سرسبز پنجاب، محفوظ مستقبل۔پانچ کروڑ درختوں کا عزم اور ماحولیاتی بحالی کی نئی سمت

سرسبز پنجاب، محفوظ مستقبل۔پانچ کروڑ درختوں کا عزم اور ماحولیاتی بحالی کی نئی سمت 0

تجزیہ بی این پی
پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، فضائی آلودگی، پانی کی قلت اور جنگلات کے تیزی سے سکڑتے ہوئے رقبے جیسے سنگین ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں ماہرین ماحولیات اس بات پر متفق ہیں کہ اگر قدرتی وسائل کے تحفظ اور جنگلات میں اضافے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے پنجاب بھر میں 54 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پانچ کروڑ درخت لگانے کا اعلان ایک مثبت، بروقت اور مستقبل بین اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق یہ منصوبہ محض شجرکاری مہم نہیں بلکہ پنجاب کے ماحول، معیشت، زراعت، آبی وسائل اور عوامی صحت کو بہتر بنانے کی ایک جامع حکمت عملی بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس پر مستقل مزاجی، شفافیت اور سائنسی بنیادوں پر عملدرآمد کیا جائے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سب سے زیادہ توجہ جنگلات کے فروغ اور سبز علاقوں میں اضافے پر دی ہے، کیونکہ درخت ہی وہ قدرتی ذریعہ ہیں جو ماحول کو متوازن رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ماحولیاتی اداروں کے مطابق کسی بھی ملک کے کم از کم 25 فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہونے چاہییں تاکہ موسمیاتی نظام متوازن رہ سکے، لیکن افسوس کہ پاکستان میں جنگلات کا تناسب تقریباً چار فیصد کے قریب ہے، جو نہ صرف عالمی معیار سے بہت کم ہے بلکہ مسلسل غیر قانونی کٹائی، شہری آبادی کے پھیلاؤ اور مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث مزید کم ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی آلودگی میں اس کا حصہ نہایت کم ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ماضی میں بھی مختلف حکومتوں نے شجرکاری مہمات کا آغاز کیا۔ کہیں لاکھوں اور کہیں کروڑوں درخت لگانے کے دعوے کیے گئے۔ تحریک انصاف کے دور میں بلین ٹری منصوبہ بھی اسی سلسلے کی ایک نمایاں مثال تھا، جبکہ موجودہ حکومت نے بھی خصوصاً پنجاب میں بڑے شہروں، پارکوں اور سڑکوں کے اطراف وسیع پیمانے پر درخت لگانے کے اقدامات کیے۔ لاہور سمیت متعدد شہروں میں آج بھی ان مہمات کے نتیجے میں لگائے گئے درخت موجود ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر منصوبہ بندی اور دیکھ بھال پر توجہ دی جائے تو شجرکاری کے مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم ماضی کے تجربات سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ صرف درخت لگانا کافی نہیں بلکہ ان کی بقا کو یقینی بنانا اصل کامیابی ہوتی ہے۔ کئی منصوبوں میں لاکھوں پودے لگائے گئے لیکن مناسب دیکھ بھال نہ ہونے، پانی کی کمی، جانوروں سے تحفظ نہ ملنے یا انسانی غفلت کے باعث ان کی بڑی تعداد ضائع ہو گئی۔ اس لیے اگر پانچ کروڑ درخت لگانے کے منصوبے کو حقیقی کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے تو ہر مرحلے پر نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، مقامی آبادی کی شمولیت اور شفاف نظام ناگزیر ہوگا۔
پنجاب میں 54 ہزار ایکڑ بنجر زمین کو سرسبز جنگلات میں تبدیل کرنے کا تصور یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ اس منصوبے کے نتیجے میں نہ صرف ماحول بہتر ہوگا بلکہ زیرزمین پانی کی سطح میں بہتری، مٹی کے کٹاؤ میں کمی، جنگلی حیات کے تحفظ اور مقامی آب و ہوا میں اعتدال پیدا ہونے کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے آکسیجن خارج کرتے ہیں، جس سے فضائی آلودگی کم ہوتی ہے اور انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
آج پنجاب کے بیشتر بڑے شہر فضائی آلودگی کے شدید مسئلے سے دوچار ہیں۔ لاہور کئی برسوں سے دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ سموگ کے باعث تعلیمی ادارے بند کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو محدود کرنے اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات دینا معمول بنتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں بڑے پیمانے پر شجرکاری ہی ایک ایسا قدرتی اور دیرپا حل ہے جو آنے والے برسوں میں سموگ کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی طرح درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ بھی شہری زندگی کو مشکل بنا رہا ہے۔ کنکریٹ کے جنگلات میں تبدیل ہوتے شہر شدید گرمی کا شکار ہیں۔ اگر سڑکوں، پارکوں، سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سایہ دار درخت لگائے جائیں تو شہری ماحول نمایاں طور پر بہتر ہو سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ شہروں نے شہری جنگلات (Urban Forests) کے تصور کو فروغ دے کر درجہ حرارت میں نمایاں کمی حاصل کی ہے۔
اس منصوبے کی ایک اور اہم جہت قومی شاہراہوں اور خصوصاً موٹر ویز کے اطراف شجرکاری ہے۔ پاکستان کی موٹر ویز سینکڑوں کلومیٹر پر محیط ہیں اور ان کے دونوں اطراف وسیع خالی رقبہ موجود ہے۔ اگر ان راستوں کے ساتھ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں درخت لگائے جائیں تو نہ صرف ملک کا سبز رقبہ بڑھے گا بلکہ شاہراہوں پر سفر کرنے والوں کو بھی بہتر ماحول میسر آئے گا۔ مزید یہ کہ موٹر ویز کے اطراف حفاظتی نظام پہلے سے موجود ہونے کی وجہ سے ان درختوں کی حفاظت نسبتاً آسان ہوگی۔
جنگلات کے تحفظ کے لیے صرف محکمہ جنگلات پر انحصار کافی نہیں ہوگا بلکہ موٹروے پولیس، ضلعی انتظامیہ، مقامی حکومتوں، تعلیمی اداروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو بھی اس قومی مہم کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ جب عوام خود اس منصوبے کو اپنا سمجھیں گے تو اس کے نتائج کہیں زیادہ مؤثر ہوں گے۔
تعلیمی ادارے بھی اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ہر طالب علم کو ایک یا دو درخت لگانے اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دی جائے تو چند برسوں میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں درخت محفوظ کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ہر سرکاری اور نجی ادارے کے لیے سالانہ شجرکاری کا ہدف مقرر کیا جا سکتا ہے تاکہ یہ مہم صرف حکومتی منصوبہ نہ رہے بلکہ ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کر لے۔
زراعت کے شعبے میں بھی شجرکاری کے بے شمار فوائد ہیں۔ درخت مٹی کی زرخیزی برقرار رکھتے ہیں، بارشوں کے پانی کو محفوظ بنانے میں مدد دیتے ہیں، فصلوں کو تیز ہواؤں سے بچاتے ہیں اور حیاتیاتی تنوع کو فروغ دیتے ہیں۔ پھلدار اور مقامی اقسام کے درخت دیہی معیشت کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں اور کسانوں کے لیے اضافی آمدنی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی فوائد بھی اس منصوبے کا اہم پہلو ہیں۔ نرسریوں کے قیام، پودوں کی تیاری، شجرکاری، آبپاشی، نگرانی اور جنگلات کی دیکھ بھال کے دوران ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ دیہی علاقوں میں یہ منصوبہ مقامی معیشت کو متحرک کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی یہ سمجھتا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ضروری ہے۔ ہر شجرکاری سائٹ کی جیو ٹیگنگ، سیٹلائٹ مانیٹرنگ، ڈرون سرویلنس اور آن لائن ڈیٹا بیس کے ذریعے عوام کو بھی منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ رکھا جا سکتا ہے۔ اس سے شفافیت بڑھے گی اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کے امکانات کم ہوں گے۔یہ بھی ضروری ہے کہ صرف تعداد پر توجہ نہ دی جائے بلکہ مقامی آب و ہوا سے مطابقت رکھنے والی اقسام کا انتخاب کیا جائے۔ ایسے درخت لگائے جائیں جو کم پانی میں بھی نشوونما پا سکیں، مقامی ماحول سے ہم آہنگ ہوں اور طویل عرصے تک زندہ رہ سکیں۔ مقامی انواع نہ صرف بہتر افزائش پاتی ہیں بلکہ حیاتیاتی تنوع کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پنجاب حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے کے ساتھ غیر قانونی جنگلات کی کٹائی کے خلاف بھی سخت کارروائی کرے۔ اگر ایک طرف نئے درخت لگائے جائیں اور دوسری طرف پرانے جنگلات ختم ہوتے رہیں تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔ اس لیے جنگلات کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد، جدید نگرانی کا نظام اور مؤثر سزائیں ناگزیر ہیں۔
نجی شعبے کو بھی اس قومی مہم میں شامل کیا جانا چاہیے۔ صنعتیں، بینک، کاروباری ادارے اور کارپوریٹ کمپنیاں اپنی سماجی ذمہ داریوں کے تحت شجرکاری منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں تو حکومت پر مالی بوجھ بھی کم ہوگا اور منصوبے کی رفتار بھی تیز ہو سکے گی۔
پاکستان کو مستقبل میں پانی، خوراک، ماحول اور صحت کے مسائل سے محفوظ رکھنے کے لیے درخت لگانا محض ایک انتخاب نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات روز بروز شدت اختیار کر رہے ہیں، اس لیے ہر وہ اقدام جو قدرتی ماحول کو بہتر بنائے، قومی مفاد کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا پانچ کروڑ درخت لگانے کا اعلان ایک امید افزا آغاز ہے۔ اگر اس منصوبے کو سیاسی نعروں سے بالاتر ہو کر قومی مفاد، سائنسی تحقیق، شفافیت، عوامی شمولیت اور مسلسل نگرانی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو پنجاب نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ماحولیاتی بحالی کی ایک کامیاب مثال بن سکتا ہے۔ بنجر زمینوں کو سرسبز جنگلات میں تبدیل کرنا، بڑے شہروں میں شہری جنگلات کا قیام، موٹر ویز اور قومی شاہراہوں کے اطراف وسیع شجرکاری، غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اور عوامی شعور کی بیداری ایسے اقدامات ہیں جو آنے والی نسلوں کو ایک صاف، سرسبز اور محفوظ پاکستان دے سکتے ہیں۔ یہی وہ وڑن ہے جو پائیدار ترقی، بہتر ماحول اور خوشحال معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے، اور یہی اس قومی شجرکاری مہم کی حقیقی کامیابی ہوگی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں