تجزیہ بی این پی
صحت کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کی بنیادی ضمانت ہوتی ہے۔ جب ایک ملک کا طبی نظام محفوظ، جدید اور ذمہ دار ہو تو نہ صرف شہریوں کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے بلکہ قومی ترقی کی رفتار بھی تیز ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں کراچی میں آلودہ سرنجوں کے استعمال سے متعدد بچوں کے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کے واقعے پر سامنے آنے والی تحقیقاتی رپورٹ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ صحت کے شعبے میں مسلسل اصلاحات، مؤثر نگرانی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس تحقیقاتی رپورٹ میں ذمہ دار طبی عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش اس بات کی علامت ہے کہ احتساب کا عمل آگے بڑھ رہا ہے اور ادارے نظام کو بہتر بنانے کی سمت میں قدم اٹھا رہے ہیں۔
یہ پہلو نہایت اہم ہے کہ ایسے واقعات کو صرف ایک سانحہ سمجھ کر فراموش نہ کیا جائے بلکہ انہیں ایک ایسے موقع میں تبدیل کیا جائے جس کے ذریعے پورے طبی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کیا جا سکے۔ دنیا بھر میں کامیاب طبی نظام اسی اصول پر قائم ہیں کہ ہر واقعے سے سبق سیکھا جاتا ہے، خامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور مستقبل میں ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل پاکستان کے لیے بھی بہترین راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق کراچی میں پیش آنے والا واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ انفیکشن کنٹرول کے نظام، طبی عملے کی تربیت اور نگرانی کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر مکمل اور شفاف انداز میں عمل کیا جائے تو نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ صحت کے شعبے میں ایک مثبت تبدیلی کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں صحت کے شعبے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی مثبت اقدامات بھی سامنے آئے ہیں۔ جدید ہسپتالوں کا قیام، ڈیجیٹل ریکارڈ سسٹم، جدید طبی آلات کی فراہمی، حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام، اور طبی تعلیم کے معیار میں بہتری اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کامیابیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے اور انفیکشن کنٹرول کے شعبے کو قومی ترجیح قرار دیا جائے۔
ہر ہسپتال، کلینک اور طبی مرکز میں سرنجوں اور دیگر طبی آلات کے محفوظ استعمال کے لیے واضح اور سخت ضابطہ? کار موجود ہونا چاہیے۔ استعمال شدہ سرنجوں کی تلفی کے لیے جدید نظام، باقاعدہ نگرانی، اور ہر مرحلے پر ریکارڈ کی جانچ اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ کسی بھی مریض کی زندگی غیر ضروری خطرے سے دوچار نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے صرف قوانین کافی نہیں بلکہ ان پر مکمل عمل درآمد بھی ناگزیر ہے۔
طبی عملہ کسی بھی صحت کے نظام کا سب سے اہم ستون ہوتا ہے۔ ڈاکٹر، نرسیں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر متعلقہ افراد اگر جدید طبی اصولوں اور انفیکشن کنٹرول کے بین الاقوامی معیار سے مکمل طور پر آگاہ ہوں تو علاج کے معیار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں باقاعدہ تربیتی ورکشاپس، ریفریشر کورسز اور عملی مشقوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ ہر طبی کارکن اپنی ذمہ داری کو بہتر انداز میں انجام دے سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ نگرانی کے نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل انسپیکشن، اچانک معائنے، بایومیٹرک ریکارڈ، اور انفیکشن کنٹرول آڈٹ جیسے اقدامات ہسپتالوں میں معیار برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں یہی نظام کامیابی کے ساتھ نافذ ہیں اور انہی کی بدولت طبی غلطیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق احتساب اور تربیت ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ جہاں غفلت ثابت ہو وہاں قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب دیانت دار اور ذمہ دار طبی عملے کی حوصلہ افزائی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ سزا اور حوصلہ افزائی کا متوازن نظام ہی اداروں میں بہترین کارکردگی پیدا کرتا ہے۔
عوامی شعور بھی اس پورے عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگر شہری محفوظ سرنج کے استعمال، طبی صفائی اور مریض کے بنیادی حقوق سے آگاہ ہوں تو وہ اپنے علاج کے دوران زیادہ بااعتماد اور باخبر فیصلے کر سکتے ہیں۔ میڈیا، تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور محکمہ صحت مشترکہ طور پر ایسی آگاہی مہمات چلا سکتے ہیں جو معاشرے میں احتیاط اور ذمہ داری کے احساس کو فروغ دیں۔
حکومت کو چاہیے کہ ہر ضلع میں انفیکشن کنٹرول کمیٹیاں قائم کرے جو باقاعدگی سے ہسپتالوں کا جائزہ لیں، خامیوں کی نشاندہی کریں اور فوری اصلاحی اقدامات کو یقینی بنائیں۔ اسی طرح تمام طبی مراکز کے لیے سالانہ کارکردگی رپورٹ کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ عوام کو بھی معلوم ہو سکے کہ کون سے ادارے معیار پر پورا اتر رہے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی بھی اس سلسلے میں انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ، اور بارکوڈنگ سسٹم کے ذریعے طبی سامان کی نگرانی مزید شفاف بنائی جا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ انسانی غلطیوں کے امکانات بھی کم ہوں گے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ طبی تعلیم کے نصاب میں انفیکشن کنٹرول، مریضوں کے حقوق، طبی اخلاقیات اور حفاظتی اصولوں کو مزید مؤثر انداز میں شامل کیا جائے تاکہ نئے ڈاکٹر اور طبی کارکن عملی زندگی میں داخل ہونے سے پہلے ہی ان اصولوں سے مکمل طور پر واقف ہوں۔ ایک مضبوط تعلیمی بنیاد مستقبل کے محفوظ طبی نظام کی ضمانت ہوتی ہے۔
نجی شعبے کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ تمام نجی ہسپتالوں اور کلینکس کو بھی انہی معیارات کا پابند بنایا جائے جو سرکاری اداروں پر لاگو ہوتے ہیں۔ یکساں قوانین اور شفاف نگرانی پورے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔
پاکستان میں لاکھوں ڈاکٹر، نرسیں اور طبی کارکن انتہائی دیانت داری، محنت اور خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ انہی افراد کی خدمات کی بدولت صحت کا نظام مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ اس لیے چند انفرادی غفلتوں کو پورے شعبے کی شناخت نہیں بننا چاہیے بلکہ ایسے واقعات سے سبق سیکھ کر مجموعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کراچی سمیت ماضی کے دیگر واقعات ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ محفوظ طبی نظام صرف قوانین سے نہیں بلکہ ذمہ داری، تربیت، نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، عوامی شعور اور مؤثر احتساب کے امتزاج سے وجود میں آتا ہے۔ اگر تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے، طبی اداروں کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنایا جائے، اور ہر سطح پر مریضوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے تو پاکستان ایک ایسا طبی نظام قائم کر سکتا ہے جو عالمی معیار کے مطابق ہو، عوام کا اعتماد جیتے اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ، بااعتماد اور مثالی صحت کی سہولیات فراہم کرے۔ یہی وہ مثبت سمت ہے جسے اختیار کرکے ہم ایک صحت مند، محفوظ اور روشن پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محفوظ اور معیاری طبی نظام کے قیام کے لیے جامع اصلاحات ناگزیر
0






