تحریر: مولانا حافظ محمد صدیق مدنی چمن
معرکہ حق بنیان مرصوص پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا درخشاں باب ہے جس نے نہ صرف عسکری میدان میں ملک کی برتری کو ثابت کیا بلکہ قومی وحدت، نظریاتی استحکام اور عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ یہ معرکہ اس حقیقت کا عملی اظہار تھا کہ جب ایک قوم اپنے نظریے، ایمان اور اجتماعی شعور کے ساتھ متحد ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ یہ تاریخی کامیابی محض ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت قومی جدوجہد کا نتیجہ تھی جس میں عسکری حکمتِ عملی، سیاسی بصیرت، سفارتی مہارت اور عوامی اتحاد نے مل کر ایک ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار قائم کی جسے قرآنِ کریم کی اصطلاح میں بنیانِ مرصوص کہا گیا ہے۔ اس معرکے نے ثابت کیا کہ پاکستان ایک زندہ اور بیدار قوم ہے جو اپنی خودمختاری، سالمیت اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ افواجِ پاکستان نے اس معرکہ میں جس پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور قربانی کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین ہی نہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔ بری، بحری اور فضائی افواج نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے وطن عزیز کی سرحدوں کو محفوظ بنایا اور یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں ناقابلِ تسخیر ہیں۔ شہداء کا خون اس سرزمین کی بنیادوں کو مزید مضبوط کر گیا اور ان کی قربانیاں ہمیشہ قوم کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔ اس تاریخی کامیابی میں فیلڈ مارشل حافظ محمد عاصم منیر کی قیادت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی بصیرت افروز حکمت عملی، بروقت فیصلے اور مضبوط اعصاب نے اس معرکے کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے نہ صرف عسکری میدان میں بہترین قیادت فراہم کی بلکہ پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے بھی نظریاتی وابستگی اور قومی جذبہ ہی اصل قوت ہے۔ معرکہ حق نے بھارت کی قیادت بالخصوص بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ان عزائم کو بھی ناکام بنا دیا جو خطے میں بالادستی اور اکھنڈ بھارت کے تصور کے تحت پروان چڑھائے جا رہے تھے۔ پاکستان نے نہ صرف عسکری میدان میں برتری حاصل کی بلکہ سفارتی سطح پر بھی اپنی پوزیشن کو مضبوط بنایا جس کے نتیجے میں دشمن کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ سیاسی قیادت نے بھی اس معرکے میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے عالمی فورمز پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا اور بین الاقوامی برادری کو قائل کیا کہ پاکستان امن پسند ریاست ہونے کے باوجود اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہی متوازن پالیسی پاکستان کے عالمی تشخص کو مزید مضبوط بنانے کا سبب بنی۔ اس معرکے کی ایک نمایاں خصوصیت قومی اتحاد اور یکجہتی کا غیر معمولی مظاہرہ تھا۔ پاکستان کے کونے کونے سے عوام، علماء، مشائخ، طلبہ، خواتین اور نوجوان سب ایک آواز ہو کر اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ مساجد، مدارس، تعلیمی اداروں اور عوامی اجتماعات میں وطن کے دفاع کے لیے دعائیں کی گئیں اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ یہی اتحاد دراصل وہ طاقت ہے جس نے ہمیشہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا فروغ بھی اس معرکے کا اہم پہلو رہا۔ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اور دیگر مذاہب کے رہنماؤں نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر یہ پیغام دیا کہ پاکستان ایک متحد قوم ہے۔ یہ اتحاد نہ صرف داخلی استحکام کا ضامن ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ معرکہ حق بنیانِ مرصوص نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان صرف ایک دفاعی قوت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کردار ادا کرنے والی ریاست بھی ہے۔ کشمیر اور فلسطین جیسے اہم عالمی مسائل پر پاکستان کا اصولی مؤقف اس کی خارجہ پالیسی کی مضبوطی کا مظہر ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ مظلوم اقوام کی حمایت کی ہے اور عالمی امن کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ یہ فتح دراصل پاکستان کے نظریہ حیات کی بھی فتح ہے۔ دو قومی نظریہ جس کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا اس معرکے میں مزید مستحکم ہو کر سامنے آیا۔ قوم نے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے نظریے، اپنی شناخت اور اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر پورے ملک میں جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ تقریبات، سیمینارز اور کانفرنسز کے ذریعے افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور شہداء کی قربانیوں کو یاد کیا جا رہا ہے۔ یہ تقریبات نہ صرف ماضی کی کامیابیوں کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ مستقبل کے لیے عزمِ نو بھی فراہم کرتی ہیں۔ یہ معرکہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومی بقا اور ترقی کے لیے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کو اپنانا ناگزیر ہے۔ اگر قوم اور افواج ایک صفحے پر ہوں تو کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہی وہ پیغام ہے جو معرکہ حق بنیان مرصوص نے پوری قوم کو دیا ہے۔ معرکہ حق بنیانِ مرصوص صرف ایک جنگی کامیابی نہیں بلکہ ایک قومی بیداری کی علامت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان ایک عظیم مقصد کے تحت قائم ہوا تھا اور اس کی بقا اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے نظریات، اقدار اور قومی اتحاد کو برقرار رکھیں۔ افواجِ پاکستان اور ان کی قیادت کو سلام پیش کرتے ہوئے ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ وطن عزیز کے دفاع، ترقی اور استحکام کے لیے ہم ہمیشہ متحد رہیں گے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، ہماری افواج کو مزید قوت عطا فرمائے اور ہمیں اتحاد و اتفاق کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن رکھے۔ آمین






