کوئٹہ(سٹاف رپورٹر)بلوچستان اور ملک کے جنوبی و شمالی علاقوں کو جدید ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے منسلک کرنے کے لیے گوادر تا جیکب آباد ریلوے لائن منصوبے پر عملی پیش رفت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق منصوبے کا ابتدائی سروے مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ مجوزہ روٹ پر آنے والی اراضی کے مالکان کو ادائیگیوں کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے ذرائع کے مطابق یہ اہم ریلوے منصوبہ ساحلی شہر گوادر کو بلوچستان کے مختلف اہم اضلاع اور سندھ سے منسلک کرے گا۔
مجوزہ ریلوے لائن گوادر سے شروع ہو کر تربت، پنجگور، بسیمہ، خضدار سے گزرتی ہوئی جیکب آباد تک پہنچے گی، جس کے ذریعے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور خطے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے پیش نظر اس منصوبے کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
ریلوے لائن مکمل ہونے کے بعد گوادر پورٹ سے آنے اور جانے والے سامان کی ترسیل زیادہ تیز، محفوظ اور کم لاگت میں ممکن ہو سکے گی، جس سے کاروباری طبقہ اور صنعتکار بھی مستفید ہوں گے
ذرائع نے بتایا ہے کہ منصوبے کے تحت مختلف اضلاع میں زمین کے حصول کا مرحلہ جاری ہے۔
متعلقہ حکام کے مطابق سروے مکمل ہونے کے بعد متاثرہ زمین مالکان کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور شفاف طریقہ کار کے تحت معاوضوں کی ادائیگی بھی شروع کر دی گئی ہے تاکہ منصوبے پر تعمیراتی کام میں تاخیر نہ ہو گوادر تا جیکب آباد ریلوے لائن بلوچستان کے لیے معاشی گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے صوبے کے دور دراز علاقوں کو قومی ریلوے نظام سے منسلک کیا جائے گا۔
اس منصوبے سے نہ صرف مقامی آبادی کو سفری سہولیات میسر آئیں گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے سیپک حکام کا کہنا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو مقررہ وقت میں مکمل کرے گی تاکہ بلوچستان میں ٹرانسپورٹ، تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل سکیں حکام کے مطابق منصوبے کے اگلے مرحلے میں تعمیراتی کام، ٹریک بچھانے، اسٹیشنز کے قیام اور دیگر تکنیکی امور پر پیش رفت کی جائے گی، جبکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر بھی منصوبے کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی۔






