Print & Digital Media

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی تنظیم نو: بہتر نظام، کم نقصانات اور عوامی ریلیف کی جانب اہم قدم

0

تجزیہ بی این پی
ملک میں توانائی کا شعبہ قومی معیشت اور عوامی زندگی دونوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ صنعت کا پہیہ ہو، کاروباری سرگرمیاں ہوں، زرعی پیداوار ہو، تعلیمی ادارے ہوں یا گھریلو زندگی، بجلی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی کے بغیر ترقی کا خواب شرمند? تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانا بھی ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے انتظامی مسائل، پرانے انفراسٹرکچر، لائن لاسز، بجلی چوری، ریکوری کے کمزور نظام اور بعض مقامات پر ناقص سروس کے باعث نہ صرف قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے بلکہ عام صارف بھی مشکلات کا شکار رہتا ہے۔ ایسے حالات میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی تنظیم نو کا فیصلہ ایک اہم انتظامی قدم قرار دیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے بنیادی مقاصد عوامی سہولت، نظام کی بہتری، شفافیت اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال سے وابستہ رہیں۔
کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کی جانب سے فیسکو، گیپکو اور ائیسکو کی تنظیم نو کے منصوبے کی منظوری اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت حکومت بجلی کے شعبے میں اصلاحات لانا چاہتی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بہتر انتظام، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر نگرانی اور مضبوط مالی نظم و نسق کے ذریعے زیادہ فعال بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے ڈسکوز کی نجکاری کے ارادے کے ساتھ تنظیم نو کا مرحلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی بھی بڑے ادارہ جاتی فیصلے سے قبل انتظامی ڈھانچے، مالی صورتحال اور سروس ڈیلیوری کے مسائل کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔تجزیہ بی این پی کے مطابق** بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں اصلاحات کا اصل مقصد صرف سرکاری اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس پورے عمل کا مرکز عام صارف ہونا چاہیے۔ اگر تنظیم نو کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی بہتر ہوتی ہے، لائن لاسز کم ہوتے ہیں، بجلی چوری کا سدباب ہوتا ہے، شکایات کا ازالہ تیز ہوتا ہے اور صارفین کو معیاری سروس دستیاب ہوتی ہے تو یہ اقدام ملکی معیشت کے لیے بھی مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کو اس موقع کو محض نجکاری کے عمل تک محدود رکھنے کے بجائے توانائی کے پورے تقسیم کار نظام میں دیرپا اصلاحات کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
پاکستان میں بجلی کی تقسیم کا موجودہ نظام کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ آبادی میں اضافے، شہروں کے پھیلاؤ، صنعتی ضروریات میں اضافے اور بجلی کے استعمال میں مسلسل اضافے کے مقابلے میں کئی علاقوں کا ترسیلی و تقسیمی انفراسٹرکچر مطلوبہ رفتار سے جدید نہیں ہو سکا۔ بہت سی بجلی کی لائنیں پرانی ہیں، بعض گرڈ اسٹیشنوں پر استعداد سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور کئی علاقوں میں ترسیلی نظام کی تکنیکی خامیاں بجلی کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں۔ نتیجتاً بجلی کی وہ مقدار جو پیدا ہونے کے بعد صارف تک پہنچنی چاہیے، اس کا ایک حصہ راستے میں ضائع ہو جاتا ہے۔
اس صورتحال کا ایک اہم پہلو بجلی چوری بھی ہے۔ بجلی چوری نہ صرف ایک قانونی جرم ہے بلکہ اس کا براہ راست بوجھ ایمانداری سے بل ادا کرنے والے صارفین اور قومی خزانے پر پڑتا ہے۔ حکومت کی جانب سے بجلی چوری کے خاتمے کے لیے کارروائیوں اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانا اس لیے ضروری ہے کہ توانائی کے شعبے میں پائیداری اسی وقت ممکن ہے جب بجلی کی پیداوار، ترسیل، تقسیم اور بلنگ کے تمام مراحل ایک مربوط نظام کے تحت کام کریں۔
حکومت اگر ڈسکوز کی تنظیم نو کر رہی ہے تو اسے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بنیادی ترجیح بنانا چاہیے۔ جدید میٹرنگ سسٹم، ڈیجیٹل بلنگ، ریموٹ مانیٹرنگ، خودکار فالٹ ڈٹیکشن اور جدید گرڈ مینجمنٹ سسٹم بجلی کے نقصانات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں بجلی کی تقسیم کے نظام کو جدید بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی اس سمت میں تیزی سے پیش رفت کی ضرورت ہے تاکہ بجلی کے نظام کو صرف روایتی انتظامی طریقوں پر منحصر رکھنے کے بجائے ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر چلایا جا سکے۔
اس حوالے سے حکومت کا غریب صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کا مقصد بھی نہایت اہم ہے۔ بجلی کے بل عام گھرانے کے ماہانہ بجٹ کا بڑا حصہ بن چکے ہیں، اس لیے توانائی کے شعبے میں ہونے والی ہر اصلاح کا آخری اور سب سے اہم فائدہ عام شہری تک پہنچنا چاہیے۔ اگر لائن لاسز کم ہوں، بجلی چوری پر قابو پایا جائے، ریکوری بہتر ہو اور تقسیم کار کمپنیوں کے انتظامی اخراجات میں کمی آئے تو اس کے مثبت اثرات پورے نظام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس طرح حکومت کے لیے بھی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی گنجائش پیدا ہو گی۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت بجلی کے شعبے میں محض وقتی اقدامات کے بجائے ساختی اصلاحات پر توجہ دے رہی ہے۔ تاہم اس عمل میں جلد بازی سے گریز بھی ضروری ہے۔ نجکاری ایک پیچیدہ عمل ہے اور اس کے اثرات طویل عرصے تک رہتے ہیں۔ اگر کسی ادارے کو نجی شعبے کے حوالے کرنے سے پہلے قومی خزانے سے غیر ضروری اخراجات کیے جائیں تو اس سے اصلاحات کا بنیادی مقصد متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے حکومت کو ہر فیصلے میں قومی مفاد، مالی شفافیت اور عوامی فائدے کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
ڈسکوز کی نجکاری کی صورت میں حکومت کو ممکنہ خریداروں کے لیے واضح شرائط مقرر کرنی چاہئیں۔ خریداروں کو محض ادارہ حاصل کرنے کا حق نہ دیا جائے بلکہ ان پر لازم کیا جائے کہ وہ مخصوص مدت کے اندر انفراسٹرکچر کو بہتر بنائیں، لائن لاسز میں کمی لائیں، بجلی چوری کے خاتمے کے لیے جدید نظام متعارف کرائیں اور صارفین کی شکایات کے فوری ازالے کا مؤثر طریقہ کار قائم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ سروس کے معیار کے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں تاکہ نجکاری کے بعد بھی حکومت اور متعلقہ ادارے کارکردگی کا جائزہ لے سکیں۔
ملازمین کا معاملہ بھی اس پورے عمل میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی ادارے کی تنظیم نو کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہزاروں ملازمین کو اچانک بے روزگار کر دیا جائے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کے پاس وسیع تجربہ اور مقامی نظام سے متعلق عملی معلومات موجود ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ تنظیم نو کے دوران ملازمین کے حقوق اور مستقبل کو نظرانداز نہ کرے۔ ضرورت کے مطابق تربیت، نئی ذمہ داریوں کی تقسیم، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور مناسب مالی پیکیج جیسے اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ اگر کسی مرحلے پر افرادی قوت میں کمی ناگزیر ہو تو باعزت طریقے سے ملازمین کو متبادل راستہ فراہم کرنا زیادہ مناسب ہو گا۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو بجلی کے صارفین کے لیے بھی مضبوط تحفظاتی نظام قائم کرنا چاہیے۔ نجی انتظام کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صارف کے مسائل بڑھ جائیں۔ بجلی کے بلوں میں غلطیوں، میٹر کی خرابی، طویل لوڈشیڈنگ، وولٹیج کے مسائل اور کنکشن سے متعلق شکایات کے لیے تیز رفتار اور شفاف نظام ہونا چاہیے۔ ہر صارف کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ اس کی شکایت مقررہ مدت کے اندر حل ہو اور اسے بار بار دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ ڈیجیٹل شکایتی نظام اور آن لائن ٹریکنگ اس سلسلے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے بجلی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ توانائی کا شعبہ جتنا مستحکم اور مؤثر ہو گا، صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں اتنی ہی بہتر ہوں گی۔ کاروباری طبقے کو مستحکم بجلی ملے گی تو پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، صنعت کی مسابقتی صلاحیت بہتر ہو گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اسی طرح کسانوں کے لیے بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی زرعی پیداوار اور آبپاشی کے نظام کو بھی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی تنظیم نو کو ملک کی مجموعی توانائی پالیسی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مستقبل میں شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں اور دیگر متبادل ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کے لیے تقسیم کار نظام کو جدید بنانا ضروری ہو گا۔ اگر بجلی کا موجودہ انفراسٹرکچر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوا تو نئی پیداوار کا مکمل فائدہ عوام اور معیشت تک پہنچانا مشکل ہو سکتا ہے۔
**تجزیہ بی این پی** یہ سمجھتا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی تنظیم نو حکومت کے لیے ایک ایسا موقع ہے جسے وسیع تر قومی اصلاحاتی پروگرام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل کو شفاف، مرحلہ وار اور قابلِ احتساب بنایا جائے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف ڈسکوز کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ بجلی کے شعبے کے دیرینہ مسائل بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔ حکومت کو یہ اصول واضح رکھنا چاہیے کہ قومی اثاثوں کی نجکاری کا مقصد صرف ملکیت کی منتقلی نہیں بلکہ عوام کو بہتر سہولیات، حکومت کو کم مالی بوجھ اور معیشت کو زیادہ مؤثر توانائی کا نظام فراہم کرنا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ فیسکو، گیپکو اور ا?ئیسکو کی تنظیم نو کے تجربے سے حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر دیگر تقسیم کار کمپنیوں کے لیے بھی مؤثر اصلاحاتی ماڈل تیار کیا جائے۔ جہاں کارکردگی بہتر ہو وہاں اس ماڈل کو وسعت دی جائے اور جہاں مسائل موجود ہوں وہاں ان کی وجوہات کا جائزہ لے کر اصلاحات کی جائیں۔ ہر علاقے کی انتظامی، جغرافیائی اور معاشی صورتحال مختلف ہے، اس لیے ایک ہی فارمولہ تمام علاقوں پر لاگو کرنے کے بجائے مقامی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔
حکومت کے لیے سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ اصلاحات کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں۔ اگر بجلی چوری کم ہو مگر صارف کے بل میں کوئی فرق نہ آئے، اگر لائن لاسز کم ہوں مگر سروس بہتر نہ ہو، یا اگر اداروں کی نجکاری ہو مگر صارفین کو پہلے سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو اصلاحات کے بنیادی مقاصد پورے نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر جدید نظام کے ذریعے بجلی کی ترسیل بہتر ہو، خرابیوں کا فوری ازالہ ہو، چوری اور غیر قانونی کنکشن ختم ہوں، بلنگ شفاف ہو اور کم آمدنی والے صارفین کو حقیقی ریلیف ملے تو یہ ایک کامیاب اصلاحاتی عمل تصور ہو گا۔
وزیراعظم پاکستان کی جانب سے غریب عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی پالیسی اسی صورت مؤثر ثابت ہو سکتی ہے جب توانائی کے شعبے کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں۔ بجلی کے شعبے میں مستقل بہتری کے لیے پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ ترسیل اور تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ پرانی لائنوں کی تبدیلی، گرڈ اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن، جدید میٹرنگ، بجلی چوری کے خلاف مؤثر کارروائی اور تقسیم کار کمپنیوں کی انتظامی کارکردگی میں بہتری ایسے اقدامات ہیں جو مستقبل میں عوامی ریلیف کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی تنظیم نو کو ایک مثبت اور دور رس اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ حکومت اگر اس عمل میں قومی خزانے کے تحفظ، ملازمین کے حقوق، صارفین کے مفادات، شفاف نجکاری، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر احتساب کو بنیادی اصول بنائے تو یہ اصلاحات ملک کے توانائی کے نظام میں نمایاں تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ پاکستان کو ایسے بجلی کے نظام کی ضرورت ہے جو صرف بجلی فراہم نہ کرے بلکہ قابلِ اعتماد، شفاف، جدید اور عوام دوست بھی ہو۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق** موجودہ حکومت کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ بجلی کے شعبے کی دیرینہ خرابیوں کو دور کرنے کے لیے مستقل بنیادوں پر اقدامات کرے۔ قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا، بجلی چوری کا خاتمہ، لائن لاسز میں کمی، پرانے انفراسٹرکچر کی تبدیلی اور عام صارف کو بہتر سروس کی فراہمی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہداف ہیں۔ اگر تنظیم نو اور نجکاری کے عمل کو واضح عوامی مفاد کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو اس کے مثبت نتائج نہ صرف بجلی کے شعبے بلکہ پوری قومی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک مضبوط، جدید اور مؤثر بجلی کا نظام ہی صنعتی ترقی، معاشی استحکام اور عام آدمی کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.