تجزیہ بی این پی
پاکستان کی معیشت اس وقت عالمی اور علاقائی سطح پر پیدا ہونے والے متعدد چیلنجز سے گزر رہی ہے، جن میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، سپلائی چین کے مسائل اور بین الاقوامی مالیاتی دباؤ نمایاں ہیں۔ ایسے حالات میں آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ نے پاکستان میں مہنگائی کی اوسط شرح 8.4 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جو اگرچہ حکومتی ہدف سے کچھ زیادہ ہے، تاہم مجموعی تناظر میں یہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ پاکستان اب بھی سنگل ڈیجٹ مہنگائی کی سطح برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے مثبت انداز میں دیکھنے اور مزید مضبوط معاشی اقدامات کے ذریعے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
عالمی معاشی حالات اس وقت تقریباً ہر ملک کے لیے آزمائش بنے ہوئے ہیں۔ روس۔یوکرین تنازع، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی تجارتی راستوں میں رکاوٹوں نے دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ کو بڑھایا ہے۔ پاکستان چونکہ ایک درآمدی معیشت ہے، اس لیے ان عوامل کے اثرات یہاں نسبتاً زیادہ محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے بروقت فیصلے، مالیاتی نظم و ضبط اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاشی استحکام کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ عالمی چیلنجز کو صرف خطرات کے طور پر نہیں بلکہ اصلاحات کے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا جائے۔ گزشتہ چند برسوں میں حکومت نے مالیاتی خسارے پر قابو پانے، زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے، ٹیکس نظام میں بہتری لانے اور برآمدات کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اگرچہ ان اصلاحات کے فوری نتائج عوام تک مکمل طور پر منتقل ہونے میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن ان کے طویل المدتی فوائد ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔
مہنگائی کا مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ترقی یافتہ معیشتوں میں بھی افراطِ زر نے مرکزی بینکوں کو شرح سود بڑھانے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں کاروباری لاگت اور صارفین کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔ پاکستان میں بھی بیرونی عوامل نے قیمتوں پر اثر ڈالا، لیکن حکومت نے ضروری اشیائے خورونوش کی فراہمی، درآمدی ایندھن کے ذخائر کو برقرار رکھنے اور مارکیٹ کی نگرانی کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے۔پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کے حوالے سے سامنے آنے والے خدشات کے بعد متعلقہ اداروں نے فوری طور پر ذخائر کا جائزہ لیا اور وزیراعظم کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات جاری کی گئیں۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت صرف صورتحال کا مشاہدہ نہیں کر رہی بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوامی مشکلات کو کم کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔
اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ مارکیٹ میں شفافیت کو مزید فروغ دیا جائے۔ ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت جیسے عوامل نہ صرف صارفین بلکہ مجموعی معیشت کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر ان عناصر کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی جاری رکھی جائے تو مہنگائی کے دباؤ کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
زرعی شعبہ بھی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر حکومت جدید زرعی ٹیکنالوجی، معیاری بیج، پانی کے بہتر استعمال اور کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی پر مزید توجہ دے تو خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، جس سے درآمدی انحصار کم اور مقامی منڈی میں قیمتوں میں استحکام آئے گا۔ یہی پائیدار ترقی کی بنیاد بھی ہے۔اسی طرح صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری، توانائی کے متبادل ذرائع کا فروغ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی حوصلہ افزائی بھی معاشی استحکام میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ حکومت کی حالیہ پالیسیوں میں مقامی صنعتوں کی ترقی، برآمدات میں اضافے اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ اگر ان پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے تو آنے والے برسوں میں معیشت مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکتی ہے۔
ڈیجیٹل معیشت کا فروغ بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ٹیکس وصولی کے نظام میں ڈیجیٹلائزیشن، آن لائن کاروبار، ایـکامرس اور جدید مالیاتی خدمات نہ صرف شفافیت میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان شعبوں پر توجہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق ایک اہم قدم ہے۔
یہ پاکستان کے لیے سب سے اہم حکمت عملی اندرونی معاشی مضبوطی ہے۔ جب مقامی پیداوار میں اضافہ ہوگا، برآمدات مستحکم ہوں گی، توانائی کے متبادل ذرائع استعمال ہوں گے اور مارکیٹ میں مؤثر نگرانی کا نظام قائم ہوگا تو عالمی بحرانوں کے اثرات خود بخود محدود ہو جائیں گے۔عوام بھی اس معاشی استحکام کے سفر میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ غیر ضروری خریداری سے گریز، مقامی مصنوعات کو ترجیح، ٹیکس قوانین کی پابندی اور توانائی کی بچت جیسے اقدامات قومی معیشت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ حکومت اور عوام کے درمیان تعاون کا یہی جذبہ ملک کو معاشی مشکلات سے نکال سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری کے کئی آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، برآمدی شعبے کی بحالی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ مستقبل کے لیے حوصلہ افزا اشارے ہیں۔ اگرچہ مہنگائی اب بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، لیکن مربوط پالیسیوں اور مستقل مزاجی کے ذریعے اس پر قابو پانا ممکن ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال یقیناً عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے، لیکن ہر بحران اپنے ساتھ نئے مواقع بھی لاتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ وقت مقامی صنعتوں کو فروغ دینے، زرعی خودکفالت حاصل کرنے، توانائی کے متبادل ذرائع اپنانے اور سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانے کا ہے۔ حکومت کی موجودہ کوششیں اسی سمت میں اہم پیش رفت تصور کی جا سکتی ہیں۔
آنے والے دنوں میں اگر وفاقی اور صوبائی ادارے باہمی تعاون سے مارکیٹ کی نگرانی، قیمتوں کے استحکام، ذخیرہ اندوزی کے خاتمے اور عوامی ریلیف کے اقدامات کو مزید مؤثر بنائیں تو نہ صرف مہنگائی کے اثرات کم ہوں گے بلکہ عوام کا اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان سے نمٹنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ مضبوط حکومتی پالیسی، مؤثر انتظامی اقدامات، نجی شعبے کی شمولیت، عوامی تعاون اور معاشی اصلاحات کا تسلسل وہ عوامل ہیں جو ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ضرورت مایوسی کی نہیں بلکہ امید، اجتماعی کاوش اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی ہے۔ اگر حکومت اپنی جاری معاشی اصلاحات، مارکیٹ ریفارمز اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں کو اسی تسلسل سے آگے بڑھاتی رہی تو پاکستان نہ صرف موجودہ معاشی دباؤ پر قابو پا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایک زیادہ مستحکم، مضبوط اور خود انحصار معیشت کے طور پر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
مہنگائی کے چیلنجز میں حکومتی حکمتِ عملی: معاشی استحکام کی جانب ایک مثبت پیش رفت
0






