زرعی انقلاب کی نئی سمت۔جدید ٹیکنالوجی، مؤثر قیادت اور قومی عزم سے خوشحال پاکستان کی بنیاد

زرعی انقلاب کی نئی سمت۔جدید ٹیکنالوجی، مؤثر قیادت اور قومی عزم سے خوشحال پاکستان کی بنیاد 0

تجزیہ بی این پی
پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے جن شعبوں کو ہمیشہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل رہی ہے، ان میں زراعت اور لائیو سٹاک سرفہرست ہیں۔ یہ دونوں شعبے نہ صرف کروڑوں پاکستانیوں کے روزگار کا ذریعہ ہیں بلکہ ملکی غذائی تحفظ، برآمدات، دیہی ترقی اور صنعتی پیداوار کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اگرچہ ان شعبوں کے فروغ کے لیے مختلف منصوبے اور ادارے قائم کیے گئے، لیکن ناقص منصوبہ بندی، اقربا پروری، کمزور انتظامی ڈھانچے اور جدید تحقیق سے دوری نے ان کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بے پناہ قدرتی وسائل رکھنے کے باوجود پاکستان اپنی حقیقی زرعی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہ اٹھا سکا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے زراعت اور لائیو سٹاک کے قومی سیمینار میں کیے گئے اعلانات اس لحاظ سے نہایت اہم ہیں کہ انہوں نے صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کی بلکہ ان کے عملی حل بھی پیش کیے۔ چین کے تعاون سے ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو جدید تربیت کے لیے بھیجنے، میرٹ کو یقینی بنانے، پاکستان اینیمل آئیڈینٹیفکیشن اینڈ ٹریس ایبلٹی سسٹم کے آغاز، ویکسین پروگرام کی مکمل حکومتی فنڈنگ اور زرعی تحقیق کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے جیسے اقدامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت زراعت کو محض روایتی شعبہ نہیں بلکہ قومی اقتصادی بحالی کے مرکزی ستون کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اگر یہ اصلاحات مستقل مزاجی، شفافیت اور میرٹ کے ساتھ جاری رہیں تو پاکستان آنے والے برسوں میں نہ صرف زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ عالمی زرعی تجارت میں بھی ایک مضبوط مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی معیشت میں زراعت تقریباً 23 فیصد حصہ رکھتی ہے جبکہ ملک کی تقریباً 37 فیصد افرادی قوت کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ دوسری جانب لائیو سٹاک زرعی شعبے کے ساٹھ فیصد سے زائد حصے اور قومی جی ڈی پی کے قریب چودہ فیصد کا نمائندہ ہے۔ پاکستان دنیا کے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ دودھ کی مجموعی پیداوار کا صرف چند فیصد حصہ ہی ویلیو ایڈیشن یا پروسیسنگ کے مراحل سے گزرتا ہے۔ اسی طرح گوشت کی عالمی منڈی، جس کا حجم اربوں ڈالر پر مشتمل ہے، وہاں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ جدید منصوبہ بندی، تحقیق، ٹیکنالوجی اور مؤثر مارکیٹنگ کا فقدان ہے۔
گزشتہ برسوں میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ غیر معمولی بارشیں، تباہ کن سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، پانی کی قلت اور زیر زمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح نے زرعی شعبے کو بری طرح متاثر کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ لائیو سٹاک بھی شدید گرمی، بیماریوں اور چارے کی قلت جیسے مسائل سے دوچار ہوا۔ یہ تمام عوامل اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان اب روایتی زراعت سے آگے بڑھ کر سائنسی، ڈیجیٹل اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ زرعی نظام کی طرف پیش قدمی کرے۔
دنیا اس وقت اسمارٹ ایگریکلچر کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈرون ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ مانیٹرنگ، سمارٹ سینسرز، خودکار آبپاشی، موسمیاتی پیشگوئی، ڈیجیٹل فارمنگ اور جدید بیجوں کی بدولت کئی ممالک نے اپنی زرعی پیداوار میں حیرت انگیز اضافہ کیا ہے۔ پاکستان میں بھی اگر یہی ٹیکنالوجیز مرحلہ وار عام کاشتکار تک پہنچا دی جائیں تو کم لاگت میں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔
ڈرپ اریگیشن اس کی بہترین مثال ہے۔ اس طریقے سے پانی کے استعمال میں نمایاں بچت کے ساتھ فصل کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ اسی طرح مٹی کے تجزیے، جدید سینسرز اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے کھاد اور زرعی ادویات کا استعمال ضرورت کے مطابق کیا جا سکتا ہے، جس سے اخراجات کم اور ماحول بھی محفوظ رہتا ہے۔وزیراعظم کی جانب سے زرعی گریجویٹس کو چین بھیجنے کا منصوبہ مستقبل کی سرمایہ کاری ہے۔ چین نے محدود قابلِ کاشت رقبے کے باوجود جدید تحقیق، مشینری اور زرعی اصلاحات کے ذریعے اپنی زرعی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ کیا۔ اگر پاکستانی نوجوان وہاں سے جدید مہارتیں سیکھ کر واپس آتے ہیں اور انہیں تحقیقاتی اداروں، یونیورسٹیوں اور عملی زرعی منصوبوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع دیا جاتا ہے تو یہ اقدام آنے والے برسوں میں زرعی انقلاب کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اسی طرح پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا منصوبہ بھی خوش آئند ہے۔ تحقیق کے بغیر کوئی بھی زرعی معیشت ترقی نہیں کر سکتی۔ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق نئی اقسام کے بیج، بیماریوں سے محفوظ نسلیں، جدید چارہ، بہتر ویکسین اور جدید فارمنگ ٹیکنالوجی تیار کرنے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔تجزیہ بی این پی یہ سمجھتا ہے کہ چین کے ساتھ تعاون یقیناً مفید ہے، تاہم پاکستان کو نیدرلینڈز، آسٹریلیا، برازیل، ترکی، نیوزی لینڈ اور دیگر ترقی یافتہ زرعی ممالک کے تجربات سے بھی بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔ نیدرلینڈز نے محدود زمین کے باوجود گرین ہاؤس فارمنگ اور جدید برآمدی نظام کے ذریعے دنیا کی دوسری بڑی زرعی برآمدی معیشت قائم کی۔ آسٹریلیا نے پانی کے مؤثر استعمال، جانوروں کی افزائش نسل اور ٹریس ایبلٹی سسٹم میں عالمی معیار قائم کیا جبکہ برازیل نے سائنسی تحقیق کے ذریعے بنجر زمینوں کو زرخیز زرعی خطوں میں تبدیل کر دیا۔ یہ تمام مثالیں پاکستان کے لیے قابل تقلید ہیں۔
پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ پر گزشتہ چند برسوں سے بحث جاری ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کے تقریباً پچاسی فیصد کسان چھوٹے کاشتکار ہیں۔ اس لیے ایسا ماڈل زیادہ مؤثر ثابت ہوگا جس میں چھوٹے کسان اپنی زمین کی ملکیت برقرار رکھتے ہوئے اجتماعی بنیادوں پر جدید مشینری، تحقیق، مارکیٹنگ اور سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھائیں۔ کوآپریٹو کارپوریٹ فارمنگ کا تصور اسی سمت ایک مؤثر حل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس نظام میں کسان اپنی زمین سے محروم ہوئے بغیر جدید زرعی سہولیات سے مستفید ہو سکتے ہیں، جبکہ سرمایہ کار بھی محفوظ ماحول میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
لائیو سٹاک کے شعبے میں بھی پاکستان کے پاس بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اگر جانوروں کی رجسٹریشن، ویکسینیشن، بیماریوں کی نگرانی، جدید افزائش نسل، چارہ پیداوار اور فوڈ پراسیسنگ پر توجہ دی جائے تو نہ صرف ملکی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں بلکہ حلال گوشت، دودھ، پنیر، دہی، مکھن اور دیگر مصنوعات کی برآمدات سے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
زرعی ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ نجی شعبے، جامعات، تحقیقی اداروں، کسان تنظیموں اور مالیاتی اداروں کو بھی ایک مشترکہ قومی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔ زرعی قرضوں کو آسان بنایا جائے، نوجوان زرعی کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے، خواتین کسانوں کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں اور ہر ضلع میں زرعی مشاورتی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ جدید معلومات براہ راست کسان تک پہنچ سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ صرف خام اجناس برآمد کرنے کے بجائے اگر انہیں پراسیسنگ، پیکنگ اور برانڈنگ کے بعد عالمی منڈیوں میں پیش کیا جائے تو برآمدی آمدنی کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ یہی حکمت عملی پاکستان کی اقتصادی خودمختاری کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
پاکستان کے نوجوان زرعی گریجویٹس، زرعی سائنسدان، انجینئرز اور ٹیکنالوجی ماہرین اس قومی مشن میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر انہیں تحقیق، اختراع اور کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ملک کو جدید زرعی معیشت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ زراعت اور لائیو سٹاک پاکستان کے لیے صرف معاشی شعبے نہیں بلکہ قومی ترقی، غذائی تحفظ، برآمدات، روزگار اور خود انحصاری کی بنیاد ہیں۔ اگر موجودہ اصلاحات تسلسل، شفافیت، میرٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں، تحقیق کو عملی نتائج سے جوڑا جائے، چھوٹے کسان کو قومی ترقی کا حصہ بنایا جائے اور عالمی تجربات سے مسلسل استفادہ کیا جائے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان دوبارہ ایک مضبوط زرعی معیشت کے طور پر دنیا میں اپنی منفرد شناخت قائم کرے گا۔قومی عزم، جدید تحقیق، سائنسی سوچ اور مؤثر حکمرانی کے امتزاج سے زراعت اور لائیو سٹاک نہ صرف پاکستان کی معاشی بحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں بلکہ ملک کو بیرونی قرضوں پر انحصار سے نکال کر پائیدار اقتصادی استحکام، خوشحالی اور خود کفالت کی نئی منزل تک بھی پہنچا سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں