Print & Digital Media

فریال تالپور کے ذریعے پنجاب میں پیپلزپارٹی کی نئی صف بندی

0

تجزیہ بی این پی
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی آمد نے سیاسی جماعتوں کے لیے ایک مرتبہ پھر نچلی سطح پر اپنی تنظیمی قوت، عوامی رابطوں اور انتخابی حکمتِ عملی کو جانچنے کا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں پیپلزپارٹی کی جانب سے فریال تالپور کو پنجاب میں پارٹی کو فعال بنانے اور بلدیاتی انتخابات کی تیاری کا اہم ٹاسک دینا اس امر کی علامت ہے کہ پارٹی قیادت پنجاب کے سیاسی میدان میں اپنی موجودگی کو محض رسمی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک منظم انتخابی قوت میں تبدیل کرنے کی خواہاں ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے فریال تالپور کو یہ ذمہ داری سونپے جانے کے بعد پنجاب میں ان کی سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی ہے، جو مستقبل کی انتخابی حکمت عملی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔
فریال تالپور کی سیاسی سرگرمیوں کا بنیادی مرکز اس وقت پارٹی کی تنظیم نو، مقامی سطح پر رابطوں کی بحالی، بااثر سیاسی شخصیات کو جماعت میں شامل کرنے اور بلدیاتی انتخابات کے لیے ہر حلقے میں امیدوار کھڑے کرنے کی تیاری ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران انہوں نے پیپلزپارٹی وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب کی تنظیموں کے اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور پنجاب کی سیاسی صورت حال، تنظیمی کمزوریوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی۔ وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف، جنرل سیکرٹری حسن مرتضیٰ جبکہ جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود، جنرل سیکرٹری نتاشا دولتانہ اور عبدالقادر شاہین سمیت دیگر رہنماؤں سے ہونے والی مشاورت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پارٹی اب پنجاب میں انتخابی سیاست کو زیادہ سنجیدگی سے آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
بلدیاتی انتخابات کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے صرف نشستیں جیتنے کا مرحلہ نہیں ہوتے بلکہ یہ سیاسی تنظیم کی اصل طاقت کا امتحان بھی ہوتے ہیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں پارٹی کا بیانیہ اور مرکزی قیادت نمایاں کردار ادا کرتی ہے، لیکن بلدیاتی سطح پر امیدوار کا ذاتی تعلق، برادری، علاقے میں ساکھ، عوامی رابطہ، سماجی اثر و رسوخ اور مقامی مسائل سے آگاہی زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر پیپلزپارٹی پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں بھرپور انداز میں اترنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے سب سے پہلے ہر یونین کونسل، ہر وارڈ، ہر تحصیل اور ہر ضلع کی سطح پر سیاسی نقشہ دوبارہ مرتب کرنا ہوگا۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** فریال تالپور کو پنجاب میں متحرک کرنے کا فیصلہ اسی ضرورت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کی ذمہ داری محض جلسے جلوس کرنے یا پارٹی اجلاسوں تک محدود نہیں بلکہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ پارٹی کی تنظیمی مشینری کو نچلی سطح تک کس حد تک فعال کر پاتی ہیں۔ اگر ڈویڑن، ضلع اور تحصیل کی سطح پر پارٹی عہدیداروں کو متحرک کرکے مقامی سیاسی شخصیات سے رابطے بڑھائے جاتے ہیں اور ماضی میں پارٹی سے الگ ہونے والے کارکنوں و رہنماؤں کو دوبارہ منظم انداز میں واپس لایا جاتا ہے تو اس سے پیپلزپارٹی پنجاب میں اپنی سیاسی بنیاد کو کسی حد تک ازسرنو مضبوط کر سکتی ہے۔
پنجاب کی سیاست میں پیپلزپارٹی کا ماضی ایک مضبوط سیاسی روایت رکھتا ہے۔ ایک دور میں پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں میں پارٹی کی گہری جڑیں تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوا، نئی جماعتیں ابھریں، انتخابی ترجیحات بدلیں اور کئی علاقوں میں پیپلزپارٹی کی تنظیمی گرفت کمزور ہوئی۔ تاہم پارٹی کی سیاسی شناخت آج بھی موجود ہے اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں ایسے کارکن، خاندان اور سیاسی شخصیات موجود ہیں جن کے لیے پیپلزپارٹی کی سیاست اب بھی اہمیت رکھتی ہے۔ موجودہ حکمت عملی کی کامیابی کا انحصار اسی پر ہے کہ پارٹی اس موجودہ سیاسی سرمائے کو دوبارہ کس انداز میں منظم کرتی ہے۔
فریال تالپور کے لیے سب سے بڑا چیلنج پنجاب کے وسیع سیاسی میدان میں ایسے امیدوار تلاش کرنا ہوگا جو صرف پارٹی ٹکٹ کے امیدوار نہ ہوں بلکہ اپنے علاقوں میں واقعی انتخاب لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ بلدیاتی انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کسی بھی جماعت کے لیے انتہائی حساس مرحلہ ہوتی ہے۔ ایک حلقے میں کئی امیدوار پارٹی ٹکٹ کے خواہش مند ہو سکتے ہیں، مگر ٹکٹ صرف ایک کو ملنا ہوتا ہے۔ اگر امیدواروں کے انتخاب میں مقامی سیاسی وزن، عوامی مقبولیت، تنظیمی وابستگی، علاقے کی ضروریات اور انتخابی کامیابی کے امکانات کو سامنے رکھا جائے تو پارٹی مضبوط امیدوار سامنے لا سکتی ہے۔ دوسری صورت میں ٹکٹوں کی تقسیم خود تنظیمی اختلافات کا باعث بن سکتی ہے۔اسی لیے فریال تالپور کے سامنے صرف یہ ہدف نہیں کہ زیادہ سے زیادہ ٹکٹ تقسیم کیے جائیں بلکہ اصل مقصد ایسے امیدواروں کی تلاش ہونا چاہیے جو پیپلزپارٹی کے سیاسی پیغام کو عوام تک لے جانے کے ساتھ ساتھ اپنے حلقے میں مؤثر انتخابی مقابلہ بھی کر سکیں۔ پارٹی کے پرانے کارکنوں کو نظرانداز کیے بغیر نئے سیاسی چہروں کو موقع دینا بھی اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہوگا۔ خاص طور پر نوجوانوں، خواتین اور تعلیم یافتہ طبقے کو بلدیاتی سطح پر آگے لانے سے پارٹی اپنی سیاست کو نئے رنگ میں پیش کر سکتی ہے۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے ماضی میں جماعت چھوڑ کر جانے والے افراد کو واپس لانے کی کوشش بھی سیاسی اعتبار سے قابلِ توجہ ہے۔ سیاست میں جماعتیں صرف نعروں سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ کارکنوں، مقامی تنظیموں اور انتخابی نیٹ ورک سے طاقت حاصل کرتی ہیں۔ اگر کسی جماعت کے پاس امیدوار موجود نہ ہوں، پولنگ اسٹیشن کی سطح پر کارکن متحرک نہ ہوں اور مقامی سطح پر رابطے کمزور ہوں تو بڑی سے بڑی سیاسی مہم بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی۔ اس لیے سابق کارکنوں اور رہنماؤں کی واپسی پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو دوبارہ متحرک کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
تاہم یہاں ایک بنیادی سوال بھی موجود ہے کہ پارٹی میں واپس آنے والے افراد کو کس حیثیت سے اور کس حد تک ذمہ داریاں دی جائیں گی۔ پرانے کارکنوں کے جذبات اور نئے آنے والوں کی سیاسی ضرورت کے درمیان توازن قائم کرنا قیادت کے لیے اہم ہوگا۔ اگر نئے سیاسی افراد کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی تو پرانے کارکن بددل ہو سکتے ہیں، اور اگر صرف پرانے ڈھانچے پر انحصار کیا گیا تو نئی سیاسی قوت پیدا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس لیے فریال تالپور کو ایک ایسی متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں پارٹی کے وفادار کارکن بھی مطمئن رہیں اور نئے سیاسی امکانات بھی پیدا ہوں۔
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ہر حلقے میں امیدوار کھڑے کرنے کی ہدایت بھی پارٹی کے ارادوں کو واضح کرتی ہے۔ یہ ایک بڑا تنظیمی منصوبہ ہوگا کیونکہ پنجاب کے طول و عرض میں ہزاروں مقامی نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب، ان کے کاغذات نامزدگی، انتخابی رابطوں، پولنگ ایجنٹس، انتخابی دفاتر اور مقامی مہم کے انتظامات کے لیے ایک مربوط نظام درکار ہوگا۔ اگر پارٹی نے اس مرحلے پر تیاری میں تاخیر کی تو انتخابی میدان میں مضبوط امیدواروں کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کا راستہ مرکزی سطح کی سیاسی سرگرمیوں سے زیادہ مقامی سطح کے مسلسل رابطوں سے نکلتا ہے۔ فریال تالپور کا پنجاب کے ڈویڑن، ضلع اور تحصیل کی سطح پر دوروں کا منصوبہ اسی لیے اہم ہے کہ پارٹی قیادت اگر براہِ راست مقامی تنظیموں سے رابطہ کرے گی تو اسے تنظیمی کمزوریوں کا حقیقی اندازہ ہو سکے گا۔ کاغذی تنظیم اور فعال تنظیم میں بنیادی فرق یہی ہے کہ فعال تنظیم کے عہدیدار اپنے علاقے کے کارکنوں، ووٹرز اور مقامی سیاسی حالات سے مسلسل جڑے رہتے ہیں۔
فریال تالپور کی پنجاب میں متوقع سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہوگا کہ وہ پارٹی کی اندرونی تنظیم کو کس انداز میں ایک مشترکہ انتخابی مقصد کے گرد جمع کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں اختلافات اور گروپ بندی کوئی نئی بات نہیں، لیکن انتخابات کے قریب آنے کے بعد یہ اختلافات اگر انتخابی ٹکٹوں اور مقامی عہدوں کی تقسیم میں شدت اختیار کر جائیں تو جماعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے پارٹی قیادت کو ابتدا ہی سے واضح میرٹ، مشاورت اور تنظیمی نظم و ضبط کا نظام قائم کرنا ہوگا۔
پنجاب کے مختلف علاقوں کی سیاسی ضروریات بھی ایک جیسی نہیں۔ وسطی پنجاب کے شہری علاقوں میں مسائل کی نوعیت مختلف ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں سیاسی ترجیحات الگ ہیں۔ کہیں شہری سہولتیں، روزگار، ٹریفک، صفائی اور بنیادی ڈھانچہ اہم مسئلہ ہے تو کہیں زرعی معیشت، پانی، سڑکیں، صحت، تعلیم اور مقامی روزگار بنیادی مطالبات ہیں۔ پیپلزپارٹی اگر ہر علاقے کے لیے ایک ہی سیاسی پیغام استعمال کرے گی تو اس کے اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔ پارٹی کو مقامی مسائل کو سمجھ کر ان کے مطابق اپنا انتخابی پروگرام تشکیل دینا ہوگا۔
بلدیاتی اداروں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ عام شہری کا براہِ راست واسطہ اکثر قومی یا صوبائی حکومت سے نہیں بلکہ مقامی انتظامیہ اور بلدیاتی نمائندوں سے پڑتا ہے۔ گلیوں کی تعمیر، صفائی، نکاسی آب، پینے کے پانی، پارکوں، مقامی سڑکوں، بازاروں اور دیگر بنیادی سہولتوں کے معاملات شہریوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ اگر پیپلزپارٹی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے ایک واضح اور قابلِ عمل مقامی ترقیاتی پروگرام سامنے لاتی ہے تو اسے عوام کے ساتھ براہِ راست رابطے کا موقع مل سکتا ہے۔فریال تالپور کے لیے ایک اور اہم میدان پنجاب کے ان سیاسی خاندانوں اور بااثر شخصیات سے رابطہ ہوگا جو اپنے اپنے علاقوں میں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ہر ضلع میں سیاسی طور پر مضبوط اور بااثر شخصیات سے رابطوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ حکمت عملی روایتی انتخابی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ نظریاتی کارکنوں اور مقامی تنظیموں کے تحفظات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ انتخابی ضرورت اور تنظیمی اصولوں کے درمیان توازن برقرار رکھے۔
اگر فریال تالپور واقعی ایسے تمام حلقوں میں خود پہنچنے کا فیصلہ کرتی ہیں جہاں ان کی موجودگی ضروری سمجھی جائے تو یہ پارٹی کارکنوں کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہوگا۔ مرکزی قیادت کا کارکنوں سے براہِ راست رابطہ تنظیمی اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا اور مرکزی سطح کے بیانات تک محدود نظر آتی ہیں، فیلڈ میں جا کر کارکنوں سے ملاقاتیں کرنا ایک مختلف اور زیادہ مؤثر سیاسی انداز ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی اور انتخابی اکائی ہے۔ یہاں کسی جماعت کی مضبوطی کا اثر صرف صوبائی سیاست تک محدود نہیں رہتا بلکہ قومی سیاست کے توازن پر بھی پڑتا ہے۔ اگر پیپلزپارٹی بلدیاتی انتخابات کے ذریعے پنجاب میں اپنی تنظیمی بنیاد کو مضبوط بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو مستقبل کے عام انتخابات میں بھی اسے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ بلدیاتی سطح پر منتخب ہونے والے نمائندے بعد ازاں صوبائی اور قومی سیاست میں جماعت کے لیے ایک مستقل سیاسی نیٹ ورک تشکیل دے سکتے ہیں۔فریال تالپور کے سامنے اس لیے ایک طویل المدت سیاسی منصوبہ بھی موجود ہے۔ موجودہ سرگرمیوں کو صرف آئندہ بلدیاتی انتخابات تک محدود رکھنے کے بجائے اگر انہیں مستقل تنظیمی اصلاحات، کارکنوں کی تربیت، نوجوانوں کی شمولیت اور مقامی سطح پر عوامی رابطے کے پروگرام سے جوڑ دیا جائے تو پیپلزپارٹی پنجاب میں اپنی سیاسی موجودگی کو زیادہ پائیدار بنا سکتی ہے۔ بصورت دیگر انتخابات کے وقت اچانک سرگرمی بڑھانے سے وقتی فائدہ تو ممکن ہے مگر مستقل تنظیمی طاقت پیدا نہیں ہوگی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پارٹی ٹکٹوں کے لیے شفاف اور قابلِ فہم معیار مقرر کیا جائے۔ امیدواروں کی مقبولیت، انتخابی قابلیت، مقامی کردار، عوامی خدمت، پارٹی سے وابستگی اور علاقے میں ساکھ کو سامنے رکھا جائے۔ محض مالی وسائل یا سیاسی اثر و رسوخ کو ٹکٹ کا بنیادی معیار بنانا طویل مدت میں جماعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے امیدواروں کو ترجیح ملنی چاہیے جو کامیابی کے بعد بھی پارٹی کے منشور اور عوامی خدمت کے تصور سے وابستہ رہیں۔
پنجاب میں پیپلزپارٹی کی موجودہ حکمت عملی کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ پارٹی نے تنظیمی سرگرمیوں کو بلدیاتی انتخابات کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ اس سے کارکنوں کو ایک واضح سیاسی ہدف مل سکتا ہے۔ اگر پارٹی قیادت ضلع وار اہداف مقرر کرے، ہر تحصیل میں تنظیمی جائزہ لے، یونین کونسل کی سطح پر کارکنوں کا ڈیٹا مرتب کرے اور امیدواروں کی بروقت فہرستیں تیار کرے تو انتخابی تیاری زیادہ منظم ہو سکتی ہے۔آخرکار فریال تالپور کی پنجاب میں متحرک سیاسی موجودگی کو صرف ایک انتخابی مہم کے طور پر نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کی تنظیمی بحالی کے منصوبے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پنجاب میں پارٹی کو اگر دوبارہ مؤثر سیاسی قوت بننا ہے تو اسے کارکنوں، مقامی رہنماؤں، نوجوانوں، خواتین اور نئے سیاسی چہروں کو ایک مربوط پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہوگا۔ بلدیاتی انتخابات اس مقصد کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کر سکتے ہیں، کیونکہ یہاں عوام سے براہِ راست رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے اور مقامی سطح پر سیاسی اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** فریال تالپور کی اصل کامیابی اس وقت تصور ہوگی جب ان کی موجودہ سرگرمیاں صرف اجلاسوں، ملاقاتوں اور سیاسی رابطوں تک محدود نہ رہیں بلکہ پنجاب کے ہر ضلع میں ایک فعال، متحرک اور انتخابی طور پر تیار تنظیم وجود میں آئے۔ پارٹی کو ٹکٹوں کی تقسیم سے پہلے امیدواروں کی تلاش، کارکنوں کی تربیت، مقامی مسائل کی نشاندہی، انتخابی حلقوں کے سیاسی جائزے اور عوامی رابطہ مہم پر توجہ دینا ہوگی۔ اگر یہ تمام مراحل بروقت اور منظم انداز میں مکمل کیے جاتے ہیں تو پیپلزپارٹی پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں اپنی موجودگی کو نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی قومی و صوبائی سیاست کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد قائم کر سکتی ہے۔
فریال تالپور کے لیے پنجاب کا یہ سیاسی مشن آسان نہیں، لیکن سیاسی اعتبار سے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ایک طرف انہیں پارٹی کے پرانے کارکنوں کا اعتماد بحال کرنا ہے، دوسری طرف نئے سیاسی چہروں کو ساتھ ملانا ہے؛ ایک طرف بااثر شخصیات سے رابطے بڑھانے ہیں تو دوسری جانب تنظیمی اصولوں اور پارٹی نظم کو برقرار رکھنا ہے۔ اسی توازن میں ان کی سیاسی حکمت عملی کی کامیابی پوشیدہ ہے۔ اگر وہ ان تمام پہلوؤں کو ایک مربوط منصوبے میں ڈھالنے میں کامیاب رہتی ہیں تو پنجاب میں پیپلزپارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کا موجودہ مرحلہ محض بلدیاتی انتخابات کی تیاری نہیں رہے گا بلکہ یہ جماعت کی طویل المدت تنظیمی واپسی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
یوں دیکھا جائے تو پنجاب میں فریال تالپور کی سرگرمیاں پیپلزپارٹی کے لیے ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ہیں۔ ٹکٹوں کی بروقت تیاری، مضبوط امیدواروں کا انتخاب، سابق کارکنوں کی واپسی، بااثر شخصیات سے رابطے، ڈویڑن سے یونین کونسل تک تنظیمی ڈھانچے کی فعالیت اور عوامی مسائل کو انتخابی پروگرام کا حصہ بنانا وہ بنیادی عناصر ہیں جن پر پارٹی کی آئندہ کامیابی کا انحصار ہوگا۔ اگر قیادت نے ان اہداف کو محض اعلانات کے بجائے عملی منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھایا تو پنجاب کے بلدیاتی انتخابات پیپلزپارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی موقع ثابت ہو سکتے ہیں اور فریال تالپور کی موجودہ مہم پارٹی کی تنظیمی تاریخ میں ایک فیصلہ کن مرحلے کے طور پر یاد رکھی جا سکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.