تجزیہ بی این پی
سرکاری رہائش گاہیں کسی بھی حکومت کی جانب سے اپنے ملازمین کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولتوں میں شامل ہیں۔ ان کا مقصد سرکاری اہلکاروں کو دورانِ ملازمت مناسب رہائش مہیا کرنا، ان کے مالی بوجھ کو کم کرنا اور انہیں ذہنی آسودگی کے ساتھ فرائض کی انجام دہی کا موقع فراہم کرنا ہے۔ لیکن جب یہی رہائش گاہیں غیر قانونی قبضوں، قواعد کی خلاف ورزی، کرایوں کی عدم ادائیگی اور غیر مجاز ذیلی کرایہ داری کا شکار ہو جائیں تو یہ محض انتظامی غفلت کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ سرکاری وسائل کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور مستحق ملازمین کے بنیادی حقوق سے جڑا ایک اہم قومی مسئلہ بن جاتا ہے۔ سرکاری گھروں کی قلت کے باعث ہزاروں ملازمین برسوں اپنی باری کے منتظر رہتے ہیں، جبکہ دوسری جانب بعض افراد ان رہائش گاہوں پر اپنا حق نہ ہونے کے باوجود قابض رہتے ہیں۔ اس صورت حال کا خاتمہ کرنا حکومت کی انتظامی ذمہ داری بھی ہے اور عوامی وسائل کے منصفانہ استعمال کا تقاضا بھی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل اسٹیٹ کی جانب سے ملک کے 37 ہزار سرکاری گھروں میں سے تقریباً نصف میں کرایوں کی عدم ادائیگی اور غیر قانونی قبضوں کی نشاندہی نے اس مسئلے کی سنگینی کو نمایاں کیا ہے۔ سرکاری رہائش گاہوں کے انتظام و انصرام سے متعلق سامنے آنے والی یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ متعلقہ ادارے محض اعداد و شمار پیش کرنے اور اجلاسوں میں مسائل کی نشاندہی تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اس قومی اثاثے کو ناجائز استعمال سے محفوظ بنائیں۔ اگر سرکاری گھر کسی مستحق ملازم کو الاٹ کیا گیا ہے تو اسے قواعد کے مطابق استعمال ہونا چاہیے، اور اگر الاٹمنٹ کی مدت ختم ہو چکی ہے یا کسی دوسرے شخص نے اس پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق سرکاری رہائش گاہوں کی موجودہ صورت حال کو سمجھنے کے لیے ان ملازمین کی مشکلات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے جو برسوں سے اپنے حق کے منتظر ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں تقریباً 43 ہزار ملازمین سرکاری رہائش گاہوں کے حصول کے لیے رجسٹرڈ ہیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت میں دستیاب سرکاری گھروں کی تعداد تقریباً 17 ہزار 400 بتائی جاتی ہے۔ اس فرق سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رہائش گاہوں کی طلب اور دستیابی میں کتنا بڑا خلا موجود ہے۔ جب مستحق ملازمین کی ایک بڑی تعداد انتظار کی فہرست میں شامل ہو تو کسی بھی شخص کا غیر قانونی طور پر سرکاری گھر پر قابض رہنا یا اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنا قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔
سرکاری ملازمین کے لیے رہائش کا مسئلہ صرف ایک چھت کی دستیابی تک محدود نہیں۔ اسلام آباد جیسے مہنگے شہر میں کرایے کی بلند شرح، بچوں کی تعلیم، آمدورفت کے اخراجات اور روزمرہ ضروریات پہلے ہی ملازمین کی آمدن پر دباؤ ڈالتی ہیں۔ ایسے حالات میں سرکاری رہائش گاہ ان کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہوتی ہے۔ اگر یہ سہولت ان افراد کے قبضے میں رہے جو اس کے اہل نہیں، تو مستحق ملازمین کو اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ نجی رہائش پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اس کا اثر ان کے گھریلو بجٹ، معیارِ زندگی اور پیشہ ورانہ یکسوئی پر بھی پڑتا ہے۔ چنانچہ سرکاری گھروں کی غیر قانونی بندش یا استعمال کے خلاف کارروائی کو محض جائیداد کی واگزاری نہیں بلکہ ملازمین کے جائز حقوق کی بحالی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
اس مسئلے کی ایک اہم وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ بعض ملازمین ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سرکاری رہائش گاہیں خالی نہیں کرتے۔ سرکاری گھر کسی فرد کی مستقل ذاتی ملکیت نہیں ہوتا بلکہ مخصوص شرائط کے تحت دورانِ ملازمت فراہم کیا جاتا ہے۔ ملازمت ختم ہونے یا ریٹائرمنٹ کے بعد متعلقہ قواعد کے مطابق رہائش گاہ خالی کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کسی مخصوص صورت میں اضافی مدت کی اجازت دی گئی ہو تو اس کی بنیاد واضح ضابطوں پر ہونی چاہیے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص مقررہ مدت گزرنے کے باوجود گھر خالی نہیں کرتا تو متعلقہ ادارے کو قانونی طریق? کار اختیار کرتے ہوئے اسے واگزار کرانا چاہیے۔ قواعد کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے، خواہ متعلقہ شخص کسی اعلیٰ عہدے پر فائز رہا ہو یا کسی بااثر ادارے سے تعلق رکھتا ہو۔
یہاں ایک بنیادی سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری رہائش گاہیں غیر متعلقہ افراد کے قبضے میں کیسے چلی جاتی ہیں؟ اگر کسی گھر کی الاٹمنٹ ختم ہو چکی ہو تو اسے فوری طور پر خالی کیوں نہیں کرایا جاتا؟ اگر کرایہ ادا نہیں کیا جا رہا تو متعلقہ محکمے کی وصولی کا نظام حرکت میں کیوں نہیں آتا؟ اور اگر کوئی شخص سرکاری مکان کسی دوسرے فرد کو ذیلی کرایے پر دے کر مالی فائدہ حاصل کر رہا ہے تو اس کی نگرانی کس ادارے کی ذمہ داری ہے؟ ان سوالات کے جواب تلاش کیے بغیر مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔ صرف ناجائز قابضین کے خلاف کارروائی کافی نہیں، بلکہ ان انتظامی خامیوں کی بھی نشاندہی کرنا ہوگی جن کی وجہ سے سرکاری اثاثوں کا غلط استعمال جاری رہتا ہے۔
اس معاملے میں پولیس ملازمین کے سرکاری رہائش گاہوں پر مبینہ قبضے کی شکایات بھی خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل اسٹیٹ کی جانب سے وفاقی سرکاری گھروں پر پولیس کے قبضے کا ذکر کیا جانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملے کو متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں میو ہسپتال سے منسوب بعض فلیٹس پر پولیس اہلکاروں کے قبضے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ اگر کسی رہائش گاہ کی الاٹمنٹ کسی مخصوص محکمے کے ملازمین کے لیے کی گئی ہے تو دوسرے محکمے کے اہلکار اس پر قانونی اجازت اور باقاعدہ الاٹمنٹ کے بغیر قابض نہیں رہ سکتے۔ تاہم ہر معاملے میں متعلقہ ریکارڈ کی جانچ اور فریقین کا مؤقف معلوم کرنا ضروری ہے تاکہ قانونی حق رکھنے والے افراد کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔قانون نافذ کرنے والے اداروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کی پابندی کو یقینی بنائیں گے۔ اس لیے اگر پولیس یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کے اہلکاروں کے خلاف سرکاری رہائش گاہوں پر غیر قانونی قبضے کی شکایات درست ثابت ہوتی ہیں تو کارروائی میں کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت وفاقی اور صوبائی پولیس سربراہان کے ساتھ متعلقہ محکموں کو واضح اہداف دے سکتی ہے کہ وہ مقررہ مدت میں ایسے معاملات کی چھان بین مکمل کریں، غیر قانونی قبضوں کی تصدیق کریں اور قانون کے مطابق رہائش گاہیں واگزار کرائیں۔ اس عمل میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کی پیش رفت اور واگزار کرائے گئے گھروں کی تفصیلات بھی متعلقہ فورم پر پیش کی جانی چاہئیں۔
سرکاری رہائش گاہوں کے غیر قانونی استعمال کا معاملہ وفاق تک محدود نہیں۔ صوبائی حکومتوں، خودمختار اداروں، سرکاری ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر محکموں کی رہائش گاہوں کے بارے میں بھی جامع معلومات جمع کرنے کی ضرورت ہے۔ مختلف شہروں میں سرکاری ملازمین کے لیے تعمیر کیے گئے مکانات اور فلیٹس اگر برسوں تک اصل مقصد کے بجائے ذاتی فائدے کے لیے استعمال ہوتے رہیں تو اس سے عوامی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے اور متعلقہ اداروں کی انتظامی صلاحیت پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ اس لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر الگ الگ فہرستیں مرتب کرنے کے بجائے ایک مربوط نظام تشکیل دینا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، جس میں ہر سرکاری رہائش گاہ کی ملکیت، الاٹمنٹ، موجودہ قابض، قانونی حیثیت اور کرایے کی تفصیلات درج ہوں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ڈیجیٹل ریکارڈ سازی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ہر سرکاری مکان کو منفرد شناختی نمبر دیا جائے، اس کی الاٹمنٹ اور منتقلی کا مکمل ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو اور متعلقہ افسران کو مقررہ مدت پر معلومات کی تصدیق کا پابند بنایا جائے۔ اس نظام میں یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ کون سا مکان خالی ہے، کون سا زیرِ استعمال ہے، کس کی الاٹمنٹ کی مدت ختم ہو چکی ہے اور کس رہائش گاہ کے واجبات باقی ہیں۔ اس طرح نہ صرف غیر قانونی قبضوں کی نشاندہی آسان ہوگی بلکہ جعلی الاٹمنٹ، ریکارڈ میں ردوبدل اور غیر مجاز منتقلی کے امکانات بھی کم کیے جا سکیں گے۔ حکومت اگر دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرے تو نئی رہائش گاہوں کی تعمیر کے ساتھ موجودہ گھروں سے زیادہ سے زیادہ مستحق ملازمین کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔
سرکاری گھروں پر ناجائز قبضوں کے ساتھ ایک اور اہم مسئلہ ان رہائش گاہوں کو ذیلی کرایے پر دینے کا ہے۔ بعض علاقوں سے یہ شکایات سامنے آتی ہیں کہ سرکاری ملازمین کو الاٹ کیے گئے مکانات میں اصل الاٹی خود رہائش اختیار نہیں کرتے بلکہ انہیں نجی افراد کے حوالے کر کے بھاری کرایہ وصول کرتے ہیں۔ راولپنڈی کے علاقے سمہ آباد اور اس کے مختلف سیکٹروں میں بھی ایسے معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بعض سرکاری یا لاٹری کے ذریعے الاٹ شدہ مکانات پر نجی افراد قابض ہیں، جبکہ اصل الاٹی اپنے گھروں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ ان شکایات کی نوعیت اور قانونی حیثیت کی تصدیق متعلقہ ریکارڈ اور زمینی سروے کے ذریعے کی جانی چاہیے۔ اگر یہ ثابت ہو کہ کسی سرکاری مکان کو قواعد کے خلاف ذیلی کرایے پر دیا گیا ہے تو نہ صرف مکان واگزار کرایا جائے بلکہ واجب الادا کرایہ، جرمانے اور دیگر قانونی نتائج کا بھی تعین کیا جائے۔
اس ضمن میں سروے کا طریق? کار شفاف اور غیر جانب دار ہونا چاہیے۔ متعلقہ ہاؤسنگ اداروں، اسٹیٹ آفس، مقامی انتظامیہ اور ضرورت پڑنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کو باہمی رابطے سے شکایات کی جانچ کرنی چاہیے۔ جہاں سرکاری ریکارڈ میں بے ضابطگی، جعل سازی یا مالی فائدے کے لیے اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد ملیں، وہاں معاملہ متعلقہ تحقیقاتی ادارے کو بھیجا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی مکان کو ضبط کرنے یا الاٹمنٹ منسوخ کرنے سے پہلے قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہے۔ نوٹس، سماعت اور اپیل کا مناسب موقع فراہم کرنے سے کارروائی کی ساکھ مضبوط ہوگی اور حقیقی حق داروں کو تحفظ ملے گا۔سرکاری رہائش گاہوں کے کرایوں کی وصولی بھی فوری توجہ کی مستحق ہے۔ اگر کسی شخص نے طویل عرصے سے کرایہ ادا نہیں کیا تو متعلقہ محکمہ واجبات کی مکمل تفصیل مرتب کرے اور قواعد کے مطابق وصولی کا عمل شروع کرے۔ جہاں سرکاری ملازم کی تنخواہ سے قانونی طور پر واجبات کی کٹوتی ممکن ہو، وہاں مقررہ ضابطوں کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے، جبکہ ریٹائرڈ یا غیر متعلقہ قابضین کے معاملات میں دستیاب قانونی راستے اختیار کیے جائیں۔ واجبات کی وصولی کے لیے واضح مدت مقرر کرنا اور عدم ادائیگی کی صورت میں اگلے مرحلے کی کارروائی پہلے سے طے کرنا انتظامی مؤثریت میں اضافہ کرے گا۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وصول ہونے والی رقوم کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے تاکہ کسی قسم کی بدعنوانی یا مالی بے ضابطگی کی گنجائش باقی نہ رہے۔
حکومت کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ سرکاری رہائش گاہوں کی قلت دور کرنے کے لیے نئی تعمیرات کہاں ضروری ہیں اور موجودہ عمارتوں کی مرمت یا بہتر انتظام کے ذریعے کتنی اضافی رہائش دستیاب بنائی جا سکتی ہے۔ ہر شہر میں ملازمین کی تعداد، رہائش کی طلب، خالی مکانات اور انتظار کی فہرست کا تقابلی جائزہ لے کر ترجیحات مقرر کی جائیں۔ جن محکموں میں رہائش کی ضرورت زیادہ ہے، وہاں مستحق ملازمین کو قواعد کے مطابق ترجیح دی جائے۔ اسی طرح الاٹمنٹ کے معیار کو واضح، قابلِ فہم اور قابلِ جانچ بنانا ضروری ہے تاکہ کسی بااثر شخص کو ترجیح دینے یا مستحق ملازم کو نظرانداز کرنے کی شکایت پیدا نہ ہو۔ شفاف قرعہ اندازی، واضح میرٹ اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام اس سلسلے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
اس پورے معاملے میں احتساب کا دائرہ صرف غیر قانونی قابضین تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اگر کسی افسر نے دانستہ طور پر غیر مستحق شخص کو مکان الاٹ کیا، الاٹمنٹ ختم ہونے کے باوجود کارروائی نہیں کی، واجبات کی وصولی میں غفلت برتی یا سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کیا تو اس کی ذمہ داری بھی متعین ہونی چاہیے۔ ادارہ جاتی جواب دہی کے بغیر ایسے مسائل بار بار جنم لیتے رہیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہر متعلقہ محکمے سے باقاعدہ رپورٹ طلب کرے، غیر قانونی قبضوں کی تصدیق شدہ فہرست تیار کرے اور کارروائی کے نتائج کا جائزہ لے۔ اس عمل میں سیاسی وابستگی، محکمانہ تعلقات یا ذاتی اثرورسوخ کسی کے لیے رعایت کا سبب نہیں بننا چاہیے۔
یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ہر زیرِ استعمال سرکاری گھر غیر قانونی قبضے میں نہیں ہوتا۔ بعض رہائش گاہیں قواعد کے تحت توسیع شدہ مدت کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں اور بعض معاملات میں عدالت یا متعلقہ اتھارٹی کا حکم بھی موجود ہو سکتا ہے۔ اس لیے تمام مکانات کو ایک ہی نظر سے دیکھنے کے بجائے ان کی قانونی حیثیت کا انفرادی جائزہ لینا ضروری ہے۔ مؤثر کارروائی وہی ہوگی جو غیر قانونی قبضے کا خاتمہ کرے، سرکاری خزانے کے واجبات وصول کرے اور حقیقی حق داروں کو رہائش فراہم کرے، لیکن ساتھ ہی قانونی طریق? کار اور شہری حقوق کا احترام بھی یقینی بنائے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق سرکاری گھروں کے معاملے میں حکومت کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ انتظامی اصلاحات، قانون کی یکساں عمل داری اور عوامی وسائل کے منصفانہ استعمال کی مثال قائم کرے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جائے، متعلقہ پولیس سربراہان اور ہاؤسنگ اداروں کو واضح ذمہ داریاں سونپی جائیں، مقررہ مدت میں سروے مکمل کیا جائے اور ہر غیر قانونی قبضے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی کرایوں کی وصولی، ذیلی کرایہ داری کی روک تھام اور مستقبل میں الاٹمنٹ کی شفاف نگرانی کے لیے مستقل نظام قائم کیا جائے۔
سرکاری گھر کسی فرد کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ قومی وسائل کا حصہ ہیں، جنہیں عوامی خدمت اور سرکاری ملازمین کی جائز ضروریات پوری کرنے کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ ان کا تحفظ حکومت، متعلقہ اداروں اور انتظامی افسران کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہزاروں ملازمین اپنی باری کے انتظار میں ہیں تو کسی غیر مستحق شخص کو سرکاری رہائش گاہ پر مستقل قبضے کی اجازت دینا ان کے حق سے محرومی کے مترادف ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو وقتی مہم کے بجائے مستقل انتظامی اصلاح کا حصہ بنائے۔ غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ، واجبات کی وصولی، شفاف الاٹمنٹ اور ڈیجیٹل نگرانی ایسے اقدامات ہیں جن سے نہ صرف سرکاری اثاثوں کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ عوام کا اداروں پر اعتماد بھی بڑھے گا۔ قانون کی بالادستی اسی وقت مستحکم ہوتی ہے جب اس کا اطلاق ہر شخص پر یکساں ہو اور ریاست کے وسائل ان ہی مقاصد کے لیے استعمال ہوں جن کے لیے وہ مختص کیے گئے ہیں۔