تجزیہ: بی این پی
پاکستان کی معاشی ترقی کا حقیقی سفر اس وقت مزید تیز ہو سکتا ہے جب ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، گھریلو صنعتوں، ہنر مند نوجوانوں اور باصلاحیت خواتین کو مالی وسائل تک آسان رسائی حاصل ہو۔ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کی زیرِ صدارت ہونے والا حالیہ اجلاس اسی مثبت سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس میں مسترد شدہ قرضوں کے ریکارڈ کا جائزہ لینے، قرضوں کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور اہل درخواست گزاروں کے لیے مالیاتی سہولتوں کو آسان بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ یہ پیش رفت نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرے گی بلکہ روزگار، پیداوار اور برآمدات کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔
پاکستان اس وقت ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے صرف بڑے صنعتی منصوبوں پر انحصار کافی نہیں بلکہ لاکھوں چھوٹے کاروباروں کو بھی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔ دنیا کی کامیاب معیشتوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاشی استحکام، روزگار کی فراہمی اور صنعتی ترقی میں سب سے زیادہ کردار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ادا کرتے ہیں۔ یہی کاروبار مقامی وسائل کو استعمال میں لاتے ہیں، نئی صنعتوں کی بنیاد رکھتے ہیں اور عام شہری کو باعزت روزگار فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان میں بھی ہزاروں ایسے نوجوان موجود ہیں جن کے پاس بہترین کاروباری منصوبے، فنی مہارت اور جذبہ موجود ہے، مگر مالی وسائل کی کمی ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اسی طرح لاکھوں خواتین گھریلو سطح پر دستکاری، سلائی، کڑھائی، خوراک کی تیاری، آن لائن خدمات اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو معاشی سرگرمی میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں، لیکن مناسب سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے خوابوں کو عملی شکل نہیں دے پاتیں۔ اگر حکومت اور مالیاتی ادارے ان طبقات کو آسان شرائط پر قرض فراہم کریں تو نہ صرف انفرادی زندگیوں میں خوشحالی آئے گی بلکہ قومی معیشت کو بھی نئی توانائی حاصل ہوگی۔
گزشتہ کئی برسوں سے یہ شکایت سامنے آتی رہی ہے کہ قرضوں کے حصول کا عمل پیچیدہ، وقت طلب اور سخت شرائط پر مبنی رہا، جس کے باعث بہت سے اہل افراد بھی مالی معاونت سے محروم رہ جاتے تھے۔ تاہم حکومت کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کے نظام کا ازسرِ نو جائزہ لینے اور مسترد شدہ درخواستوں کے اسباب کا تجزیہ کرنے کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ اب پالیسی سازی کو مزید شفاف، منصفانہ اور عوام دوست بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام اس اعتماد کو بھی مضبوط کرے گا کہ مالیاتی سہولتیں صرف چند مخصوص طبقات تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ہر اہل اور محنتی شہری کو ترقی کے مساوی مواقع میسر آئیں گے۔معاشی ماہرین کا بھی یہی مؤقف ہے کہ جب چھوٹے کاروبار مضبوط ہوتے ہیں تو قومی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، مقامی صنعت کو فروغ ملتا ہے اور درآمدات پر انحصار کم ہونے لگتا ہے۔ چھوٹے کارخانے، زرعی صنعتیں، دستکاری کے مراکز، خوراک کی تیاری، ٹیکنالوجی سے وابستہ نئے کاروبار اور گھریلو صنعتیں معیشت میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں حکومتیں اس شعبے کو خصوصی مراعات، آسان قرضے، ٹیکس میں سہولت اور تربیتی پروگرام فراہم کرتی ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ نوجوان آبادی کو معاشی قوت میں تبدیل کرے۔ ملک کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن کے پاس تعلیم، مہارت اور جدت پر مبنی خیالات موجود ہیں۔ اگر انہیں کاروبار شروع کرنے کے لیے مناسب مالی وسائل، رہنمائی اور آسان قرضے فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان مستقبل میں قومی معیشت کے مضبوط ستون ثابت ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف روزگار پیدا ہوگا بلکہ حکومت پر ملازمتیں فراہم کرنے کا دباؤ بھی کم ہوگا۔خواتین کی معاشی شمولیت بھی قومی ترقی کا ایک اہم ستون ہے۔ پاکستان میں بے شمار خواتین اپنی صلاحیتوں کے ذریعے گھریلو صنعتوں کو فروغ دے سکتی ہیں۔ اگر انہیں آسان مالی معاونت، تربیت اور منڈی تک رسائی فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان کی معاشی حالت بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ قومی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ کئی ممالک کی کامیابی کی داستانوں میں خواتین کاروباری شخصیات کا کردار نمایاں رہا ہے، اور پاکستان بھی اسی راستے پر کامیابی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی خوش آئند ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چھوٹے قرضوں کی واپسی کا تناسب بڑے قرضوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام کاروباری افراد اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ سنجیدگی سے نبھاتے ہیں اور قرض کی بروقت واپسی کو اپنی ساکھ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مالیاتی اداروں کو اس شعبے پر مزید اعتماد کرتے ہوئے قرضوں کے دائرہ کار کو وسعت دینی چاہیے۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ قرضوں کی تقسیم کے عمل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے تاکہ درخواست جمع کرانے سے لے کر منظوری تک تمام مراحل شفاف، تیز رفتار اور آسان بنائے جا سکیں۔ اگر درخواست گزار کو بروقت رہنمائی، واضح معلومات اور مقررہ مدت میں جواب ملے تو اعتماد میں اضافہ ہوگا اور غیر ضروری مشکلات بھی کم ہوں گی۔
حکومت اگر مالیاتی اداروں کے لیے یہ ہدف مقرر کرے کہ ان کے مجموعی قرضوں کا ایک معقول حصہ چھوٹے کاروباروں، نوجوانوں، خواتین اور دیہی صنعتوں کے لیے مختص ہوگا تو اس کے دور رس نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ کاروباری تربیت، مالی نظم و نسق، منڈی تک رسائی اور جدید مہارتوں کے پروگرام بھی متعارف کرائے جائیں تاکہ قرض لینے والے اپنے کاروبار کو کامیابی سے آگے بڑھا سکیں۔
زرعی شعبے سے وابستہ چھوٹے کاروبار بھی خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ زرعی مصنوعات کی پیکنگ، پروسیسنگ، ڈیری، شہد، پولٹری، باغبانی اور غذائی صنعتیں محدود سرمایہ سے بھی کامیابی کے ساتھ چلائی جا سکتی ہیں۔ اگر دیہی علاقوں میں آسان قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تو شہروں کی جانب نقل مکانی میں کمی آئے گی اور دیہی معیشت مضبوط ہوگی۔اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں کاروباری سوچ کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں میں کاروباری تعلیم، عملی تربیت اور کامیاب کاروباری شخصیات کے تجربات سے استفادہ نوجوان نسل کو خود روزگار کی طرف راغب کر سکتا ہے۔ جب نوجوان ملازمت کے متلاشی کے بجائے ملازمت فراہم کرنے والے بنیں گے تو معیشت کی رفتار مزید تیز ہوگی۔
پاکستان میں دستکاری، قالین بافی، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات، ملبوسات، زرعی مصنوعات اور گھریلو صنعتوں کے شعبے عالمی سطح پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ اگر ان شعبوں سے وابستہ چھوٹے کاروباروں کو آسان مالی سہولتیں فراہم کی جائیں تو برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا اور قومی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔یہ امر بھی اہم ہے کہ قرضوں کی تقسیم میں شفافیت اور میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ ہر اہل درخواست گزار کو یکساں مواقع حاصل ہوں۔ جب عوام کو یقین ہوگا کہ مالیاتی نظام انصاف، اعتماد اور شفافیت پر قائم ہے تو کاروباری سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوگا اور سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوگا۔
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی کی زیرِ صدارت ہونے والا حالیہ اجلاس اس عزم کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت ملک میں کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ اگر ان فیصلوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا، مالیاتی ادارے تعاون کریں، قرضوں کے حصول کا عمل آسان بنایا جائے اور نوجوانوں و خواتین کو خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں تو پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کا ایک نیا باب شروع ہو سکتا ہے۔مختصراً، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کسی بھی مضبوط معیشت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ یہی شعبہ روزگار پیدا کرتا ہے، غربت کم کرتا ہے، مقامی صنعت کو فروغ دیتا ہے اور قومی پیداوار میں اضافہ کرتا ہے۔ حکومت کا قرضوں کی فراہمی کو آسان بنانے کا عزم ایک خوش آئند اور دور اندیش قدم ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ پالیسی صرف اعلانات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آئے گی، تاکہ ہر محنتی نوجوان، ہر باصلاحیت خاتون اور ہر چھوٹا کاروباری اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کا سفر شروع کر سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مضبوط، خود کفیل، خوشحال اور ترقی یافتہ معیشت کی منزل کے قریب لے جا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
پاکستان میںقرضوں تک آسان رسائی۔ چھوٹے کاروبار، مضبوط معیشت اور روشن مستقبل
0






