شیخ مولانا محمد ادریس ترنگزئی مدظلہ العالیہ کی شہادت

0

تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی ۔۔۔ چمن

امتِ مسلمہ ایک عظیم علمی و روحانی سانحے سے دوچار ہو گئی ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئیؒ کی شہادت کی خبر نے دلوں کو غمگین اور آنکھوں کو اشکبار کر دیا ہے۔ یہ سانحہ نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پورے عالمِ دین، طلبہ، وابستگانِ مدارس اور ہر اس شخص کے لیے صدمہ ہے جو علمِ دین کی قدر و منزلت سے واقف ہے۔
5 مئی 2026 کو چارسدہ میں ایک افسوسناک واقعے میں اس عظیم علمی شخصیت کو ہم سے چھین لیا گیا۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد کی شہادت نہیں بلکہ ایک پورے علمی، فکری اور تربیتی نظام کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ چارسدہ سے لے کر پورے خیبر پشتونخوا تک فضا سوگوار ہو گئی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔ شیخ مولانا محمد ادریس ترنگزئیؒ ایک ایسے درخشندہ چراغ تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن و حدیث کی خدمت، درس و تدریس اور دین کی اشاعت میں بسر کی۔ وہ ایک جید عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مخلص استاد، بہترین مربی اور امت کے لیے عظیم محسن تھے۔ ان کی علمی خدمات، ان کی سادگی، ان کا اخلاص اور دین سے گہری وابستگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آپ 1961ء میں ضلع چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں ایک ایسے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے جہاں علم و فضل نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ آپ کے والد مولانا حکیم عبدالحق “مناظرِ اسلام” کے لقب سے معروف تھے جبکہ آپ کے دادا اور پردادا بھی اپنے وقت کے جید علماء میں شمار ہوتے تھے۔ یوں علمی وراثت نے آپ کی شخصیت میں وقار، سنجیدگی اور فکری پختگی پیدا کی۔ آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ آپ شیخ الحدیث مولانا محمد حسن جان شہیدؒ کے داماد تھے اور اس نسبت نے آپ کی علمی و روحانی حیثیت کو مزید جِلا بخشی۔ آپ نے 1983ء میں جامعہ نعمانیہ اتمانزئی چارسدہ میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور پھر دارالعلوم اسلامیہ تنگی سمیت مختلف مدارس میں حدیث کی کتب—صحیح بخاری، جامع ترمذی، صحیح مسلم اور مؤطا کی تدریس فرماتے رہے۔ بعد ازاں آپ دارالعلوم نعمانیہ میں شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کے منصب پر فائز ہوئے۔ مدرسہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے فراغت کے بعد آپ نے وہاں بھی درسِ حدیث دیا اور ہزاروں طلبہ کو علمِ حدیث سے فیضیاب کیا۔ تین دہائیوں پر محیط تدریسی خدمات نے آپ کو اپنے عہد کے نمایاں اساتذۂ حدیث میں شامل کر دیا۔ آپ کے ہزاروں شاگرد آج دنیا کے مختلف گوشوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں، جو یقیناً آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ سیاسی میدان میں بھی آپ ایک سنجیدہ، باوقار اور نظریاتی شخصیت تھے۔ 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور جمعیت علماء اسلام کی مرکزی و صوبائی مجلسِ شوریٰ کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ آپ کی شخصیت کا ایک نہایت روشن پہلو ان کا اعتدال، نرم مزاجی اور شائستگی تھی۔ آپ کے مزاج میں نہ شدت تھی، نہ تعصب اور نہ ہی فرقہ وارانہ تلخی؛ بلکہ آپ کی گفتگو میں حکمت، شفقت اور دل نشینی کا وہ اثر تھا جو سننے والوں کے دلوں میں گھر کر جاتا تھا۔ آپ محض ایک مدرس نہیں بلکہ ایک مصلح، مربی اور درد مند داعی تھے۔ حالیہ دنوں میں بعض سیاسی و سماجی معاملات پر آپ کو تنقید اور ناپسندیدہ رویوں کا سامنا بھی رہا مگر آپ نے ہمیشہ صبر، خاموشی اور وقار کا دامن تھامے رکھا۔ آپ کی خاموشی کمزوری نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی اور علمی متانت کی علامت تھی۔ شیخ مولانا محمد ادریس ترنگزئیؒ کی شہادت ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور جب وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ایک ایسا خلا چھوڑ جاتے ہیں جو کبھی پُر نہیں ہو پاتا۔ ان کی جدائی نے ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کر دیا ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے؟ کیا ہم دلیل کے بجائے نفرت اور مکالمے کے بجائے تصادم کی راہ پر گامزن ہو چکے ہیں؟ حضرت کی زندگی کا ہر لمحہ دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف تھا۔ انہوں نے ہزاروں طلبہ کی تربیت کی، انہیں علم کے زیور سے آراستہ کیا اور ان کے دلوں میں دین کی محبت پیدا کی۔ ان کی علمی میراث، ان کے دروس اور ان کے شاگرد ہمیشہ ان کا نام زندہ رکھیں گے۔ اہلِ ایمان کے لیے صبر اور اللہ رب العزت کی رضا پر راضی رہنا ہی اصل راستہ ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے مگر بعض شخصیات کی جدائی دلوں کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیتی ہے کیونکہ وہ اپنی ذات میں ایک ادارہ ہوتی ہیں۔ شیخ مولانا محمد ادریس ترنگزئیؒ بھی ایسی ہی ایک عظیم شخصیت تھے۔
ہم اللہ رب العزت کے حضور دست بدعا ہیں کہ وہ اس عظیم شہید کے درجات کو بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کی علمی و دینی خدمات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے پسماندگان، شاگردوں اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ہمیں ان کے مشن کو آگے بڑھانے، علمِ دین کی خدمت جاری رکھنے اور ان کے علمی ورثے کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ یہی ان کے لیے بہترین خراجِ عقیدت ہوگا۔ اللہ رب العزت مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں