیاط کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ طرزِ فکر اس اصول کو تقویت دیتا ہے کہ دفاعی تعاون اور جنگ کو وسیع کرنے کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کی اصل کامیابی یہ ہوگی کہ وہ اپنے دفاعی وعدوں کی پاسداری کے ساتھ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مؤثر کردار ادا کرے۔ سعودی عرب کے پاس اپنی مسلح افواج، جدید دفاعی نظام اور قابلِ ذکر عسکری صلاحیتیں موجود ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کی معاونت کی نوعیت اور ضرورت کا تعین مشترکہ مشاورت اور متعلقہ دفاعی اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں پیشگی منصوبہ بندی، دفاعی تعاون، فضائی اور میزائل خطرات سے نمٹنے کی تیاری اور رابطہ کاری اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مضبوط دفاع کا مقصد صرف حملے کا جواب دینا نہیں بلکہ ایسی صورتِ حال پیدا کرنا بھی ہے جس میں کسی فریق کو حملے سے مطلوبہ فائدہ حاصل ہونے کی امید نہ رہے۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور دفترِ خارجہ کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔ ترجمانِ پاک فوج نے واضح کیا کہ پاکستان پہلے بھی اختلافات کم کرنے کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے، اب بھی کر رہا ہے اور آئندہ بھی مذاکرات کے ذریعے پْرامن حل کی کوشش جاری رکھے گا۔ دفترِ خارجہ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان سات نکات پر بات چیت جاری ہے، دونوں ممالک اپنے مؤقف پیش کر چکے ہیں اور براہِ راست رابطوں میں پاکستان کی ثالثی کوششوں نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان دوبارہ ثالثی کے لیے تیار ہے۔
یہ سفارتی پہلو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات اور سلامتی کی ذمہ داریاں ہیں، تو دوسری جانب ایران سمیت خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ کشیدگی کو محدود رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو دفاعی تعاون کو کسی وسیع تر علاقائی تصادم کی صورت دے دیں۔ اس کا مطلب دفاعی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنا نہیں بلکہ انہیں دانش مندی، واضح حکمتِ عملی اور مناسب سفارتی رابطوں کے ساتھ پورا کرنا ہے۔ اگر پاکستان دفاعی اعتبار سے قابلِ اعتماد شراکت دار اور سفارتی اعتبار سے مؤثر ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا ہے تو یہ نہ صرف اس کے قومی مفاد بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی داخلی سیاسی صورتِ حال کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کے معاملے پر وفاقی حکومت کو چیلنج کرنے کے بیانات اور تحریکِ انصاف کی سیاسی و کور کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں اس امکان کی مخالفت جیسے معاملات ملکی سیاسی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم سعودی عرب کے دفاع، علاقائی سلامتی اور خارجہ پالیسی جیسے بنیادی قومی معاملات کو داخلی سیاسی اختلافات سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات جمہوری سیاست کا حصہ ہیں، لیکن بیرونی خطرات اور اہم دفاعی ذمہ داریوں کے معاملے پر قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر سیاسی قیادت، پارلیمان، عسکری اداروں اور سفارتی حکام کے درمیان مؤثر رابطہ قومی یکجہتی کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ دفاعی معاہدے کی تفصیلات، اس کے عملی تقاضوں اور ممکنہ صورتِ حال کے بارے میں غیر ضروری قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ حساس دفاعی معاملات میں ہر تفصیل عوامی سطح پر بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے سرکاری وضاحتوں اور مستند معلومات پر انحصار زیادہ مناسب ہے۔ اسی طرح سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی کے معاملات میں غیر ضروری محاذ آرائی کا ذریعہ بنانے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی مضبوطی کا تقاضا ہے کہ دونوں ممالک دفاعی تعاون کو مسلسل بہتر بنائیں، باہمی اعتماد کو فروغ دیں اور سلامتی کے نئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تیاریوں کو مؤثر بنائیں۔ ساتھ ہی پاکستان کو اپنی معاشی ضروریات، داخلی استحکام اور علاقائی سفارتی کردار کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ کسی طویل علاقائی جنگ کے اثرات توانائی کی قیمتوں، تجارت، سرمایہ کاری اور مجموعی معاشی صورتِ حال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جنگ کی روک تھام، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کو دفاعی حکمتِ عملی سے الگ نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ ایک دوسرے کے معاون عناصر ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کا دفاع پاکستان کی اہم ذمہ داری ہے اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اس عزم کو ایک واضح ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے مضبوط دفاعی تیاری، بروقت فیصلے، پیشہ ورانہ عسکری منصوبہ بندی اور سیاسی سطح پر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ناگزیر ہیں۔ پاکستان کو نہ تو اپنے دفاعی وعدوں کے بارے میں ابہام پیدا ہونے دینا چاہیے اور نہ ہی غیر ضروری جذباتیت میں ایسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے جن سے تنازع مزید پھیلنے کا خدشہ ہو۔ ایک متوازن پالیسی وہی ہوگی جو سعودی عرب کی سلامتی کو یقینی بنانے کے عزم، حرمین شریفین کے تقدس کے احترام اور خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کو یکجا کرے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کے لیے سب سے موزوں راستہ یہی ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی عہد پر ثابت قدم رہے، مشترکہ دفاعی معاہدے کی روح کے مطابق ذمہ داریاں ادا کرے اور بیک وقت امریکہ، ایران، ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی روابط کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش جاری رکھے۔ دفاعی قوت اور سفارتی بصیرت کا یہ امتزاج پاکستان کو ایک ذمہ دار علاقائی شراکت دار کے طور پر مضبوط کر سکتا ہے۔ بالآخر پائیدار کامیابی صرف خطرات کا مقابلہ کرنے میں نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنے میں ہے جہاں جارحیت کی حوصلہ شکنی ہو، اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل ہوں اور مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع جنگ کے بجائے امن، استحکام اور باہمی تعاون کی راہ پر گامزن ہونے کا موقع ملے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.