تجزیہ بی این پی
ڈیجیٹل دور نے جہاں زندگی کے بیشتر معاملات کو آسان، تیز اور سہل بنا دیا ہے، وہیں جرائم پیشہ عناصر نے بھی ٹیکنالوجی کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ملک بھر میں کوریئر کمپنیوں کے نمائندے بن کر شہریوں کو جعلی فون کالز کرنا، ڈیلیوری کے نام پر مخصوص کوڈ حاصل کرنا، ذاتی معلومات حاصل کرنا اور بعدازاں انہی معلومات کو لوٹ مار، بلیک میلنگ یا دھوکا دہی کے لیے استعمال کرنا ایک تشویشناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ مسئلہ محض چند شہریوں کے ساتھ ہونے والے فراڈ تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے شہریوں کی مالی سلامتی، نجی زندگی اور معاشرتی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ماضی میں جرائم پیشہ عناصر بینکوں کے نمائندے بن کر شہریوں کو فون کرتے اور ان سے اکاؤنٹ، اے ٹی ایم یا دیگر حساس معلومات حاصل کرکے جمع پونجی ہتھیا لیتے تھے۔ اس کے بعد فراڈ کا ایک نیا طریقہ سامنے آیا جس میں کسی شہری کو فون کرکے بتایا جاتا کہ اس کا کوئی عزیز قانون نافذ کرنے والے ادارے کی تحویل میں ہے اور اسے فوری رقم درکار ہے۔ جذباتی دباؤ اور خوف کے ذریعے شہریوں سے رقم وصول کی جاتی رہی۔ اب کوریئر سروس کے نام پر فراڈ کا طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے، جس میں بظاہر ایک معمولی ڈیلیوری کے معاملے کو بنیاد بنا کر شہری سے مخصوص کوڈ یا تصدیقی معلومات طلب کی جاتی ہیں۔
بظاہر یہ ایک معمولی فون کال محسوس ہوتی ہے لیکن اس کے پس پردہ انتہائی منظم مجرمانہ سرگرمی کارفرما ہو سکتی ہے۔ شہری کو بتایا جاتا ہے کہ اس کے نام پر کوئی پارسل موجود ہے، ڈیلیوری مکمل کرنے کے لیے ایک کوڈ درکار ہے، یا کسی پتے کی تصدیق ضروری ہے۔ شہری اکثر اس لیے بھی دھوکا کھا جاتا ہے کہ کوریئر کمپنیوں سے روزمرہ زندگی میں رابطہ ایک عام معاملہ بن چکا ہے۔ آن لائن خریداری، دستاویزات کی ترسیل، کاروباری سامان اور گھریلو اشیا کی ڈیلیوری کے باعث شہری ایسے فون کو غیر معمولی نہیں سمجھتا۔
یہی اعتماد جرائم پیشہ عناصر کا سب سے بڑا ہتھیار بن جاتا ہے۔ وہ گفتگو کے دوران شہری کا نام، موبائل نمبر، ممکنہ پتہ یا دیگر معلومات پہلے سے معلوم ہونے کا تاثر دیتے ہیں تاکہ کال حقیقی محسوس ہو۔ جب شہری اعتماد کر لیتا ہے تو اسے کسی مخصوص کوڈ، لنک یا تصدیقی عمل کے ذریعے ایسی معلومات فراہم کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے جو بعد میں مالی یا سماجی نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔ بعض صورتوں میں حاصل شدہ معلومات کو شہری کے رشتہ داروں یا دوستوں سے رقم مانگنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ بعض واقعات میں نجی معلومات کی بنیاد پر بلیک میلنگ بھی کی جاتی ہے۔
اس صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ شہری اکثر واردات کا نشانہ بننے سے پہلے اس خطرے کو پہچان ہی نہیں پاتا۔ عام شہری کے لیے یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ فون کرنے والا شخص حقیقی کوریئر نمائندہ ہے یا کسی منظم گروہ کا رکن۔ یہی وجہ ہے کہ محض شہریوں کو احتیاط کی تلقین کرنا کافی نہیں۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسا جامع اور فوری ردعمل کا نظام وضع کرنا ہوگا جس کے ذریعے فراڈ کی کوشش کو واردات بننے سے پہلے روکا جا سکے۔
شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی شہری کسی جعلی کال کے ذریعے دھوکے کا شکار ہوتا ہے تو اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ فوری طور پر کس ادارے سے رابطہ کرنا ہے، کس نمبر پر شکایت درج کرانی ہے اور کیا اقدام کیا جائے۔ اس وقت ایک عام شہری کے لیے مختلف اداروں کے دائرہ اختیار، شکایتی نظام اور رابطہ نمبروں کو سمجھنا آسان نہیں۔ نتیجتاً جب تک شکایت متعلقہ ادارے تک پہنچتی ہے، مجرم رقم حاصل کر چکے ہوتے ہیں یا شہری کی معلومات کو مزید نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سائبر فراڈ اور جعلی فون کالز کے لیے ایک مؤثر ہنگامی رابطہ نظام قائم کرے۔ ایسا نظام چوبیس گھنٹے فعال ہو اور شہری کسی مشکوک کال، پیغام، لنک یا کوریئر فراڈ کی فوری اطلاع دے سکیں۔ شکایت درج ہوتے ہی متعلقہ ادارے کو فوری کارروائی کا اختیار حاصل ہو تاکہ مشتبہ نمبر، اکاؤنٹ یا ڈیجیٹل سرگرمی کی نگرانی کی جا سکے۔ اگر کوئی شہری بروقت اطلاع دیتا ہے تو ممکن ہے کہ مجرم ابھی رقم وصول کرنے کے مرحلے میں ہو اور واردات کو وہیں ناکام بنایا جا سکے۔
اس سلسلے میں کوریئر کمپنیوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ تمام معروف کوریئر اداروں کو پابند کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے صارفین کو واضح طور پر بتائیں کہ کمپنی کا نمائندہ کن معلومات کا مطالبہ کر سکتا ہے اور کن معلومات کا ہرگز مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ کمپنیوں کو اپنے صارفین کو باقاعدگی سے ایس ایم ایس یا دیگر ذرائع سے آگاہ کرنا چاہیے کہ کسی غیر مصدقہ فون کال پر حساس معلومات، بینکنگ تفصیلات، تصدیقی کوڈ یا پاس ورڈ فراہم نہ کیا جائے۔
کوریئر کمپنیوں کے نام اور شناخت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بھی ایک مشترکہ نظام بنایا جا سکتا ہے۔ تمام رجسٹرڈ کوریئر کمپنیوں کے لیے ایک مرکزی تصدیقی نظام موجود ہو جس کے ذریعے شہری چند لمحوں میں یہ معلوم کر سکے کہ اسے موصول ہونے والی کال یا ڈیلیوری واقعی متعلقہ کمپنی کی جانب سے ہے یا نہیں۔ اگر کوئی شخص کمپنی کا نمائندہ بن کر شہری سے رابطہ کرے تو شہری سرکاری یا کمپنی کے مصدقہ ذریعے سے اس کی شناخت کی تصدیق کر سکے۔
اسی طرح موبائل فون کمپنیوں کو بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر مشکوک نمبروں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا چاہیے۔ بار بار فراڈ، بلیک میلنگ یا جعلی کالز میں استعمال ہونے والے نمبروں کی نشاندہی کرکے انہیں فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔ تاہم اس عمل میں قانونی تقاضوں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا بھی مکمل خیال رکھا جانا ضروری ہے تاکہ کسی بے گناہ شہری کا نمبر بلاجواز متاثر نہ ہو۔
بینکوں اور مالیاتی اداروں کی ذمہ داری بھی اس معاملے میں کم نہیں۔ اگر کسی شہری کو دھوکے سے رقم منتقل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو بینکنگ نظام میں ایسی مشکوک ٹرانزیکشنز کی فوری شناخت کا مؤثر طریقہ ہونا چاہیے۔ غیر معمولی نوعیت کی لین دین سامنے آنے پر صارف کو فوری اطلاع دی جائے اور مناسب قانونی طریقہ کار کے تحت مشتبہ رقم کو روکنے یا واپس حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ دنیا بھر میں مالیاتی فراڈ سے نمٹنے کے لیے فوری ردعمل کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، پاکستان میں بھی اسی اصول کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سائبر جرائم کے خلاف صرف شکایات موصول ہونے کے بعد کارروائی کرنے کی پالیسی سے آگے بڑھنا ہوگا۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے جرائم کے طریقہ کار، نمبرز، اکاؤنٹس، جعلی شناختوں اور گروہوں کی نشاندہی پہلے سے کی جا سکتی ہے۔ اگر مختلف اداروں کے پاس موجود معلومات کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ایک مربوط نظام کے ذریعے استعمال کیا جائے تو بہت سے جرائم واردات بننے سے پہلے روکے جا سکتے ہیں۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سائبر جرائم صرف مالی نقصان کا باعث نہیں بنتے بلکہ بعض اوقات شہریوں کی عزت، نجی زندگی اور ذہنی سکون کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔ کسی شخص کی ذاتی معلومات چوری کرکے اسے بلیک میل کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ ایسے معاملات میں متاثرہ شہری اکثر شرمندگی یا خوف کے باعث شکایت درج نہیں کراتا، جس سے مجرم مزید طاقتور اور بے خوف ہو جاتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو ایسا ماحول بھی پیدا کرنا چاہیے جہاں متاثرہ شہری بلاخوف اور رازداری کے ساتھ شکایت درج کرا سکے۔
اس مقصد کے لیے عوامی آگاہی مہم ناگزیر ہے۔ ٹیلی ویڑن، اخبارات، ریڈیو، سوشل میڈیا اور موبائل پیغامات کے ذریعے مسلسل آگاہ کیا جائے کہ کوریئر ڈیلیوری کے نام پر آنے والی مشکوک کالوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ شہریوں کو بتایا جائے کہ کسی غیر متعلقہ شخص کو حساس معلومات، تصدیقی کوڈ یا مالی تفصیلات فراہم نہ کریں۔ اسی طرح بچوں، بزرگوں اور کم ڈیجیٹل آگاہی رکھنے والے افراد کے لیے خصوصی آگاہی پروگرام ترتیب دیے جائیں کیونکہ یہ طبقات اکثر جعل سازوں کے آسان ہدف بن سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ قانون میں موجود خامیوں کا جائزہ لیا جائے اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ سائبر فراڈ کے مقدمات میں تحقیقات، ڈیجیٹل شواہد کے تحفظ اور ملزمان تک پہنچنے کے لیے ماہر اہلکاروں کی تعداد بڑھائی جائے۔ صرف مقدمہ درج کرنا کافی نہیں بلکہ شہری کو یہ اعتماد بھی ہونا چاہیے کہ ریاست اس کی شکایت کو انجام تک پہنچائے گی اور مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، بینکوں، موبائل کمپنیوں اور کوریئر اداروں کے درمیان مربوط رابطہ اس مسئلے کا مؤثر حل ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک مرکزی نظام کے ذریعے مشکوک نمبروں، جعلی کالز، فراڈ اکاؤنٹس اور شکایات کا ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ اس ڈیٹا کی مدد سے ایسے گروہوں کی شناخت ممکن ہوگی جو مختلف شہروں میں ایک ہی طریقہ واردات استعمال کر رہے ہیں۔ یوں کارروائی انفرادی شکایت تک محدود رہنے کے بجائے منظم جرائم کے خلاف وسیع سطح پر کی جا سکے گی۔
ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈیجیٹل معیشت صرف آن لائن خریداری، بینکاری اور کاروبار کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ شہریوں کی ڈیجیٹل سلامتی بھی ریاستی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ اگر شہریوں کو یہ خوف لاحق رہے کہ کسی بھی وقت ایک جعلی فون کال کے ذریعے ان کی جمع پونجی یا نجی معلومات چھینی جا سکتی ہیں تو ڈیجیٹل نظام پر اعتماد متاثر ہوگا۔ معاشی ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن کے ثمرات اسی وقت مکمل طور پر حاصل کیے جا سکتے ہیں جب شہریوں کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول بھی فراہم کیا جائے۔
لہٰذا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ ہے کہ کوریئر فراڈ سمیت تمام اقسام کے سائبر جرائم کے خلاف ایک جامع، مربوط اور فوری ردعمل کا نظام وضع کیا جائے۔ شہریوں کے لیے چوبیس گھنٹے فعال ہنگامی لائن قائم کی جائے، مشکوک نمبروں اور مالی لین دین کی فوری نگرانی کا طریقہ بنایا جائے، کوریئر کمپنیوں کو صارفین کی آگاہی کا پابند کیا جائے اور متاثرہ افراد کی شکایات پر فوری کارروائی یقینی بنائی جائے۔
ریاست کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ جرم کے بعد مجرم گرفتار ہو جائے بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ جرم ہونے سے پہلے شہری کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ کوریئر کے نام پر ہونے والے فراڈ کے بڑھتے واقعات حکومت کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں کہ اب روایتی طریقہ کار کافی نہیں۔ جدید جرائم کے مقابلے کے لیے جدید، تیز رفتار اور باہمی رابطے پر مبنی نظام ضروری ہے۔ شہریوں کی جان و مال، عزت اور نجی معلومات کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کسی تاخیر یا غفلت کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
کوریئر فراڈ کے بڑھتے واقعات
Prev Post