Print & Digital Media

سیاسی مشاورت کا اصل مرکز عوامی مسائل اور معاشی استحکام ہونا چاہیے

تجزیہ بی این پی
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ایسی ملاقاتیں سیاسی جماعتوں کے اندر مشاورت، حکومتی حکمت عملی کی تشکیل اور ملکی معاملات پر قیادت کے باہمی تبادلہ? خیال کے لیے معمول کی سیاسی سرگرمی کا حصہ ہوتی ہیں، تاہم موجودہ حالات میں اس مشاورت کی اہمیت محض جماعتی امور یا اقتدار کے سیاسی معاملات تک محدود نہیں رہ سکتی۔ پاکستان اس وقت سیاسی، معاشی، انتظامی اور سماجی سطح پر ایسے چیلنجز سے دوچار ہے جن کا براہ راست اثر عام شہری کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکمران قیادت کی سیاسی مشاورت کا بنیادی محور عوامی مسائل کا حل، معاشی استحکام، بہتر حکمرانی اور ریاستی اداروں کی مؤثر کارکردگی بنے۔
وزیراعظم اور میاں نواز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ملک کی سیاسی صورت حال، وزیراعظم آزاد کشمیر کی نامزدگی اور پارٹی امور سمیت مختلف معاملات پر مشاورت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ موجودہ سیاسی ماحول میں حکمران جماعت کے قائدین کے درمیان باقاعدہ رابطہ اور مشاورت یقیناً ضروری ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کی توجہ اس وقت سیاسی عہدوں، جماعتی تنظیم اور اقتدار کی داخلی حکمت عملی سے زیادہ ان مسائل پر مرکوز ہے جو ان کے روزمرہ معمولات کو متاثر کر رہے ہیں۔ مہنگائی، بجلی کے بھاری بل، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، بے روزگاری، کاروباری مشکلات، کم ہوتی قوتِ خرید اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام آدمی کے لیے سب سے بڑے سوال بن چکے ہیں۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** حکومت کے لیے موجودہ وقت میں سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ وہ سیاسی استحکام کو عوامی اور معاشی استحکام کے ساتھ جوڑے۔ محض سیاسی مفاہمت یا جماعتی نظم و ضبط سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوں گے جب تک حکومت کی پالیسیوں کا مرکز عام شہری کی زندگی میں بہتری لانا نہ ہو۔ ایک مضبوط جمہوری نظام کی بنیاد صرف انتخابات، سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی سرگرمیوں پر نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل قوت عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے مسائل سننے اور حل کرنے کے بجائے سیاسی قیادت زیادہ تر اقتدار کی تقسیم، عہدوں اور سیاسی مخالفین کے معاملات میں مصروف ہے تو جمہوری نظام پر اعتماد کمزور ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
پاکستان میں مہنگائی نے گزشتہ برسوں کے دوران عام گھرانے کے مالی توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔ آمدن محدود ہو اور اخراجات مسلسل بڑھتے جائیں تو متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اشیائے خورونوش، بجلی، گیس، پٹرول، تعلیم، علاج اور سفری اخراجات میں اضافہ براہ راست گھریلو بجٹ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے وقتی ریلیف کے اعلانات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر مستقل بنیادوں پر قیمتوں کو قابو کرنے کے لیے مؤثر انتظامی نظام، مارکیٹ نگرانی اور پیداواری شعبوں میں اصلاحات ضروری ہیں۔
توانائی کا شعبہ بھی ملک کے معاشی مسائل کی بنیادی وجوہ میں شامل ہے۔ بجلی کے بلند نرخوں اور بھاری بلوں نے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ صنعت، تجارت اور زراعت کو بھی متاثر کیا ہے۔ صنعتی شعبے کے لیے مہنگی بجلی پیداواری لاگت بڑھاتی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں اور برآمدی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔ زراعت کے لیے توانائی کی بلند لاگت کسان کی پیداواری لاگت بڑھاتی ہے، جبکہ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بھاری بل آمدنی کا بڑا حصہ نگل جاتے ہیں۔ اس لیے توانائی کے مسئلے کا حل محض سبسڈی یا وقتی رعایت نہیں بلکہ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے پورے نظام میں بنیادی اصلاحات سے وابستہ ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے طویل المدت حکمت عملی اختیار کرے۔ بجلی چوری کی روک تھام، لائن لاسز میں کمی، تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے، پیداواری لاگت کم کرنے اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔ جب تک بجلی کے شعبے میں موجود بنیادی نقائص دور نہیں کیے جاتے، عام صارف کو مستقل اور قابلِ ذکر ریلیف فراہم کرنا مشکل رہے گا۔ اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ بھی معیشت اور عوامی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ حکومت کو عالمی منڈی کے اثرات کے ساتھ ساتھ اندرونی ٹیکس، محصولات اور قیمتوں کے نظام میں شفافیت کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔**تجزیہ بی این پی** یہ واضح کرتا ہے کہ معاشی استحکام صرف اعداد و شمار میں بہتری کا نام نہیں۔ حقیقی معاشی استحکام اس وقت پیدا ہوتا ہے جب قومی معیشت کی بہتری کے اثرات عام شہری تک پہنچیں۔ اگر مجموعی معاشی اشاریے بہتر ہوں لیکن عام آدمی کے لیے آٹا، دال، سبزی، بجلی، گیس، تعلیم اور علاج مسلسل مہنگا ہوتا جائے تو معاشی ترقی کا فائدہ عوام کی زندگی میں محسوس نہیں ہوگا۔ حکومت کو اقتصادی کامیابی کے پیمانے طے کرتے وقت صرف مالیاتی اعداد و شمار کے بجائے روزگار، قوتِ خرید، گھریلو آمدن، کاروباری سرگرمی اور بنیادی سہولتوں کی دستیابی کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔
ملک میں بے روزگاری بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے سیاسی مشاورت کے ایجنڈے میں مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش میں ہے۔ اگر معیشت میں نئی ملازمتیں پیدا نہ ہوں تو نوجوان طبقے میں مایوسی بڑھ سکتی ہے۔ حکومت کو نجی شعبے کے فروغ، صنعتی سرمایہ کاری، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی حوصلہ افزائی، فنی تعلیم اور جدید مہارتوں کے فروغ کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ سرکاری ملازمتیں محدود ہیں، اس لیے پائیدار حل یہی ہے کہ نجی شعبے کو مضبوط کیا جائے اور سرمایہ کاری کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں کاروباری طبقہ اعتماد کے ساتھ نئی صنعتیں اور منصوبے شروع کر سکے۔
گورننس میں بہتری بھی موجودہ مسائل کے حل کی بنیادی شرط ہے۔ پاکستان میں بہت سے مسائل وسائل کی مکمل عدم دستیابی کے بجائے انتظامی کمزوری، ناقص نگرانی، ادارہ جاتی عدم تعاون اور پالیسیوں کے کمزور نفاذ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ حکومت اگر اپنے انتظامی ڈھانچے کو زیادہ مؤثر، جواب دہ اور شفاف بنا دے تو محدود وسائل کے باوجود بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ، قیمتوں کی نگرانی، سرکاری اسپتالوں، تعلیمی اداروں، بلدیاتی نظام اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری براہ راست شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔
ٹیکس نظام میں اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو ایسے ٹیکس نظام کی ضرورت ہے جو منصفانہ، شفاف اور وسیع بنیادوں پر قائم ہو۔ جب ٹیکس کا بوجھ محدود طبقے پر زیادہ ہو اور معیشت کے بڑے حصے ٹیکس نیٹ سے باہر رہیں تو ریاست کے لیے عوام کو معیاری سہولتیں فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حکومت کو ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کے لیے پیچیدہ طریقہ? کار کم کرنا چاہیے۔ ٹیکس نظام میں اعتماد پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ شہری یہ محسوس کریں کہ ان سے وصول ہونے والی رقم تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، امن و امان اور دیگر بنیادی سہولتوں پر مؤثر انداز میں خرچ ہو رہی ہے۔
سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا بھی معاشی اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔ خسارے میں چلنے والے ادارے قومی خزانے پر مسلسل بوجھ بنتے ہیں، جبکہ ان کی ناقص کارکردگی سے عوام کو بھی مطلوبہ خدمات نہیں ملتیں۔ حکومت کو اصلاحات کے عمل میں سیاسی مصلحتوں کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ جہاں نجی شعبے کی شمولیت مؤثر ثابت ہو سکتی ہو وہاں مناسب ضابطہ کاری کے ساتھ اس راستے پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن ہر فیصلے میں ملازمین کے حقوق، عوامی مفاد اور خدمات کے معیار کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔سیاسی استحکام اور معاشی ترقی ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ سرمایہ کار ایسے ماحول کو ترجیح دیتے ہیں جہاں پالیسیوں میں تسلسل، قانون کی حکمرانی اور سیاسی پیش گوئی موجود ہو۔ مسلسل سیاسی کشمکش، اداروں کے درمیان تناؤ اور غیر یقینی صورت حال سرمایہ کاری کے فیصلوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے حکمران جماعت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی قوتوں کو کم از کم قومی معیشت، داخلی استحکام، دہشت گردی کے خاتمے اور عوامی فلاح کے بنیادی معاملات پر وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا لازمی حصہ ہے، لیکن قومی مفاد کے معاملات پر مسلسل محاذ آرائی ریاستی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے۔
میاں نواز شریف کی جانب سے اس امر پر زور دیا جانا کہ ملک مزید آئینی اور سیاسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا، موجودہ حالات میں قابلِ غور نکتہ ہے۔ پاکستان کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، کیونکہ معاشی اصلاحات کے لیے بھی تسلسل اور پالیسیوں کا استحکام ضروری ہے۔ تاہم سیاسی استحکام کا مطلب یہ نہیں کہ عوامی شکایات کو نظرانداز کیا جائے یا اختلافی آوازوں کو دبایا جائے۔ حقیقی استحکام اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب ریاستی ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں، سیاسی جماعتیں جمہوری اصولوں کی پاسداری کریں اور عوام کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جا رہا ہے۔
موجودہ حالات میں جماعت اسلامی کی جانب سے عوامی مسائل کے خلاف احتجاجی تحریک اور پہیہ جام ہڑتال کی حکمت عملی بھی حکومت کے لیے ایک سیاسی تنبیہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ حکومت کو احتجاج اور سیاسی مزاحمت کے امکانات کو محض انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ان کے بنیادی اسباب پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر عوام بجلی کے بل، مہنگائی، ٹیکسوں اور دیگر معاشی مشکلات سے پریشان ہیں تو ان کے مسائل کا سیاسی حل مذاکرات، پالیسی اصلاحات اور قابلِ عمل ریلیف میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ حکومت اور احتجاج کرنے والی سیاسی قوتوں کے درمیان بات چیت جمہوری نظام میں کشیدگی کم کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
عوامی احتجاج کسی بھی حکومت کے لیے یہ پیغام ہوتا ہے کہ معاشرے کے کسی حصے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اس بے چینی کو طاقت یا محض سیاسی بیانات کے ذریعے مستقل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے پالیسی کی سطح پر تبدیلی اور حکمرانی میں بہتری ضروری ہے۔ اگر حکومت عوامی مشکلات کو سمجھنے، ان کا ازالہ کرنے اور اپنی پالیسیوں کے نتائج واضح کرنے میں کامیاب ہو جائے تو سیاسی احتجاج کی شدت بھی کم ہو سکتی ہے۔ اسی لیے حکمران قیادت کو سیاسی مخالفین کے بیانات کا جواب دینے کے بجائے عوام کے سوالات کے عملی جواب دینے چاہییں۔
وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے لیے موجودہ مرحلہ ایک اہم سیاسی امتحان بھی ہے۔ عوام حکومت سے محض وعدے نہیں بلکہ نتائج چاہتے ہیں۔ انہیں یہ دیکھنا ہے کہ بجلی کے بلوں میں کس طرح کمی آتی ہے، روزگار کے مواقع کیسے بڑھتے ہیں، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں، سرکاری اداروں کی کارکردگی کیسے بہتر ہوتی ہے اور عام شہری کو ریاستی خدمات کتنی آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی حکومت کی مقبولیت اور سیاسی مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق** آج کی سیاسی مشاورت کا حقیقی امتحان یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں عوامی زندگی میں کیا بہتری آتی ہے۔ اگر قیادت کے درمیان ملاقاتیں صرف سیاسی عہدوں، پارٹی معاملات اور انتخابی حکمت عملی تک محدود رہیں تو ان کا دائرہ محدود رہے گا۔ لیکن اگر یہی مشاورت مہنگائی، توانائی، روزگار، تعلیم، صحت، ٹیکس اصلاحات، انتظامی بہتری اور معاشی ترقی کے جامع منصوبے میں تبدیل ہو جائے تو اس کے اثرات وسیع اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔
حکومت کو فوری طور پر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن سے عام شہری کو محسوس ہو کہ ریاست اس کی مشکلات سے آگاہ ہے۔ ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں کی مؤثر نگرانی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی، بجلی کے شعبے میں اصلاحات، کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہدفی ریلیف، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ جیسے اقدامات عوامی اعتماد بحال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ حکومت کو اپنے فیصلوں میں شفافیت اور تسلسل پیدا کرنا ہوگا تاکہ عوام اور کاروباری طبقہ دونوں مستقبل کے بارے میں اعتماد محسوس کریں۔
یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن ریاست اور عوام کا تعلق مستقل ہوتا ہے۔ کسی بھی حکومت کی کامیابی کا اصل معیار یہ نہیں کہ اس نے کتنے سیاسی مخالفین کو شکست دی یا کتنے سیاسی معاملات اپنے حق میں طے کیے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے دور میں عام شہری کی زندگی کس حد تک آسان ہوئی۔ جمہوریت کی اصل طاقت بھی یہی ہے کہ عوام اپنے نمائندوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے منتخب کرتے ہیں اور پھر ان کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔
لہٰذا وزیراعظم محمد شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی مشاورت کو وسیع تر قومی مشاورت کی سمت لے جایا جائے۔ میاں نواز شریف سمیت پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو ملک کی موجودہ معاشی اور سماجی صورت حال پر سنجیدہ غور کرتے ہوئے ایسی پالیسیوں کی تشکیل میں کردار ادا کرنا چاہیے جو عوام کو فوری اور مستقل ریلیف فراہم کر سکیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن عوامی مسائل پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ملک مزید سیاسی اور آئینی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا، لیکن اسی طرح عوام بھی مسلسل مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہے۔ حکمرانوں کو اس دوہرے چیلنج کو سمجھنا ہوگا۔ ایک طرف سیاسی استحکام قائم رکھنا ضروری ہے اور دوسری طرف عوامی اعتماد بحال کرنا بھی ناگزیر ہے۔ دونوں مقاصد ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ باہم مربوط ہیں۔ اگر حکومت عوام کو ریلیف دینے، معیشت کو مستحکم کرنے اور گورننس بہتر بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو سیاسی استحکام خود مضبوط ہوگا۔
آخرکار اقتدار کی اصل طاقت عوام کے اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔ آج ملک کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو نعروں سے زیادہ نتائج، الزام تراشی سے زیادہ اصلاحات اور جماعتی مفاد سے زیادہ قومی مفاد کو ترجیح دے۔ وزیراعظم اور میاں نواز شریف کی ملاقات اگر اسی سمت میں پالیسی سازی کا ذریعہ بنتی ہے تو یہ نہ صرف مسلم لیگ (ن) بلکہ پورے ملک کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں حکمران قیادت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ سیاسی مشاورت کا مرکز اقتدار کی سیاست ہوگی یا عوام کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ عوامی مسائل کو اولین ترجیح دی جائے، معیشت کو مضبوط بنایا جائے، توانائی کا بحران کم کیا جائے، روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں اور حکمرانی کے نظام کو مؤثر، شفاف اور جواب دہ بنایا جائے۔ یہی راستہ عوام کا اعتماد بحال کرنے اور پاکستان کو پائیدار سیاسی و معاشی استحکام کی طرف لے جانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.