3 مئی، عالمی یومِ صحافت کے موقع پر روزنامہ بلوچستان لائینز کی جانب سے ہم یہ اعتراف کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں صحافت جیسے ذمہ دار شعبے کے تقاضے مکمل طور پر پورے کرنا آسان نہیں رہا۔ ایک صحافی کا اصل کام سچ کو عوام تک پہنچانا اور معاشرے کی درست سمت میں رہنمائی کرنا ہوتا ہے، مگر زمینی حقائق اس راستے کو مشکل بنا دیتے ہیں۔
آج صحافت کو مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا ہے، جن میں اظہارِ رائے پر قدغنیں، قانونی مسائل، معاشرتی بے حسی اور سیاسی اثرات شامل ہیں۔ یہ وہ رکاوٹیں ہیں جو نہ صرف صحافیوں کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ معاشرتی شعور کی ترقی کو بھی سست کر دیتی ہیں۔
روزنامہ بلوچستان لائینز اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اگر صحافت کو آزاد اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تو یہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ اسی یقین کے ساتھ ہم محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود حقائق کو ذمہ داری کے ساتھ سامنے لانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس پیشے سے وابستہ کئی افراد نے سچ کی خاطر اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کیا۔ ان قربانیوں نے صحافت کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی، جس کی بدولت آج بھی یہ شعبہ زندہ ہے۔ تاہم موجودہ دور میں حقیقی اور بااصول صحافی اکثر سہولیات سے محروم رہتا ہے، جبکہ بعض حلقے اس پیشے کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔
اس کے باوجود، بلوچستان سمیت پورے ملک میں ایسے صحافی موجود ہیں جو خاموشی سے مگر مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ یہی لوگ دراصل اس پیشے کی اصل پہچان ہیں اور یہی مستقبل میں روشنی کی کرن ثابت ہوں گے۔
ہم اس دن کے موقع پر صحافتی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دیں اور اجتماعی جدوجہد کو جاری رکھیں۔ سچ کی طاقت دیرپا ہوتی ہے اور بالآخر یہی غالب آتی ہے۔
روزنامہ بلوچستان لائینز اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ ہر ممکن حد تک غیر جانبدار، ذمہ دار اور عوامی مفاد میں صحافت کو فروغ دیتا رہے گا۔
منجانب:
روزنامہ بلوچستان لائینز کوئٹہ
یومِ صحافت: بلوچستان میں سچ کی آواز، مشکلات کے باوجود جدوجہد جاری
0






