Print & Digital Media

بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی—ریاستی عزم کی نئی سمت

تجزیہ بی این پی
بلوچستان پاکستان کا وہ وسیع و عریض خطہ ہے جو قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، ساحلی امکانات اور معدنی ذخائر کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ صوبہ نہ صرف پاکستان کی جغرافیائی وحدت کا اہم حصہ ہے بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی معاشی اور تزویراتی صورتِ حال میں بھی اس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تاہم طویل عرصے سے بدامنی، دہشت گردی، پسماندگی، بے روزگاری، بنیادی سہولتوں کی کمی اور احساسِ محرومی جیسے مسائل بلوچستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں امن و استحکام کو ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے ساتھ جوڑنے کا ریاستی عزم غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ کوئٹہ اور اس موقع پر دیا گیا پیغام اسی وسیع تر ریاستی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ کوئٹہ گیریڑن میں فیلڈ فارمیشنز کے کمانڈرز اور کمانڈنگ افسران سے ملاقات کے دوران بلوچستان کی موجودہ سکیورٹی صورتِ حال، آپریشنل تیاریوں اور امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ادارہ جاتی ہم آہنگی اور صوبے کی سماجی و اقتصادی ترقی میں معاونت سے متعلق امور کا جائزہ بھی لیا گیا۔ یہ امر اس بات کی واضح علامت ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو محض سکیورٹی کے زاویے سے نہیں بلکہ امن، معیشت، ترقی اور عوامی بہبود کے ایک جامع تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق بلوچستان میں پائیدار امن کا قیام صرف طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک ایسے جامع ماحول کی ضرورت ہے جہاں ریاستی ادارے باہمی تعاون سے کام کریں، قانون کی حکمرانی مضبوط ہو، عوام کو بنیادی سہولتیں میسر ہوں اور نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا ہوں۔ جب امن کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے تو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لیے سازگار ماحول بتدریج ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری، بے لوث عزم اور اعلیٰ معیار کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مستحکم امن اور پائیدار اقتصادی سرگرمیوں و ترقی کے لیے سازگار ماحول برقرار رکھنے کی خاطر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر ریاستی اداروں کے درمیان مسلسل ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ یہ نکتہ بلوچستان کے موجودہ حالات میں خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ صوبے کے مسائل کی نوعیت کثیرالجہتی ہے اور انہیں کسی ایک ادارے یا ایک شعبے کی کوشش سے حل نہیں کیا جا سکتا۔
بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز نے طویل عرصے سے قربانیاں دی ہیں۔ افسران اور جوانوں نے ملک کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ فیلڈ مارشل کی جانب سے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنا دراصل ان قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ اس عزم کی تجدید بھی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ سے کسی صورت غافل نہیں ہو سکتی۔ امن کے لیے قربانیاں دینے والے شہدائ کی یاد ریاستی ذمہ داری اور قومی یکجہتی کے احساس کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی خطے میں دیرپا امن صرف سکیورٹی آپریشنز کے ذریعے قائم نہیں رہتا۔ امن کو پائیدار بنانے کے لیے معاشی اور سماجی ترقی ضروری ہے۔ بلوچستان کے عوام کو اگر تعلیم، صحت، صاف پانی، بجلی، مواصلات، روزگار اور کاروباری مواقع میسر آئیں تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بنیاد مزید مضبوط ہوگی۔ اسی لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ کہنا کہ بلوچستان کے عوام کے لیے امن، خوشحالی اور فلاح و بہبود ریاست کی کوششوں کا مرکزی نقطہ ہے، ایک جامع اور دور رس سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

تجزیہ بی این پی کے مطابق بلوچستان کی ترقی کا سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ وہاں امن اور اقتصادی سرگرمی کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کا لازمی حصہ سمجھا جائے۔ محفوظ ماحول کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی، صنعتیں نہیں لگ سکتیں، سیاحت فروغ نہیں پا سکتی اور معدنی وسائل سے بھرپور معاشی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف اگر عوام کو ترقی کے ثمرات نہ ملیں تو صرف سکیورٹی اقدامات بھی مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ اس لیے امن اور ترقی کو ایک ہی قومی حکمتِ عملی کے دو بنیادی ستون قرار دینا ہوگا۔
بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ یہاں معدنیات، توانائی، ساحلی وسائل اور وسیع اراضی ایسے امکانات رکھتی ہے جو پاکستان کی مجموعی معیشت کو نئی قوت دے سکتے ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ، معدنی ذخائر اور علاقائی تجارت کے امکانات بلوچستان کو مستقبل کی معاشی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بنا سکتے ہیں۔ مگر ان امکانات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے امن و امان، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری کے تحفظ اور مقامی آبادی کی شمولیت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
ریاستی پالیسی کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ بلوچستان کے وسائل سے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیوں میں مقامی آبادی کو بھی بھرپور حصہ ملے۔ مقامی نوجوانوں کو ہنر سکھانے، روزگار فراہم کرنے اور کاروباری مواقع پیدا کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ اگر بلوچستان کے نوجوان اپنے مستقبل کو اپنے ہی صوبے میں محفوظ اور روشن دیکھیں گے تو وہ ترقی کے عمل کے سب سے مضبوط شراکت دار بن سکتے ہیں۔ ریاست اور عوام کے درمیان یہی شراکت داری پائیدار امن کی حقیقی بنیاد بن سکتی ہے۔
اس تناظر میں ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے، وفاقی و صوبائی حکومتیں اور انتظامیہ اگر ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کریں تو سکیورٹی اور ترقی دونوں اہداف بیک وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ کسی ایک ادارے کی انفرادی کوشش کے بجائے اجتماعی قومی کاوش ہی بلوچستان کے پیچیدہ مسائل کا مؤثر حل فراہم کر سکتی ہے۔
یہاں سیاسی قیادت کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بلوچستان کے عوام کے منتخب نمائندوں کو ترقیاتی منصوبوں، امن کے قیام اور عوامی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد اور تعاون کی فضا جتنی مضبوط ہوگی، اتنا ہی صوبے میں استحکام پیدا ہوگا۔ اختلافِ رائے جمہوری نظام کا حصہ ہے، لیکن قومی سلامتی، شہریوں کے تحفظ اور معاشی ترقی کے بنیادی معاملات پر وسیع تر اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بلوچستان کے مسئلے کا ایک اہم پہلو نوجوان نسل بھی ہے۔ دنیا بھر میں نوجوان کسی بھی ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کا سب سے بڑا سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔ اگر بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، جدید ٹیکنالوجی، روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ صوبے کی تقدیر بدلنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر انہیں مواقع سے محروم رکھا جائے تو مایوسی اور بے یقینی پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ نوجوانوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا بلوچستان کے مستقبل کی سب سے اہم ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
امن و امان کے حوالے سے ریاست کا عزم اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن اس عزم کی کامیابی کا اصل پیمانہ عام شہری کی زندگی میں بہتری ہے۔ ایک عام بلوچ شہری جب بلاخوف سفر کر سکے، اس کے بچے محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کریں، اسے علاج کی سہولت دستیاب ہو، اس کے لیے روزگار کے مواقع موجود ہوں اور اسے اپنے مستقبل کے بارے میں امید محسوس ہو تو یہی پائیدار امن کی سب سے بڑی علامت ہوگی۔اسی لیے بلوچستان کے بارے میں قومی بیانیے کو بھی مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کو صرف دہشت گردی، شورش یا سکیورٹی کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ یہ صوبہ اپنے اندر بے پناہ معاشی، ثقافتی اور انسانی امکانات رکھتا ہے۔ اسے پاکستان کی ترقی کے ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب بلوچستان کی ترقی کو قومی ترقی کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تو صوبے کے مسائل کے حل کے لیے زیادہ مؤثر اور دیرپا راستہ پیدا ہوگا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ عزم کہ بلوچستان کے عوام کے لیے امن، خوشحالی اور فلاح و بہبود ریاستی کوششوں کا مرکزی نقطہ ہے، اسی جامع تصور کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس عزم کو عملی کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سکیورٹی کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کی جائے، سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی جائے اور مقامی آبادی کو ترقیاتی عمل کا حقیقی حصہ بنایا جائے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** بلوچستان میں امن کا مستقبل دراصل وہاں کے عوام کے معاشی اور سماجی مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ بندوق کی خاموشی ضروری ہے، لیکن اس خاموشی کو روزگار، تعلیم، صحت، کاروبار اور ترقی کی آواز میں تبدیل کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ ریاستی عزم اسی وقت مکمل کامیابی سے ہمکنار ہوگا جب امن کے ثمرات عام شہری کی زندگی میں نمایاں ہوں گے۔
بلوچستان کے لیے آج ضرورت ایک ایسی جامع حکمتِ عملی کی ہے جو سکیورٹی، ترقی، تعلیم، معیشت اور عوامی شمولیت کو ایک ہی قومی منصوبے کا حصہ بنائے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر ریاستی اداروں کے درمیان مسلسل ہم آہنگی پر زور اسی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر یہ ادارہ جاتی تعاون مستقل بنیادوں پر جاری رہے اور اس کے ساتھ صوبے کی سماجی و اقتصادی ترقی کو بھی بھرپور رفتار دی جائے تو بلوچستان نہ صرف امن و استحکام کی منزل حاصل کر سکتا ہے بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کا ایک نیا انجن بھی بن سکتا ہے۔
بلوچستان کے عوام نے طویل عرصے تک مشکلات برداشت کی ہیں اور سکیورٹی فورسز نے بھی امن کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ ان قربانیوں کو ایک ایسے روشن مستقبل میں تبدیل کیا جائے جس میں امن محض ایک نعرہ نہ ہو بلکہ ہر شہری کے روزمرہ تجربے کا حصہ بنے۔ ریاستی عزم، ادارہ جاتی ہم آہنگی، عوامی شراکت اور معاشی ترقی کے امتزاج سے بلوچستان کے لیے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
یقیناً ایک محفوظ بلوچستان ہی ایک خوشحال بلوچستان کی بنیاد ہے، اور ایک خوشحال بلوچستان ہی مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ پیغام اسی قومی ترجیح کو واضح کرتا ہے کہ بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح و بہبود ریاست کی کوششوں کا مرکز ہے۔ اس عزم کو عملی منصوبہ بندی، مسلسل ادارہ جاتی تعاون اور عوامی شمولیت کے ذریعے آگے بڑھانا ہی آنے والے وقت کی سب سے اہم قومی ذمہ داری ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.