تجزیہ بی این پی
اسلام آباد محض پاکستان کا وفاقی دارالحکومت نہیں بلکہ ریاست کے سیاسی، انتظامی اور سفارتی نظام کا مرکز ہے۔ یہی وہ شہر ہے جہاں وفاقی حکومت کے اہم ترین ادارے، پارلیمنٹ، اعلیٰ عدالتیں، سفارت خانے اور قومی سطح کے پالیسی ساز ادارے موجود ہیں۔ اس غیر معمولی حیثیت کے باعث اسلام آباد کے انتظامی معاملات ہمیشہ سے عام شہری حکومتوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کے رہے ہیں۔ اب وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی جانب سے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے لئے نئے طرزِ حکمرانی کی 20 سفارشات کو حتمی شکل دیا جانا ایک ایسی پیش رفت ہے جس کے اثرات محض وفاقی دارالحکومت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔مجوزہ نظام کا بنیادی تصور یہ ہے کہ اسلام آباد کو ایک ایسی نمائندہ حکومت دی جائے جو وفاق سے انتظامی اور مالی اختیارات حاصل کرکے مقامی سطح پر عوامی مسائل حل کرے۔ اس مقصد کے لئے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری حکومت قائم کرنے، 27 رکنی اسمبلی تشکیل دینے اور اسے محض بلدیاتی ادارے کے بجائے قانون ساز اسمبلی کا درجہ دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ مجوزہ اسمبلی کے 21 ارکان براہِ راست عوام منتخب کریں گے، جبکہ خواتین کے لئے پانچ اور اقلیتوں کے لئے ایک نشست مخصوص ہوگی۔ بظاہر یہ تصور اسلام آباد کے شہریوں کو زیادہ سیاسی نمائندگی اور انتظامی اختیار دینے کی کوشش ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ نظام موجودہ آئینی بندوبست کے اندر رہتے ہوئے واقعی ایک مؤثر، مستحکم اور مالی طور پر خود کفیل حکومت بن سکے گا؟
اسلام آباد کے شہریوں کو براہِ راست منتخب نمائندوں کے ذریعے اپنے روزمرہ مسائل کے حل کا اختیار ملنا بلاشبہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔ دنیا کے مختلف دارالحکومتوں میں مقامی حکومتوں کو اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ شہری سہولیات، ٹرانسپورٹ، صفائی، تعمیرات، شہری منصوبہ بندی اور دیگر معاملات کے فیصلے مقامی سطح پر کیے جا سکیں۔ پاکستان میں بھی یہ احساس مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ ایک جدید ریاست میں تمام فیصلے مرکز سے نہیں کیے جا سکتے۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اچھی حکمرانی، جواب دہی اور عوامی شمولیت کے لئے بنیادی ضرورت ہے۔
مجوزہ نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ حکومت کا سربراہ وزیراعلیٰ یا میئر کے نام سے ایک منصب دار ہو سکتا ہے، جبکہ اسمبلی کو انتظامی اور مالی خود مختاری حاصل ہوگی۔ چیف سیکرٹری اور چار سیکرٹریوں کے ذریعے انتظامی امور چلانے کی تجویز بھی اسی تصور کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ 27 انتظامی محکمے قائم کیے جانے اور مقامی حکومت کو یونین کونسلوں تک محدود رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اگر اختیارات اور وسائل حقیقتاً ان اداروں کو منتقل کر دیے جائیں تو اسلام آباد میں شہری حکومت کا ایک نسبتاً مؤثر ماڈل تشکیل پا سکتا ہے۔
تاہم مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں اسلام آباد کی خصوصی وفاقی حیثیت اور مجوزہ حکومت کے اختیارات ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ قانون، امن و امان اور ماسٹر پلاننگ جیسے اہم شعبے وفاق کے پاس رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دوسری طرف سی ڈی اے سمیت متعدد اداروں کے اختیارات کو نئے سرے سے تقسیم کرنے اور بعض اختیارات مقامی حکومت کو منتقل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ یوں ایک ہی جغرافیائی حدود میں وفاقی حکومت، مجوزہ آئی سی ٹی حکومت، سی ڈی اے، یونین کونسلوں اور دیگر اداروں کے درمیان اختیارات کی واضح حد بندی ایک بنیادی چیلنج بن سکتی ہے۔
اسلام آباد میں سب سے اہم سوال مالی خود مختاری کا ہے۔ حکومت قائم کرنا نسبتاً آسان لیکن اسے مستقل بنیادوں پر چلانے کے لئے مالی وسائل فراہم کرنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ اگر آئی سی ٹی حکومت کو صوبائی طرز کی انتظامی و مالی خود مختاری دی جاتی ہے تو پھر یہ سوال لازماً پیدا ہوگا کہ اسے وسائل کہاں سے ملیں گے۔ مقامی ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن یقیناً ایک ذریعہ ہو سکتی ہے، لیکن اسلام آباد کی ضروریات اور مجوزہ حکومت کے اخراجات کو دیکھتے ہوئے یہ آمدن کافی ہوگی یا نہیں، اس کا تعین کسی ٹھوس مالیاتی فارمولے کے بغیر ممکن نہیں۔
یہاں قومی مالیاتی کمیشن کا معاملہ بھی اہم ہو جاتا ہے۔ صوبوں کو وفاقی محصولات میں آئینی فارمولے کے تحت حصہ ملتا ہے، مگر اسلام آباد کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے قائم ہونے والی حکومت کے طور پر صوبائی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔ چنانچہ اگر اسے صوبائی نوعیت کی مالی خود مختاری دی جاتی ہے تو اس کے لئے آئینی پیچیدگیاں پیدا ہونا ناگزیر ہیں۔ محض پارلیمانی قانون کے ذریعے ایک ایسا نظام تشکیل دینا جو عملاً صوبائی حکومت جیسی خصوصیات رکھتا ہو، مستقبل میں قانونی تشریحات اور سیاسی اختلافات کا باعث بن سکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اصلاح اور پیچیدگی کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔ اگر مقصد صرف اسلام آباد کے شہریوں کو بہتر مقامی حکومت فراہم کرنا ہے تو اس مقصد کے لئے ایک مضبوط، بااختیار اور مالی طور پر خود کفیل بلدیاتی نظام زیادہ موزوں راستہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ایک نئی قانون ساز اسمبلی، الگ حکومت، متعدد محکمے اور وسیع انتظامی اختیارات قائم کیے جاتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ایک جدید بلدیاتی نظام ہوگا یا عملاً ایک نئی سیاسی حکومت کا ابتدائی خاکہ؟
لندن، واشنگٹن اور دہلی کے انتظامی ماڈلز کا جائزہ لینا یقیناً مفید ہے، مگر کسی دوسرے ملک کے دارالحکومت کا ماڈل براہِ راست پاکستان میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر ملک کی آئینی ساخت، سیاسی روایت، مالیاتی نظام اور مرکز و مقامی حکومت کے تعلقات مختلف ہوتے ہیں۔ اس لئے عالمی مثالوں سے رہنمائی ضرور لی جائے، مگر اسلام آباد کے لئے ایسا نظام وضع کیا جائے جو پاکستان کے آئین، سیاسی حقائق اور انتظامی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔
اسلام آباد کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ شہری مسائل کے حل کے لئے مختلف اداروں کے درمیان اختیارات بٹے ہوئے ہیں۔ سی ڈی اے، میونسپل اداروں، ضلعی انتظامیہ اور وفاقی وزارتوں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم اکثر عام شہری کے لئے الجھن کا باعث بنتی ہے۔ پانی، صفائی، سڑکوں، پارکوں، ٹریفک، تعمیرات اور شہری منصوبہ بندی جیسے معاملات میں ایک واضح اتھارٹی کا نہ ہونا انتظامی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ اگر مجوزہ اصلاحات ان مسائل کو ختم کرکے ایک واضح اور جواب دہ نظام قائم کرتی ہیں تو یہ ایک قابلِ تحسین اقدام ہوگا۔
لیکن نئی اسمبلی کا قیام بذاتِ خود اچھی حکمرانی کی ضمانت نہیں۔ اصل کامیابی اس بات میں ہوگی کہ منتخب نمائندوں کو کس حد تک اختیارات دیے جاتے ہیں، ان کے فیصلوں پر عملدرآمد کون کراتا ہے، وسائل کہاں سے آتے ہیں اور وفاق و آئی سی ٹی حکومت کے درمیان تنازعات کا فیصلہ کس فورم پر ہوتا ہے۔ اگر اختیارات تقسیم کرنے کے بجائے مزید ادارے بنا دیے گئے تو شہری حکومت کا مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اسلام آباد کے لئے ایک بااختیار نمائندہ حکومت کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اصلاحات کا مقصد اداروں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ نظام کو آسان، شفاف اور جواب دہ بنانا ہونا چاہیے۔ اگر نئی اسمبلی صرف قانون سازی، سیاسی نمائندگی اور مقامی حکومت کی نگرانی تک محدود رہنے کے بجائے ایک مکمل سیاسی حکومت کی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں اسلام آباد ملک کا ایک اور سیاسی میدان بن سکتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت پہلے ہی قومی سیاست کا مرکز ہے؛ یہاں ایک الگ سیاسی حکومت قائم ہونے سے مقامی مسائل کے بجائے سیاسی مفادات غالب آنے کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔
دنیا جب سمارٹ سٹیز، ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت پر مبنی شہری خدمات اور ڈیٹا سے چلنے والے انتظامی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، پاکستان کو بھی اپنے دارالحکومت کے لئے مستقبل شناس ماڈل اختیار کرنا چاہیے۔ اسلام آباد میں شہری حکومت کا نیا تصور صرف اسمبلی اور محکموں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ڈیجیٹل سروسز، آن لائن اجازت ناموں، شفاف ٹیکس نظام، مربوط ٹرانسپورٹ، ماحول دوست منصوبہ بندی، شہری شکایات کے فوری ازالے اور کھلے ڈیٹا کے اصولوں سے جوڑا جانا چاہیے۔
سب سے بڑھ کر ضرورت اس امر کی ہے کہ مجوزہ قانون سازی سے قبل تمام آئینی، قانونی اور مالی پہلوؤں کو واضح کیا جائے۔ وفاقی حکومت اور آئی سی ٹی حکومت کے اختیارات کی حدود آئین اور قانون میں غیر مبہم انداز میں متعین ہونی چاہئیں۔ سی ڈی اے کے مستقبل کے کردار، ماسٹر پلاننگ، امن و امان، ٹیکس وصولی، ترقیاتی بجٹ اور وفاقی مالی معاونت کے لئے واضح قواعد ضروری ہیں۔ اسی طرح یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ اگر وفاق اور آئی سی ٹی حکومت کے درمیان کسی معاملے پر اختلاف پیدا ہو تو حتمی اختیار کس کے پاس ہوگا۔
اسلام آباد کو ایک مؤثر حکومت ضرور ملنی چاہیے، مگر ایسی حکومت جو سیاسی طاقت کے ارتکاز کے بجائے شہری خدمت کا ذریعہ بنے۔ نئی اسمبلی اگر عوامی نمائندگی کو مضبوط، انتظامی معاملات کو آسان، مالی وسائل کو شفاف اور شہری خدمات کو بہتر بناتی ہے تو یہ پاکستان کے لئے ایک قابلِ تقلید تجربہ بن سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ نظام محض ایک نئی سیاسی سطح، نئے عہدوں اور نئے اختیارات کی تقسیم تک محدود ہوگیا تو اصلاحات کا مقصد فوت ہو جائے گا۔
اسلام آباد پاکستان کا چہرہ ہے۔ اس کے راستے، پارک، بازار، ادارے اور شہری سہولیات صرف دارالحکومت کے رہنے والوں کی ضرورت نہیں بلکہ پوری ریاست کے انتظامی معیار کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس لئے یہاں ایسا نظام درکار ہے جو وفاق کی مضبوطی اور مقامی خود اختیاری کے درمیان متوازن رشتہ قائم کرے۔ حکومت کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ وہ اختیارات کی منتقلی کو سیاسی بندوبست بنانے کے بجائے عوامی خدمت کا مؤثر ذریعہ بناتی ہے یا نہیں۔ اگر یہ توازن قائم ہوگیا تو اسلام آباد کا نیا حکمرانی ماڈل پاکستان میں مقامی جمہوریت کے ایک نئے باب کا آغاز بن سکتا ہے، بصورتِ دیگر ایک اور اسمبلی شاید مسائل کم کرنے کے بجائے ادارہ جاتی پیچیدگی میں اضافہ ہی کرے۔