تجزیہ بی این پی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران کا حالیہ سرکاری دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی، باہمی دھمکیوں، معاشی پابندیوں اور جنگی خطرات کے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کی جانب سے سفارتی رابطوں کو فروغ دینا محض ایک معمول کا ریاستی اقدام نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے راستے کو زندہ رکھنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے اس مؤقف کا حامی رہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں اور اختلافات کو طاقت کے بجائے گفت و شنید، سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران پہنچے جہاں انہوں نے ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق دورے میں دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورت حال اور امن و سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے اور ایسے سفارتی راستے تلاش کیے جائیں جو کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کی بنیاد بن سکیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ محض پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان جغرافیائی اعتبار سے ایسے خطے میں واقع ہے جہاں مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے حالات ایک دوسرے پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔ ایران میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات صرف ایرانی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات توانائی، تجارت، سمندری راستوں، عالمی منڈیوں اور خطے کی مجموعی سلامتی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ اس امر کو پاکستان کی سفارتی پالیسی کی تائید بھی حاصل ہے جس میں ہمیشہ مذاکرات، مفاہمت اور پرامن بقائے باہمی کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا جس میں علاقائی صورت حال اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے معاملات زیر بحث آئے۔ یہ رابطے اس امر کی علامت ہیں کہ اسلام آباد تہران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور موجودہ بحران میں سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی امن کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے ایران پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے اور پابندیوں کو سخت کرنے کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں جبکہ ایرانی قیادت نے ان اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی موجودہ حالات کو انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو معاشی، فوجی اور سکیورٹی محاذوں پر شدید دباؤ کا سامنا ہے، تاہم ایرانی قوم مشکلات کے باوجود اپنی بقا اور خودمختاری کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ جنگ کسی بھی ملک کو فوری طور پر مکمل فتح نہیں دلاتی۔ جدید دنیا میں جنگ کے اثرات سرحدوں سے نکل کر عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تجارت متاثر ہوتی ہے، سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ ایک جنگ کا سب سے بڑا بوجھ اکثر وہ عوام اٹھاتے ہیں جن کا فیصلہ سازی کے مراکز میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مسلسل کشیدگی بھی اسی تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** امریکہ اور ایران دونوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اپنے مؤقف پر اصرار کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھیں۔ کسی بھی تنازع میں ایک فریق کو مکمل شکست دینے کی خواہش اکثر مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ طاقت کے استعمال سے وقتی طور پر کسی ملک کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے، لیکن پائیدار سیاسی حل صرف مذاکرات اور باہمی ضمانتوں کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنے عوام، خطے اور دنیا کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھیں تو جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی طرف واپسی کا راستہ اب بھی نکالا جا سکتا ہے۔
اسی تناظر میں فیض بشیر صاحب کی امن کے لیے مسلسل کوششیں قابلِ ذکر ہیں۔ وہ عالمِ امن کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں اور دنیا کو جنگ، تصادم اور نفرت کے بجائے امن، برداشت اور باہمی احترام کا گہوارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگی کشیدگی کا خاتمہ ہو، فریقین مستقل بنیادوں پر جنگ بندی پر متفق ہوں اور مذاکرات کے ذریعے ایسا حل تلاش کریں جو دونوں ممالک کے لیے قابلِ قبول ہو۔ ان کے نزدیک عالمی امن کسی ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ضرورت ہے۔
فیض بشیر صاحب کا ایران کا دورہ بھی اسی وسیع تر سوچ کا حصہ ہے۔ ان کی بنیادی خواہش یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی محض چند دنوں یا ہفتوں کا عارضی انتظام نہ ہو بلکہ اسے مستقل امن کی بنیاد بنایا جائے۔ اگر جنگ بندی کو مذاکرات، باہمی ضمانتوں اور سفارتی رابطوں سے مضبوط کیا جائے تو خطے میں اعتماد کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے۔ یہی اعتماد آگے چل کر ایسے معاہدے کی راہ ہموار کر سکتا ہے جو جنگ کے امکانات کو مستقل طور پر کم کرے۔
یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیوں کا مقصد اگر سیاسی دباؤ بڑھانا ہے تو اس حکمت عملی کے انسانی اور عالمی معاشی اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پابندیوں سے حکومتوں کے بجائے عام شہری بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ادویات، خوراک، تجارت، روزگار اور بنیادی ضروریات تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔ جب عوام مشکلات کا شکار ہوں تو معاشرتی بے چینی بڑھتی ہے اور علاقائی استحکام مزید کمزور ہوتا ہے۔ اس لیے کسی بھی نئی پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے انسانی پہلو کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ایران بھی اگرچہ اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا حق رکھتا ہے، تاہم سفارت کاری کے امکانات کو ہمیشہ زندہ رکھنا اس کے اپنے مفاد میں ہے۔ اسی طرح امریکہ کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ کسی خودمختار ملک کو محض دباؤ اور طاقت کے ذریعے اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کرنا آسان نہیں۔ دنیا کے موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ بڑی طاقتیں اپنے اثر و رسوخ کو جنگ کے بجائے امن کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔
پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کی اہمیت دوچند ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف ہمسایہ ہیں بلکہ ان کے درمیان مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور تجارتی روابط بھی موجود ہیں۔ سرحدی علاقوں میں امن، قانونی تجارت، توانائی کے منصوبے، باہمی سرمایہ کاری اور عوامی روابط دونوں ملکوں کے مشترکہ مفاد میں ہیں۔ اگر خطے میں مستقل امن قائم ہو تو پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں اور دونوں ممالک اپنے عوام کی ترقی کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں وسائل استعمال کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی یہ کوشش بھی قابلِ تحسین ہے کہ وہ کسی ایک فریق کے خلاف صف بندی کرنے کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کر رہا ہے۔ عالمی سیاست میں غیر جانب دار سفارتی کردار ادا کرنا آسان نہیں ہوتا، تاہم پاکستان اگر اپنی سفارتی ساکھ کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف فریقوں کے درمیان رابطے کا پل بن سکتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ خود پاکستان کے لیے بھی ایک اہم سفارتی کامیابی ہوگی۔ماضی کے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ جنگ شروع کرنا آسان مگر اسے ختم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ میدان جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابی بھی اس وقت تک مکمل کامیابی نہیں بن سکتی جب تک سیاسی حل سامنے نہ آئے۔ اسی لیے دنیا کے ذمہ دار ممالک کو چاہیے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کریں۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جیسے سفارتی راستے اس بحران کے پرامن حل کے لیے ایک قابلِ غور بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ پابندیاں، دھمکیاں اور فوجی کارروائیاں اگرچہ وقتی دباؤ پیدا کر سکتی ہیں، لیکن مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔ حقیقی کامیابی اس وقت ہوگی جب ایران اور امریکہ ایک دوسرے کی سلامتی اور خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے اختلافات کے حل کے لیے قابلِ عمل فریم ورک تشکیل دیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران کا دورہ اسی وسیع تر سفارتی تناظر میں امید کی ایک کرن ہے۔ اس دورے سے فوری طور پر کوئی بڑا نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا، تاہم رابطوں کا برقرار رہنا بذاتِ خود ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اگر پاکستان اپنے سفارتی کردار کو مؤثر انداز میں آگے بڑھاتا ہے اور دوسرے ممالک بھی اس کوشش کا ساتھ دیتے ہیں تو جنگ بندی کی طرف پیش رفت ممکن ہے۔آج دنیا کو مزید جنگوں کی نہیں بلکہ امن کے نئے راستوں کی ضرورت ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا خاتمہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ضروری ہے۔ اربوں انسان پہلے ہی معاشی دباؤ، مہنگائی، توانائی کے بحران اور عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک طویل جنگ ان مشکلات میں مزید اضافہ کرے گی۔
**تجزیہ بی این پی** کے مطابق پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں کو مزید منظم، فعال اور نتیجہ خیز بنانا چاہیے۔ فیض بشیر صاحب کی طرح امن کے لیے کوشاں شخصیات اور حلقوں کی آواز کو بھی اہمیت ملنی چاہیے جو جنگ کے بجائے مذاکرات، مفاہمت اور مستقل جنگ بندی کی بات کرتے ہیں۔ اگر مختلف ممالک اور عالمی امن کے لیے سرگرم عناصر ایک مشترکہ سفارتی مؤقف اختیار کریں تو امریکہ اور ایران پر مذاکرات کی طرف واپس آنے کے لیے مؤثر اخلاقی اور سیاسی دباؤ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین فتح اور شکست کی روایتی سوچ سے بالاتر ہو کر انسانیت کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھیں۔ امن کسی ایک فریق کی فتح نہیں بلکہ پوری انسانیت کی کامیابی ہے۔ ایران اور امریکہ اگر مستقل جنگ بندی، باہمی احترام اور مذاکرات کی راہ اختیار کرتے ہیں تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک نئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس موقع پر اپنے سفارتی کردار کو مزید مضبوط کرے اور ہر ممکن کوشش جاری رکھے تاکہ جنگ کے بجائے مذاکرات، تصادم کے بجائے مفاہمت اور خوف کے بجائے امن کی فضا قائم ہو سکے۔