Print & Digital Media

زرعی انقلاب کی بنیاد: کسان دوست پالیسیوں اور عملی اقدامات کی ضرورت

تجزیہ بی این پی
پاکستان کی معیشت میں زراعت کو بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ ملکی آبادی کا ایک بڑا حصہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر زرعی شعبے سے وابستہ ہے، جبکہ خوراک کی ضروریات پوری کرنے، صنعتوں کو خام مال فراہم کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافہ کرنے کے حوالے سے بھی زراعت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے زرعی شعبے کی ترقی، کسانوں کو سہولیات کی فراہمی اور روایتی طریقہ? کاشت کے بجائے جدید زرعی رجحانات کو فروغ دینے کے اقدامات ایک مثبت پیش رفت قرار دیے جا سکتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا اجرا بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس سے نہ صرف زیتون کی پیداوار بڑھانے بلکہ خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی، زرعی برآمدات کے فروغ اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان کو ہر سال خوردنی تیل کی درآمد پر تقریباً چار ارب ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ یہ رقم ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی درآمدی بل پر خاصا دباؤ ڈالتی ہے۔ ایسے میں اگر مقامی سطح پر زیتون، پام آئل، سورج مکھی اور دیگر تیل دار اجناس کی پیداوار بڑھائی جائے تو درآمدی ضرورت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم کا یہ مؤقف کہ درآمدی بل میں سالانہ صرف چار سو ملین ڈالر کی کمی بھی ایک بڑی کامیابی ہوگی، دراصل اس وسیع تر معاشی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت زرعی پیداوار کو صرف غذائی ضرورت تک محدود رکھنے کے بجائے اسے قومی معیشت کی مضبوطی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔
زیتون کی کاشت کے حوالے سے پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جو پیش رفت سامنے آئی ہے وہ اس امر کا ثبوت ہے کہ مناسب رہنمائی، جدید ٹیکنالوجی، بہتر تحقیق اور حکومتی سرپرستی کے ذریعے زرعی شعبے میں نئے امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ بلوچستان کے لورالائی، خیبر پختونخوا کے مردان اور پنجاب کے چکوال جیسے علاقوں میں کسانوں کی کامیابیاں اس بات کی واضح مثال ہیں کہ پاکستان کی مختلف جغرافیائی پٹیوں میں زیتون کی کاشت کو فروغ دینے کی خاصی گنجائش موجود ہے۔ ان کسانوں کی محنت اور تجربات کو قومی سطح پر اجاگر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ دوسرے کاشتکار ان کامیاب ماڈلز سے فائدہ اٹھا سکیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق حکومت کی جانب سے زراعت کے شعبے میں صرف اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے تربیت، تحقیق، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ پر توجہ دینا ایک قابلِ تحسین پالیسی سمت ہے۔ بالخصوص سو نوجوان زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیجنے کا اعلان اس اعتبار سے اہم ہے کہ یہ اقدام پاکستان میں زرعی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان نوجوانوں کو زیتون کی کاشت، پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور ویلیو چین کے مختلف شعبوں میں تربیت ملنے سے ملک کو ایسے ماہرین میسر آ سکتے ہیں جو مستقبل میں نہ صرف خود جدید منصوبے شروع کریں بلکہ دوسرے کسانوں کو بھی جدید طریقہ? کاشت سے روشناس کرا سکیں۔
زراعت کی ترقی کا اصل تقاضا یہی ہے کہ کسان کو پیداوار کے پورے عمل میں معاونت فراہم کی جائے۔ صرف بیج یا کھاد کی فراہمی کافی نہیں بلکہ کسان کو جدید زرعی تحقیق، موسمی معلومات، آبپاشی کی بہتر سہولیات، مشینی کاشت، معیاری زرعی ادویات، مناسب مارکیٹنگ اور منافع بخش قیمت کی ضمانت جیسے عوامل بھی درکار ہوتے ہیں۔ حکومت اگر وفاقی اور صوبائی سطح پر ان تمام شعبوں کو مربوط انداز میں آگے بڑھائے تو زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
اس حوالے سے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کسانوں کو سہولیات فراہم کریں گی۔ پاکستان جیسے وفاقی نظام میں زرعی پالیسی کی کامیابی کے لیے یہی مربوط طرزِ عمل ضروری ہے۔ صوبائی حکومتیں مقامی حالات، زمین کی نوعیت، پانی کی دستیابی اور علاقائی فصلوں کے مطابق منصوبہ بندی کر سکتی ہیں، جبکہ وفاق تحقیق، برآمدات، بین الاقوامی تعاون، مالیاتی پالیسی اور قومی سطح کے منصوبوں میں قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔
زیتون کی پیداوار کے حوالے سے اٹلی کے ساتھ تعاون بھی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ اٹلی دنیا میں زیتون کی کاشت، زیتون کے تیل کی تیاری، جدید پروسیسنگ، معیار بندی اور مارکیٹنگ کے حوالے سے وسیع تجربہ رکھتا ہے۔ پاکستان اور اٹلی کے درمیان پہلے ہی تجارتی اور صنعتی تعاون موجود ہے، اس لیے زرعی شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینا ایک دانش مندانہ اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستانی زرعی ماہرین اور نوجوان گریجویٹس جدید اطالوی تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور انہیں مقامی حالات کے مطابق استعمال کریں تو پاکستان نہ صرف اپنی مقامی ضرورت پوری کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں معیاری زیتون اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات برآمد کرنے کی پوزیشن میں بھی آ سکتا ہے۔
تاہم زرعی انقلاب صرف ایک فصل یا ایک منصوبے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے جامع زرعی اصلاحات ضروری ہیں۔ ملک میں پانی کے ضیاع کو روکنا، جدید آبپاشی نظام متعارف کرانا، غیر پیداواری زمینوں کو قابلِ کاشت بنانا، تحقیقاتی اداروں کو فعال کرنا، کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی، زرعی مشینری تک رسائی اور منڈیوں کے نظام کو شفاف بنانا ایسے اقدامات ہیں جو طویل مدت میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی فصلوں اور اقسام کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے جو کم پانی میں بہتر پیداوار دے سکیں۔
حکومت کی جانب سے پام آئل اور سورج مکھی کی کاشت کو فروغ دینے کی ہدایت بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ پاکستان اگر اپنی تیل دار اجناس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کر لے تو خوردنی تیل کی درآمدات پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی صنعت کو خام مال ملے گا، کسانوں کے لیے نئی آمدنی کے ذرائع پیدا ہوں گے اور دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔
زرعی شعبے میں ایک اور اہم پہلو ویلیو ایڈیشن ہے۔ پاکستان میں اکثر زرعی پیداوار خام شکل میں فروخت کر دی جاتی ہے، جس کے باعث کسان کو محدود آمدنی حاصل ہوتی ہے جبکہ پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کے مراحل سے پیدا ہونے والا بڑا منافع دیگر طبقات کو حاصل ہوتا ہے۔ اگر زیتون، پھلوں، سبزیوں، دودھ، گوشت اور دیگر زرعی مصنوعات کی مقامی سطح پر پروسیسنگ، پیکیجنگ اور برانڈنگ کو فروغ دیا جائے تو کسان کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے۔ اسی طرح پاکستانی زرعی مصنوعات عالمی معیار کے مطابق تیار کرکے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی خوش آئند امر ہے کہ وزیراعظم نے کسانوں، محققین اور ماہرین کی خدمات کو سراہا اور کامیاب کاشتکاروں کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ زرعی ترقی میں کسان بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کے بغیر کوئی پالیسی دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ حکومت کو چاہیے کہ کامیاب کسانوں کے تجربات کو دستاویزی شکل دے کر انہیں دوسرے علاقوں میں متعارف کرایا جائے۔ اس طرح ایک علاقے کی کامیابی پورے ملک کے لیے قابلِ تقلید ماڈل بن سکتی ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق** موجودہ حکومتی پالیسیوں کا مثبت پہلو یہ ہے کہ زرعی شعبے کو محض روایتی فصلوں کی پیداوار تک محدود رکھنے کے بجائے اسے جدید ٹیکنالوجی، تربیت، ویلیو ایڈیشن، برآمدات اور درآمدی متبادل کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ پالیسی تسلسل کے ساتھ جاری رہی اور اس کے ثمرات حقیقی معنوں میں کسان تک پہنچائے گئے تو پاکستان کی زرعی معیشت میں ایک نئی سمت پیدا ہو سکتی ہے۔
اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے درمیان ملاقات میں صوبے کے امور، ترقیاتی منصوبوں، سیاسی معاملات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ? خیال اور سیاسی رواداری و مشاورت قائم رکھنے پر اتفاق بھی ایک مثبت سیاسی پیش رفت ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ اور باہمی مشاورت ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ خصوصاً زراعت جیسے شعبے میں، جہاں صوبوں کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا باہمی تعاون قومی مفاد میں اہم نتائج دے سکتا ہے۔
پاکستان کو اس وقت ایسے معاشی شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جن میں خود انحصاری کے امکانات موجود ہیں۔ زراعت ان شعبوں میں سرفہرست ہے۔ ملک کے پاس وسیع زرعی رقبہ، مختلف موسمی خطے، محنتی کسان اور زرعی تحقیق کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو جدید تقاضوں کے مطابق منظم کیا جائے۔ اگر کسان کو مناسب سہولیات، بروقت رہنمائی، معیاری زرعی مداخل اور اس کی پیداوار کی مناسب قیمت ملے تو وہ نہ صرف ملکی غذائی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ قومی معیشت میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔حکومت کی موجودہ کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ عملدرآمد کے نظام کو بھی مضبوط کیا جائے۔ زرعی منصوبوں کی نگرانی، شفافیت، نتائج کی پیمائش اور کسانوں سے براہِ راست رائے لینا اس عمل کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ نجی شعبے، زرعی جامعات، تحقیقی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کو بھی مربوط انداز میں شامل کیا جائے تاکہ جدید علم اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں۔مجموعی طور پر پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا اجرا اور زرعی گریجویٹس کو جدید تربیت کے لیے اٹلی بھیجنے کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت زراعت کو معیشت کی بحالی اور خود انحصاری کے بڑے منصوبے کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی، زرعی برآمدات میں اضافہ، کسانوں کی آمدنی بہتر بنانا اور دیہی معیشت کو مضبوط کرنا ایسے اہداف ہیں جو بیک وقت قومی معیشت اور عام آدمی کے مفاد میں ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اقدامات کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر قومی پالیسی کے طور پر جاری رکھا جائے۔ حکومت اگر کسان دوست پالیسیوں کو مستقل مزاجی، شفافیت اور عملی معاونت کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے تو زرعی شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی کا ایک مضبوط انجن بن سکتا ہے۔ زیتون کی کاشت سے شروع ہونے والی یہ کوشش مستقبل میں دیگر فصلوں اور زرعی مصنوعات کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔ یوں ایک مربوط اور جدید زرعی حکمت عملی پاکستان کو خوردنی تیل سمیت کئی شعبوں میں خود کفالت کی طرف لے جانے کے ساتھ ساتھ قیمتی زرمبادلہ بچانے، روزگار بڑھانے اور کسان کو بااختیار بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.