تجزیہ بی این پی
پاکستان کو درپیش مسائل میں ایک بڑا مسئلہ ایسا انتظامی نظام ہے جو بڑھتی ہوئی آبادی، بدلتی ہوئی ضروریات اور عوامی توقعات کے مطابق اپنی رفتار برقرار نہیں رکھ سکا۔ آج عام شہری تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولتوں کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان مسائل کا اعتراف مایوسی پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ ان کے قابلِ عمل اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اسی تناظر میں نئے انتظامی یونٹس، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور بہتر طرزِ حکمرانی پر ہونے والی بحث ایک مثبت اور بروقت قومی مکالمے کی حیثیت رکھتی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ مؤقف قابلِ غور ہے کہ انتظامی حدود کی ازسرنو تشکیل کا فیصلہ کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ عوام کی رائے اور آئین و قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ یہی اصول اس پورے معاملے کو سیاسی تنازع کے بجائے قومی اصلاحات کی بحث بنا سکتا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کا بنیادی مقصد کسی زبان، ثقافت، شناخت یا صوبے کو کمزور کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر حکمرانی اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
پاکستان ایک طویل عرصے میں آبادی، شہری پھیلاؤ اور معاشی ضروریات کے اعتبار سے بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ جن انتظامی ڈھانچوں کے تحت ملک نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، آج ان میں بہتری اور اصلاح کی ضرورت محسوس ہونا ایک فطری امر ہے۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ اگر انتظامی اختیار، وسائل اور فیصلہ سازی بھی مرکزی سطح پر مرتکز رہیں تو حکومت اور عام شہری کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں۔ چنانچہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا، مقامی حکومتوں کو مؤثر بنانا اور انتظامی اداروں کو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تاہم نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا معاملہ محض نقشے پر نئی حد بندی کرنے کا نام نہیں۔ اس کے ساتھ مالی وسائل، انتظامی صلاحیت، سول سروس، عدالتی نظام، مقامی حکومتوں، قومی مالیاتی کمیشن اور صوبائی مالیاتی کمیشن جیسے متعدد معاملات جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے کسی بھی فیصلے سے پہلے اس کے انتظامی، معاشی اور آئینی اثرات کا جامع جائزہ ضروری ہے۔ جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ قومی مکالمہ ہی اس معاملے کو درست سمت دے سکتا ہے۔
اس حوالے سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ صرف نئے صوبے بنا دینے سے تمام مسائل خود بخود حل نہیں ہوں گے۔ اگر حکمرانی کا انداز، اداروں کی کارکردگی اور قانون کی حکمرانی بہتر نہ ہو تو نئی انتظامی حدود بھی پرانے مسائل کو نئے ناموں کے ساتھ برقرار رکھ سکتی ہیں۔ اسی طرح خالد مقبول صدیقی کی جانب سے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زور بھی اس بحث کا اہم پہلو ہے۔ جمہوریت کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں اور مقامی سطح پر لوگوں کو اپنے مسائل کے حل میں مؤثر اختیار حاصل ہو۔
پاکستان میں مختلف علاقوں سے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور، پوٹھوہار، ہزارہ اور کراچی سمیت متعدد خطوں میں اس حوالے سے مختلف آرا موجود ہیں۔ ان مطالبات کو محض سیاسی مخالفت یا علاقائی تعصب کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے ان کے پس منظر میں موجود انتظامی اور عوامی مسائل کو سمجھنا چاہیے۔ جہاں لوگوں کو یہ احساس ہو کہ ان کی آواز فیصلہ سازی کے مراکز تک نہیں پہنچ رہی، وہاں بہتر انتظامی نمائندگی کی خواہش ایک فطری مطالبہ بن جاتی ہے۔
اس بحث میں سب سے اہم اصول قومی اتفاقِ رائے ہونا چاہیے۔ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں، تمام بڑی سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ، ماہرینِ آئین و قانون، انتظامی ماہرین، سول سوسائٹی، میڈیا اور سب سے بڑھ کر متعلقہ علاقوں کے عوام کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ کسی ایک فریق کی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے سے اصلاح کے بجائے ایک نیا تنازع جنم لے سکتا ہے۔ پاکستان کو ایسے فیصلے درکار ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے استحکام کا ذریعہ بنیں، نہ کہ وقتی سیاسی کشمکش کا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اس معاملے میں عوامی رائے کو بنیادی حیثیت دینا سب سے زیادہ مناسب راستہ ہے۔ اگر کسی علاقے کے عوام انتظامی یونٹ کی تشکیل چاہتے ہیں تو ان کی آواز کو آئینی طریقہ کار کے تحت سننا چاہیے، اور اگر عوام اس کے حق میں نہیں تو ان پر کوئی انتظامی تبدیلی مسلط نہیں کی جانی چاہیے۔ عوام کی مرضی، آئین کی بالادستی اور سیاسی اتفاقِ رائے وہ تین ستون ہیں جن پر اس پورے عمل کو استوار کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح یہ تصور بھی ختم ہونا چاہیے کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام لازماً کسی موجودہ لسانی یا ثقافتی شناخت کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ پنجاب کے انتظامی حصوں میں تبدیلی سے پنجابی شناخت ختم نہیں ہوتی اور سندھ میں بہتر انتظامی تقسیم سے سندھی شناخت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی اصل طاقت اس کی مختلف ثقافتی اور علاقائی شناختوں کا احترام کرتے ہوئے ایک مضبوط قومی وحدت قائم رکھنے میں ہے۔
اسلام آباد کے حوالے سے محسن نقوی کی جانب سے اٹھایا گیا سوال بھی قومی سطح پر غور کا متقاضی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کی انتظامی اور مالی ضروریات کو ایک مؤثر اور پائیدار نظام کے تحت پورا کرنا ضروری ہے۔ تاہم اس سمیت ہر تجویز کو جذبات کے بجائے آئینی، قانونی، مالی اور انتظامی تقاضوں کی روشنی میں پرکھا جانا چاہیے۔سول سروس اصلاحات بھی انتظامی بہتری کا بنیادی جزو ہیں۔ منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کے اختیارات و ذمہ داریوں کی واضح تقسیم، شفاف احتساب، مؤثر بلدیاتی نظام، غیر جانب دار انتخابی عمل اور مقامی سطح پر مالی وسائل کی دستیابی کے بغیر انتظامی یونٹس کی کوئی بھی نئی ترتیب مکمل نتائج نہیں دے سکتی۔ اس لیے اصلاحات کا دائرہ صرف صوبوں کی تعداد تک محدود رکھنے کے بجائے پورے حکمرانی کے نظام کو بہتر بنانے تک وسیع ہونا چاہیے۔
پاکستان کے مسائل یقیناً بڑے ہیں، مگر ان کا حل ناممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلاف کو قومی اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔ نئے انتظامی یونٹس پر اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن بہتر حکمرانی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور عوامی شمولیت پر شاید ہی کوئی اختلاف ہو۔ اسی مشترکہ بنیاد سے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ انتظامی یونٹس کی تشکیل کو سیاسی مفاد کے بجائے عوامی فلاح، بہتر حکمرانی اور انتظامی ضرورت سے جوڑا جائے۔ تمام اکائیوں اور سیاسی جماعتوں کو اس عمل میں اعتماد میں لیا جائے، عوام کی رائے کا احترام کیا جائے اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔ اگر یہ عمل تدبر، مشاورت اور قومی مفاد کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو انتظامی اصلاحات پاکستان میں ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے کم کرنے، بنیادی سہولتوں کی فراہمی بہتر بنانے اور حکمرانی کو زیادہ مؤثر بنانے کا اہم ذریعہ بن سکتی ہیں۔ یہی وہ مثبت سمت ہے جس کی آج پاکستان کو ضرورت ہے۔